کورونا بحران اور علم کے بیوپاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کے باعث جہاں پوری دنیا میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہیں وہیں مختلف یونیورسٹیوں کے اسکالرز اور ریسرچرز اس وبا سے بچاؤ اور روک تھام کے لئے شب و روز جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان کی تحقیقات سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سمیت دیگراداروں اور حکومتوں کو عوام کی رہنمائی میں کافی حد تک مدد ملی ہے۔ یہ کاوشیں محض کورونا وائرس تک محدود نہیں ہیں، ان سپر ہیروز نے دنیا پر آئے ہر بحران میں انسانیت کو بچانے کی ہر ممکن کی ہے لیکن وطن عزیزمیں صورتحال یکسر مختلف ہے۔

مہذب معاشروں میں جب بھی کسی بحران کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو وہ مل بیٹھ کر نہ صرف اس کا حل نکالتے ہیں بلکہ ضرورت مند طبقے کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں لیکن ہمارے ہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ گزشتہ واقعات کو چھوڑیے کورونا کی ہی مثال لے لیجیے۔ بحران شروع ہوا تو عوام کی ضروریات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے ماسک اور ہینڈ سینٹائزر راتوں رات غائب ہو گئے ہیں۔ منافع خوروں نے بھی کمر کس لی اور گوداموں میں مال جمع شروع کر دیاہے، وہیں تعلیم کے ٹھیکداروں نے اپنا حصہ وصول کرنے میں پیش پیش ہیں۔

موجودہ حالات میں پوری دنیا کے اسکالرز اور ریسرچر کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے نبرد آزما ہیں وہیں پاکستان میں تعلیم کے بیوپاریوں کو طلباء سے فیس وصول کرنے کی فکر لاحق ہے۔ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے باعث صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کی جار رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے واپڈا، سوئی گیس اور دیگر اداروں کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن پاکستا ن کی نامور یونیورسٹیوں کے جانب سے طلبا کوجلد از جلد فیسز جمع کروانے کے احکامات دیے جا رہے ہیں۔

تمام طلباء کے والدین بزنس مین یا سرکاری ملازم نہیں ہیں کہ جن کی آمدن پر اس بحران کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ کچھ والدین اپنے محنت مزدوری سے حاصل ہونے والی کمائی سے اپنے بچوں کو تعلیم دلوا رہے ہیں۔ اس غیر یقینی کی صورتحال میں تعلیمی اداروں کی جانب سے فیسیوں کامطالبہ والدین سمیت طلباء کی زندگیوں میں خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

اِن تمام تعلیمی اداروں سے نام سن گماں ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ طلباء سے فیسوں کی مد میں لی جانے والی رقم سے کورونابحران پر قابو پانے کے لئے کسی ریسرچ پر کام کیا جارہا ہو، یا پھر کوئی شے ایجاد کرنے کی کوشش کی جارہی جس کی مدد سے پاکستانی قوم اس وبائی مرض سے جلد از جلد چھٹکارامل سکے۔ یہ محض ایک مفروضہ ہی ہے جس کا حقائق سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان تعلیمی اداروں کی ایم فل اور پی ایچ ڈی پروڈکٹس کے پاس سوائے ڈگری اور گریڈز کے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبے برائے نام کام کر رہے ہیں۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی پاکستان میں ایک ٹرینڈ بن گیا ہے۔ بیسیوں ایسے افراد کو جانتا ہوں جو گھر پر فارغ تھے اور وقت گزاری کے لئے پی ایچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستانی یونیورسٹیوں کی جانب سے ناقص کارکردگی کا شکوہ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغا م میں کہا ہے کہ پاکستان کی یونیورسٹیاں کہاں ہیں؟ دنیا بھر میں یونیورسٹیاں تحقیقات کے ذریعے حکومتوں کی رہنمائی کر رہی ہیں لیکن ہمارے تعلیمی ادارے خاموش تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں؟ انہوں نے یونیورسٹیوں کے سربراہاں سے اپیل کی ہے کہ اس صورتحال میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔

قوم پر آئے ان مشکل حالات میں پاکستانی یونیورسٹیوں سے مدد کی امید تو نہیں کی جا سکتی کیونکہ تمام تحقیقاتی کام آکسفورڈ اور کیمرج جیسے اداروں کے ذمہ ہیں۔ اس لیے حکمران طبقے سے اپیل ہے کہ طلباء سے فیسز طلب کیے جانے کا نوٹس لیں تاکہ پریشان حال والدین کی مشکلات کم ہو سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *