برنارڈ مالامڈ (Bernard Malamud )کی کہانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خیال اُبھرتا ہے لاکھوں کہانیاں انسانی سوچ کے اندر جنم لیتی ہوں گی اور پھر اس سوچ کو کہانی میں بدلنے کے شوق میں کتنی ہی تحریری صورت اختیار کر لیتی ہوں گی۔ ان لکھی گئی کہانیوں میں سے کئی کو چھپنے کے لئے بھیجے جانے کی ہمت کرلی جاتی ہوگی۔ یہ کہا جا سکتا ہے ان بھیجی ہوئی کہانیوں میں سے چند درجن چھپنے کے لائق سمجھ کر چھاپ دی جاتی ہوں گی۔ یوں اس سارے عمل سے گذرنے کے بعد وہ پڑھنے والوں تک پہنچ پاتی ہوں گی۔ اس سارے قصے میں جن کا ذکر ہوا، ہم سب انہیں کہانی کے نام سے ہی پکار سکتے ہیں۔ وہ کہانیاں ہی کہلائی جائیں گی۔

مگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ کہانی تو وہ ہے جو پڑھنے کے بعد آپ کی یاد میں باقی رہ جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آپ کی یادداشت سے محو ہو کر کسی گوشہ میں کاٹھ کباڑ کے نیچے دبی رہ جائے مگر جب کہانی نامی چیز کا کہیں ذکر ہو تو وہ آپ کے ذہن کے گوشے سے نکل کر سامنے آکھڑی ہو۔ یہ توجیہ پسند آئے بغیر نہیں رہتی۔ اب ایسی کتنی کہانیاں آپ کے حصے میں آئی ہوں گی؟ ہر پڑھنے والا اپنی یادداشت کھنگال کر اندازہ کر سکتا ہے اور اپنا اپنا فیصلہ لے سکتا ہے۔

یہ خیال اردو ادب کے جریدہ “آج “ میں برنارڈ مالامڈ کی کہانیاں پڑھتے پیدا ہوا جو شمارہ نمبر انیس میں چھپی ہیں۔ ان کہانیوں کو راشد مفتی اور اجمل کمال نے اردو روپ میں ڈھالا ہے۔ کرونا نامی وبا کے زمانے میں برنارڈ مالامڈ کی ان نو کہانیوں کے مطالعہ نے اپنے کرداراور ان کی نفسیات کا جیسے اسیر بنا دیا۔ باالخصوص جینے کا مول (The cast of living ) ، ماتم گسار (The Mourners )، نوکرانی کے جوتے (Maid’s Shoes ) اور دراز میں بند آدمی (Man in Drawer) نے یاسیت کی کیفیت کا شکار کردیا۔ (شاید یاسیت انسان کی پیدائش سے اس سے جڑ جاتی ہے)

Bernard Malamud

دراز میں بند آدمی، سابقہ سوویت یونین کے ایک ادیب کی کہانی ہے جو بھڑاس نامی اپنے دل کا رنج اور غصہ نکالنے سے معذور حالت میں جیے جاتا ہے۔ یہ کہانی بہت قریب محسوس ہوئی۔ کہانی میں گوسپودین لیویتانسکی نامی روسی ادیب ایک جگہ کہتا ہے ،

“میں نہیں سمجھتا انقلاب کسی ایک ملک میں کامیاب ہوسکتا ہے جہاں ناول نگاروں ،شاعروں اور ڈرامانگاروں کو اپنی تحریروں کی اشاعت کی اجازت نہ ہو، وہ اپنی درازوں میں ادب کی پوری پوری لائبریریاں چھپائے بیٹھے رہتے ہوں جو کبھی نہ چھپ سکیں اور اگر چھپیں بھی تو اس وقت جب وہ اپنی قبروں میں خاک ہوچکے ہوں۔ اب میں سمجھتا ہوں ریاست کبھی خود کو محفوظ تصور نہیں کرسکتیں ،کبھی نہیں۔” یہ پڑھتے ہوئے یہ فکر لاحق ہونے لگتی ہے کیا ہمارا ناول نگار، شاعر اور ڈرامہ نگار بھی اُن حالات کا شکار تو نہیں ہوتے جا رہے؟ جواب جو بھی ہو لیکن سوال ضرور ابھر آتا ہے۔

باقی کہانیاں بھی انسانی افعال کی ایسی توجیہ کرتی ہیں جس میں پڑھنے والا بعض اوقات ظالم اور مظلوم کا کوئی فرق نہیں جان پاتا۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ ماحول کا جبر ہے جو پیر فرتوت کے مانند انسانی افعال کا مالک بنا بیٹھا ہے۔ انسان بس جیے جانے پر مجبور ہے۔

یہودی والدین کی اولاد امریکی ادیب برنارڈ مالامڈ کی کہانیاں اگر چہ اس کے اپنے گردو پیش کی بات کرتی ہیں مگر کسی طور انہیں ہم اپنے سے جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ محسوساتی زبان میں لکھی کہانیاں اپنا ایسا اثر چھوڑ جاتی ہیں کہ جس کی بنا پر لگتا ہے کہ ایک طویل مدت تک پڑھنے والے کو اپنا شکار بنائے رکھیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *