کیا امن اور ہم آہنگی میں کلچر کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سادہ لفظوں میں کلچر یا ثقافت ایک ایسا پیچیدہ مگر باہمی مربوط مظہر ہے جس میں زبان، علوم و فنون، رویے، مزاج، ادب و آداب حتٰی کہ اختلافات، کشیدگیاں اورسب سے بڑھ کر حیات و کائنات کا مکمل تصور شامل ہوتا ہے۔ عمومی خیال کے برعکس مذہب بھی ثقافت ہی کا ایک جُزو ہوتا ہے۔ گزشتہ دو صدیوں میں کلچر اور اِس کے گُوناگُوں پہلوؤں پر بہت کچھ لِکھا اور سوچا گیا ہے۔ کئی نطریات تخلیق کیے گئے ہیں جِن میں بَین الثقافتی اجنبیت سے لے کر انسانی روّیوں اور ترجیہات کی عالمگیریت اور ثقافتوں کے ٹکراؤ تک سب شامل ہیں۔ باریک نطریاتی الجھنوں سے قطعِ نظر ایک بات بہت واضح ہے کہ جہاں مختلف ثقافتوں اور قومیّتوں میں بہت سا تنوّع اور تفریق پائی جاتی ہے وہیں بہت کچھ ایسا بھی ہے جو مختلف اور ضمنی ثقاتیں اپنی اپنی امتیازی حیثیت کو برقرار رکھنے کے باوجود ایک دوسرے سے مُستعار لیتی ہیں یا لے سکتی ہیں۔

کَروبر اور کلوُکوہن کی رائے میں ”کلچر مستُور اور مزیّن یا خَفی اور جّلی پیٹرنز پر مشتمل ہوتا ہے جس میں معاشرتی رویّے، علامتیں اور مادی آلا ت و فنون سمیت سب کچھ شامل ہوتا ہے۔ تاریخی تسلسل کے نتیجے میں پنپنے والے نطریات، روایات، عقائد اور اقدار ببالخصوص اِس کا حصہ ہوتے ہیں۔ کلچرل یا ثقاتی نظام ایک طرف تو تاریخی اور معاشرتی عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں دوسری طرف مستقبل کے متوقع اور غیر متوقع عمل کی بنیاد بھی“۔ مختصراً مذہب نہیں بلکہ کلچرایک مکمل ضابطہ حیات ہوتا ہے۔ دورِحاضر کے معاشروں میں زندگی اور انسانی وجود کا اظہار گُوناں گُوں طریقوں سے کیا جارہا ہے جس میں تحریر، تقریر، تصاویر، آئیکان، امیجز، متفرق ذرائع ابلاغ اورسوشل میڈیا محض چند طریقہ ہائے کار ہیں۔

ثقافت کی فہم و تفہیم کے لئے کلاسیکل نطریاتی تعریفوں اور تصورات سے بالا تر چند ایک حقائق بہت واضح ہیں کہ : دنیا میں کم و بیش تمام ریاستیں ہی کثیر ثقافتی یا کثیر لسانی و کثیر مذہبی ہیں۔ جزیرہ نما، الگ تھلگ قدیم قبائلی ثقافتوں اور زبانوں کا دَور، جن کا مطالعہ ابتدائی بشریات میں بہت مقبول رہا ہے، اب ختم ہو چکا ہے۔ اقلیت اور اکثریت محض اضافی اصطلاحات ہیں نہ کہ مستقل کیٹیگریز، کسی ایک ملک کی اکثریت دوسرے ملک کی اقلیت ہو سکتی ہے اور اور اِسکے برعکس بھی اور اِسکا تعلق کسی بھی ریاست اور معاشرے کی تاریخ یا پس منظر سے ہو سکتا ہے۔

کمتر یا برتر مرتبہ و منصب غالب گروہ کا نظریاتی بلکہ عسکری رویہ اور خود ساختہ تصور ہے نہ کہ اقلیت یا اکثریت سے منسُوب کوئی مستقل شناخت جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ عالمگیریت، عالمگیر ذرائع رسل ورسائل، تجارتی روابط اور میڈیا نے مختلف ثقافتوں کے اندراوردرمیان تعلقات کے ذرائع اور مواقع میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ مگر انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ متفرق ثقافتوں کے پھیلاؤ اورقبولیت کی بجائے دنیا میں نسلی اور مذہبہبی تعصبات اور باہمی کشمکش کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ بحر حال اِس مضمون میں ہمارا مقصد اپنے موضوع کو جنوبی ایشیا اور کسی حد تک پاکستان تک محدود رکھنا ہے۔ اور کوشش یہ ہے کہ ایسی تمام سماجی اور ثقا فتی قوتوں کی نشاندہی کی جائے جو کہ مختلف مذہبی اور ثقافتی گروہوں میں ہم آہنگی پیدا کر تے ہیں یا کر سکتے ہیں۔

مذہبی تنوع اور سماجی ہم آہنگی

ہر چند کہ سماجی ہم آہنگی کو ایک کلچرل مظہر اور معاملے کے طور پر سمجھنا مشکل ہے لیکن آسان طور پر ہم اِسے ایک ایسی ’انسانی قدر‘ قرار دے سکتے ہیں جو مختلف افراد اور گروہوں کے درمیان نطریاتی، عملی اور جذ باتی مطابقت پیدا کر سکے اورایک جیسے جذبات اوراحساسات کو جنم دے سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایسی اخلاقی قدروں کا سمبندھ ہوتا یا ہو سکتا ہے جو تمام کمیونیٹیز کے درمیان مربوط توازن پیدا کرنے کے کوشش کرتا ہے جو ایک دوسرے پر منفی اور مثبت طریقے سے اثر انداز ہوتی ہوں چاہے وہ مذہبی یا سیاسی نقطہء نظر سے ایک دوسرے کے مخالف ہی کیوں نہ ہو۔

جنوبی ایشیاء میں ماضی اور حال میں بھی مذہبی شناخت ہر حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی کے وسط میں ہندوستان اور پاکستان کے بٹوارے کے دوران مسلمانوں، سکھوں اور ہندوں میں ہولناک کشت و خون کا باعث یا حوالہ بڑی حد تک مذہب ہی تھا۔ اور بعد از تقسیم بھی ہندوستان، پاکستان اور کسی حد تک بنگلہ دیش میں مذہبی فسادات اور دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ ایک طویل ترین سیاسی جدوجہد کے بعد ہندوستان اور پاکستان دو ایسی ریاستیں وجود میں آ ئیں جن میں اکثریتی ہندواوراکثریتی مسلمان مگر سیکولر ریاستوں کا قیام عمل میں لایا جانا تھا یا کم ازکم اُن کے بنیاد کاروں، بالخصوص گاندھی جی، نہرو اور جناح صاحب کے ذہن میں الگ الگ مگر سیکولر ریاست کا ہی خاکہ تھا۔

1971 میں پاکستان سے جُدا ہونے کے بعد بنگلہ دیش میں بھی ملتی جُلتی خواہشات اورکوششوں کا آغاز کیا گیا۔ مگر درج بالا ریاستوں کے معماروں کے وژن کے خلاف تینوں ریاستیں اپنی اپنی مذہبی اور ثقافتی اقلیتوں کو مساوی شہری وانسانی حقوق اور قرارواقعی مذہہبی اورفکرواظہار کی آزادیاں اور تحفظ دینے میں مکمل ناکام رہی ہیں۔ ہندوستان میں کرسچن مشنریوں کو مسیحیت کے پرچار کے الزام میں دھمکیاں دینا یا زدوکوب کرنا، شانتی نگر، گوجرہ اور یُوحناباد (پاکستان) میں مسیحی برادری سے ناروا سُلوک اور تشدد، اور بنگلہ دیش میں ہندوؤں اورچٹاگانگ کے بُدھوں کے لئے سُکڑتا ہوا سماج اور متعصبانہ ریاستی رویہ اِس کی نہایت محدودومخصوص مثالیں ہیں۔

جنوبی ایشیاء میں، مذہب کے بعد کسی حد تک، تاریخ یا تاریخی واقعات کی متفرق تشریحات، زبان اور ثقافت کوبھی شناختی سیاست اور باہمی فاصلہ پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اکثر اوقات ایسے عمل میں مُبالغہ اور داستان طرازی بھی شامل ہوتی ہے اور بعض بعض لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے کسی بھی ثقافتی گروہ یا ضمنی گروہوں کے درمیان کُلی یا جزوی فرق وتفریق کوبڑھا چڑھا کرپیش کرتے ہیں تا کہ اختلافات اور کشاکش کو ہوا دی جاسکے، حالانکہ درپردہ مفادات فقط سیاسی یا معاشی ہی ہو تے ہیں یا پھر علمی و تاریخی غلط فہمی۔ بحر حال اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زیرِبحث خطہ مذہبی یا ثقافتی اور کسی حد تک لسانی تنازعات کا شکاررہا ہے۔

مگر بیّک وقت یہ بھی درست اور توجہ طلب ہے کہ اِسی خطے میں ہی نوع بہ نوع مذہبی، لسانی اور ثقافتی کمیونیٹیز اور گروہ اپنے اشتراک اور تضادات کے ساتھ رہتے اور پھلیتے پھولتے بھی رہے ہیں۔ اور اُن کے ظاہری اختلافات کے باوجود درپردہ یا واضح بہت سے اوصاف مشترک بھی رہے ہیں۔ اور سب اپنے اپنے انداز میں اپنے اپنے رسوم و رواج، مزاج و انداز اور تفریق و امتیّاز کا لطف اٹھاتے رہے ہیں۔

اِسی پس منطر میں ہماری صوفیانہ، روحانی اور فلسفیانہ تحریکیں باہمی امن، ہم آہنگی اور انسانی براببری کی فضا پیدا کرنے میں پیش پیش رہی ہیں۔ اگر امتیازوتفریق کو اُچھالنے کی بجائے مشترکہ پہلوؤں کوزیادہ اُجاگر کیا جائے تو وہ مختلف کمیونیٹیز کے دِلوں ں میں ایک دوسرے کے لئے احترام کے جذبات اُبھارنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ ہرطرح کے لوگوں سے میل ملاقات رکھنے اور مشابہتوں کو سراہنے سے اجنبیت اوربیگانگی کا احساس جاتا رہتا ہے، تحیّر کم ہوتا ہے اور قبولیت کے رحجانات بڑھنے لگتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *