کورونا، پیشوائیت اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام – امتیاز عالم کا مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‎ ‎نئے کرونا وائرس (Covid-19) کی قیامت ہے کہ پھیلتی جاتی ہے۔ گزشتہ چار وائرسوں کے مقابلے میں یہ زیادہ سُرعت انگیز اور تباہ کُن ہے، جو ہر لحظہ ارتقائی عمل میں اپنی اثرانگیزی بڑھاتا جاتا ہے اور ضربوں کے حساب سے زقندیں بھرتا کرہ ارض کے ہر کونے کھدرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اس کے شکار مریض تین ماہ میں ایک لاکھ ہوئے، اگلے ایک لاکھ 12 دنوں میں، تیسرے لاکھ فقط 4 روز میں اور پانچویں لاکھ مریض محض ڈیڑھ روز میں۔ اس کے بعد ماہرین کی گنتی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے ہاتھوں اموات کا تخمینہ امریکہ جیسے دولت مند ملک میں 80 ہزار تک لگایا جا رہا ہے۔

اس سے نبٹنے کے لیے تین طرح کے حکومتی ردّعمل سامنے آئے۔ اوّل چین جہاں اس سے ابتداً غفلت برتی گئی لیکن پھر انتہائی سبک رفتاری اور انتہائی سخت و موثر اقدامات سے نہ صرف اس پہ قابو پا لیا گیا بلکہ اب اس کی دوسری لہر سے نبرد آزما ہونے کی تیاری ہے جبکہ پچھلی لہر کو تھام لیا گیا ہے۔ دوم جنوبی کوریا میں جہاں چین میں پہلا کیس سامنے آنے کے ساتھ ہی حفظِ ماتقدم کے وسیع اقدامات کیے گئے جن میں پوری آبادی کی طبی چھان بین کی گئی اور مرض کو پھیلنے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔ سوم وہ ممالک تھے جنہوں نے اس وبا کو اہمیت نہ دی، کنفیوژن رہا، بروقت اقدامات نہ کیے گئے اور جب وبا سر سے گزر گئی تو ہوش آیا بھی تو ترقی یافتہ ممالک ہونے کے باوجود اس وبا پر قابو پانا محال ہو گیا۔ نتیجتاً آج اٹلی، سپین، برطانیہ اور اب امریکہ اس وبا کی زد میں سب سے آگے ہیں۔ یہاں وبا کو گھاٹا کس میں ہے، فائدہ کس میں ہے کے پیمانوں پر دیکھا جا رہا ہے۔ یعنی کیا لوگوں کو کھلا کام پہ جانے دیا جائے تاکہ سرمایداروں کا کاروبار چلتا رہے اور لاکھوں لوگ مر بھی گئے تو جو کروڈوں بچیں گے وہ ایک گروہی قوتِ مدافعت  (Herd Immunity) پیدا کرلیں گے۔

اس نظریے کے موت کے فرشتوں میں صدر ٹرمپ، برطانوی وزیرآعظم بورس جانسن، آیت اُللہ خامنئ، پاکستانی مُلا اور عمران خان شامل لگتے ہیں۔ اس تیسری قسم میں ایران بھی شامل ہے، جہاں کے ملائوں کی ’’اجتہادی غلطی‘‘ ایرانی عوام پر عذابِ الٰہی بن کر ٹوٹی۔ انہی ممالک میں پاکستان کی حکومت بھی شامل ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے نزدیک کرونا کا ممکنہ حملہ اہم تھا نہ اس سے نبٹنے کی کوئی حکمتِ عملی مارچ کے وسط تک سامنے آئی اور یہ تفتان کے راستے اور وہاں بنائے گئے قرنطینہ میں کسی مناسب انتظام کے بغیر ہزاروں مریض اس جراثیم کو لیے پورے ملک میں پھیل گئے۔ اگر کوئی اس وبا کے سامنے کھڑا ہوا بھی تو سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور وہ ڈاکٹر اور صحت کا عملہ جو جان پر کھیل کر فرضِ مسیحائی ادا کر رہے ہیں۔

بجائے اس کے کہ پاکستانی علما ایرانی ملائوں سے سبق سیکھتے، تبلیغی اجتماع ہوئے اور مساجد میں باجماعت نماز پر اصرار کی جہالت کا کفارہ اب پورا ملک ادا کرنے جا رہا ہے۔ گناہگاروں کی معافی تو کیا ہونی تھی، ناکردہ گناہوں کی سزا پوری قوم بھگتنے جا رہی ہے۔ جامعہ الازہر کے فتوے اور ایران و سعودی عرب کے علاوہ زیادہ تر مسلم ممالک میں تمام عبادت گاہوں اوردرگاہوں میں داخلے پر بندش کے باوجود پاکستان کے ملائوں کی ہٹ دھرمی نے عذابِ الیم کی دعوت دی ہے۔ جس پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے اس کا فقط ایک چوتھائی حصہ غریبوں اور متاثرین کے لیے وقف ہے، باقی لیپا پوتی ہے۔ گندم کی خریداری ہو یا برآمدات کے شعبے کو ادائیگی، یہ پہلے سے ہی بجٹ کا حصہ ہیں۔ فقط تین ہزار روپے سے ایک کروڑ گھرانوں کا گزارہ کہاں ہونے لگا۔

غربت کی لکیر سے نیچے چھ کروڑ لوگوں میں مزید چھ کروڑ کا اضافہ ہونے جا رہا ہے جو اب اس وبا کے ہاتھوں پھیلی بے روزگاری کے باعث 12 کروڑ ہو جائیں گے۔ ڈالر سے روپیہ کا تناسب 170 روپے تک جا پہنچا، مہنگائی آسمانوں سے جا لگی اور شرحِ منافع 11 فیصد پر آگری تو 2 ارب ڈالر کی ہاٹ منی بھاگ نکلی۔ معاشی انحطاط کیا رنگ جمائے گا کسی کو خبر نہیں۔ اب دُنیا کو 1930 سے بڑے ڈپریشن اور 2008 کے مالیاتی بحران سے کہیں زیادہ معاشی و مالیاتی بحران کا سامنا ہے۔ اگلے تین ماہ کے لیے دُنیا کے جی 20 ممالک نے 5 کھرب ڈالرز کا جو پیکج دیا ہے، اس سے شاید اگلے تین ماہ گزارہ ہو جائے اور اس پیشین گوئی کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر نے ابھی آنا ہے، تب تک عالمی مالیاتی نظام کا کیا بنے گا کسی کو اندازہ نہیں۔

پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے وہ اور بھی ہولناک ہوں گے اور اب ان کے لیے قرضوں سے جان خلاصی کے علاوہ چارہ نہیں۔ جو امر انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے، وہ یہ ہے کہ عالمی سرمایہ دار دُنیا اور اس کے حکمرانوں کے سامنے فقط عالمی کارپوریشنز اور بڑے سرمایہ داروں کی منافع خوری مقدم ہے۔ آزاد منڈی، نیو لبرل معاشی حکمت اور ریاست کی کاروبارِ زندگی سے بے دخلی پہ اصرار کرنے والوں کو اگر نجات کا راستہ دکھائی بھی دیا تو ریاست کی مداخلت میں۔ 2008 کے مالیاتی بحران کی طرح امریکی کانگریس نے جس دو کھرب ڈالرز کے پیکج کا اعلان کیا بھی ہے تو بڑے چھوٹے سرمایہ داروں کی بقا کے مفاد میں۔ محنت کشوں اور ذاتی کام کاج کرنے والوں کو بجائے اس کے کہ مالکان ادائیگی کرتے، اس کی ذمہ داری بھی ٹیکس دہندگان پہ عاید کر دی گئی۔ اور جو پیسہ محنت کشوں اور متوسط طبقوں کو ملے گا وہ بھی واپس سرمایہ داروں کی جیبوں میں چلا جائے گا۔ کورونا وائرس کے حملے نے نہ صرف سرمایہ داری نظام کی منافع خوری کو ظاہر کیا ہے، بلکہ انسانی صحت، ماحولیاتی بقا اور سماجی تحفظ سے اس کی مجرمانہ غفلت کو بھی عیاں کر دیا ہے۔ جب صحت، تعلیم، غذائیت، خوراک اور ماحول منڈی کا منافع بخش کاروبار بنا دیا جائے تو پھر نسلِ انسانی کی خیر نہیں۔

کیا وجہ ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے انقلابات اور موجودہ ’’ترقی‘‘ کی ہوش رُبا پیش رفت کے باوجود آج کرونا وائرس و دیگر وبائی امراض کے سامنے انسان بے بس نظر آ رہا ہے۔ ایسے میں ہر مذہب کے پیشوائوں کا ان وبائی عذابوں کو گناہ گاروں کے لیے عذابِ الٰہی قرار دینا (جبکہ بے گناہ بھی اس کا شکار ہوں) دُنیا پر حاوی ایک غیرمنصفانہ منافع خور نظام کی مجرمانہ پردہ پوشی کے ساتھ ساتھ، سائنس کے مقابلے میں جہالت کی ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ انسانی فلاح کے لیے سائنس و تحقیق کو راستہ دیئے بغیر چارہ نہیں۔

‎ جب ساری سائنس و تحقیق کی توجہ ملٹری، انڈسٹریل کمپلیکس کی نت نئے اسلحے کی تباہ کُن دوڑ ہو یا پھر ادویات و دیگر اشیا کی صنعتوں کی منافع خوری کو بڑھانے پہ ہو تو پھر حشرات الارض کے حقِ زندگی، حقِ صحت، حقِ تعلیم، حقِ خوراک اور حقِ نمو اور حقِ روزگار کو بڑی کارپوریشنوں کے مفادات پہ قربان کر دیا جاتا ہے۔ آج نیویارک جیسا عالمی سرمائے کا دارالحکومت اس قابل نہیں کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی ایک چوتھائی تعداد کو طبی سہولیات فراہم کر سکے۔

اس کوروناوائرس کے مہلک اثرات بھی طبقاتی ہیں۔ ناگزیر سماجی خلوت اور گھربندی بھی وہی اپنا سکتے ہیں جن کے گھر میں دانے ہیں۔ غریب اور محنت کش عوام ہی اس کا لقمۂ اجل بننے جا رہے ہیں۔ ریاست صرف حکمران سرمایہ دار طبقوں ہی کی ماں کا کردار ادا کرتی رہے گی۔ تاآنکہ اس نظامِ زر اور منافع کی خاطر انسانوں کے استحصال اور تذلیل کا نظام نہیں بدلتا۔ تب تک وبائیں عوام الناس ہی کے لیے عذاب رہیں گی اور سرمایہ داروں کی منافع خوری کا ایک اور ذریعہ۔

یہ اب پوری انسانیت کی نجات کی جنگ ہے اور کرئہ ارض کو منافع خوروں کی پھیلائی آلودگی سے بچانے کی آخری لڑائی۔ ایک وبا ختم ہو گی تو دوسری آن دبوچے گی۔ آخر کب تک ناگہانی آفتیں اور جاری لوٹ کھسوٹ کی منافع خوری انسانیت کو ہڑپ کرتی رہیں گی۔ اس سے نبٹنے کے لیے ریاستوں کو مضبوط کرنے کے بجائے لوگوں کو مضبوط کرنا ہوگا اور اس کا سامنا قومی یا طبقاتی خودغرضی سے نہیں پوری انسانیت کی بقا اور نجات کے مفاد میں کیا جا سکتا ہے۔

‎اٹھو، وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی

‎دوڑو، زمانہ چال قیامت کی چل گیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امتیاز عالم

بشکریہ: روزنامہ جنگ

imtiaz-alam has 10 posts and counting.See all posts by imtiaz-alam

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *