کورونا وائرس: نہ جنوں رہا، نہ پری رہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چلی سمتِ غیب سے اک ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا

مگر ایک شاخِ نہالِ غم جسے دل کہیں وہ ہری رہی

یہ وبا نہیں خدا کا قہر ہے۔

یہ آفت ہے۔

سزا ہے۔ آزمائش ہے۔

ارے نہیں یہ دنیا کے خاتمے کا اعلان ہے

ہمارے گناہوں کا نتیجہ۔

ہمارے اعمال کی سختی۔

توبہ یہ قیامت ٹلتی دکھائی نہیں دیتی، ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔

یہ تو ابتدا ہے۔

مختلف اندازے۔ قیاس آرائیاں۔ سوشل میڈیا پر نت نئے قیافے۔

خوف کے بھاری بھرکم کمبل تلے چھپی ہوئی تھر تھر کانپتی ہوئی آج کی دنیا وبا سے پہلے کی دنیا سے کتنی مختلف دکھائی دیتی ہے۔

وبا جس نے برپا ہو کر پوری زمین پر لرزہ طاری کر دیا ہے۔

دنیا کے بہترین نظاموں، سائنسی ترقیوں، اور جدید ٹیکنالوجی کا دم نکال دیا ہے

عجب طرز ِ تباہی کہ نہ زمین کا فرش لپیٹنے کی نوبت آئی۔ ۔ نہ طوفان نوح جیسا کوئی طوفان بلا خیز۔ نہ ہی آسمان سے پتھر برسائے گئے، نہ آگ کے گولے۔

صرف ایک نادیدہ وائرس۔ جو اپنے اندر جان بھی نہیں رکھتا۔ دوسروں کے وجود میں جا کر بقا حاصل کرتا ہے۔

ہے ناں عین مین وہی کہانی۔ نمرود کے مچھر والی؟

جس نے آج کی ترقی یافتہ اقوام کی چیخیں نکلوا دیں ہیں۔

اربوں ڈالروں سے چلتی سائنسی تجربہ گاہیں منہ کھولے حیرت سے دیکھتی ہیں۔

ستاروں اور سیاروں کا کھوج لگانے والی خلائی رصد گاہیں سکتے میں ہیں۔

چاند ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے۔ خدا کی مخفی کائناتوں کی تسخیر کے دعوے دار

دم سادھے مٹی کے مادھو بنے دیکھتے ہیں، اس تباہی کو جس سے کرہِ ٗ ارض کا انسان اجتماعی طور پر دوچار ہے۔

دنیا کی بڑی طاقتوں اور زمین کے خداؤں کی اک مائیکروسکوپک وائرس کے ہاتھوں اس قدر پٹائی

اگر اپنی جگہ المیہ ہے تو سبق آموز بھی ہے۔

جس نے خدا کی عظمت کبریائی اور بڑائی کچھ یوں ثابت کر دی ہے

کہ مہذب اقوام اس پرانے خدا کی بری طرح ضرورت محسوس کرنے لگیں ہیں، جسے یہ متروک قرار دے چکی تھیں۔

اور اس کی ضرورت سے انکار لکھ چکی تھیں۔

خدا کو اپنے معاشروں سے دیس نکالا دے کر انہوں نے سائنس ٹیکنالوجی اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول کو خدا بنا لیا تھا۔

انہیں سچ مچ کا خدا نہیں چاہیے تھا۔ چنانچہ یہ بے خدا لوگ اس انکار میں اتنا آگے بڑھ چکے تھے کہ رکنے پر تیار ہی نہ تھے۔

مگر انہیں اب نہ صرف رکنا پڑگیا ہے، بلکہ تنہائی کو وائرس کا واحد علاج تجویز کر کے انہیں یہ سوچنے پر بھی مجبور ہو نا پڑا ہے کہ کہیں کوئی خدا تھا۔ اور اس کا اپنے بندے سے سب سے بڑا مطالبہ یہ تھاکہ زمین پر فساد نہ پھیلانا اور ابنِ آدم کی تکریم کرنا۔

مگر جس کا ہر گز خیال نہ رکھا گیا۔ اور خدائی قوانین کو پاؤں تلے روندتے ہوئے بے خدا معاشروں کی تشکیل کر دی گئی

جس میں طاقت ور کو خدا کا درجہ دے دیا گیا۔ طاقت ور کو جینے کے سارے حقوق اورکم زوروں سے جینے کا حق چھین لیا گیا۔ یہ بے اصولی اصول بنا کر دنیا پر تھوپ دی گئی مگر وبا نے برپا ہو کرپھر وہی مطالبہ دہرایا دیا۔

ابن ِ آدم کی تکریم کا ازلی مطالبہ

خدا کی اول و آخر کبریائی اور عظمت کا اعلان۔

عبادت گاہوں کا تمسخر اڑانے اور خدا کی مخلوق کو کیڑے مکوڑوں کے مانند پاؤں تلے روندنے والوں کے لئے شاید یہی ہے وہ لہحہِٗ امتحان جو ایمانوں ایقانوں اور عقائد کی نئے سرے سے چھان پھٹک کا مطالبہ کر رہا ہے۔

مادیت پرستی کے کھلے مظاہر اور ان کی پوجا پر نئی ڈھنگ سے سوچ بچار کا تقاضا۔

شرفِ انسانیت کا نیا مطالعہ۔

نیو ورلڈ آرڈر کا بت ٹوٹنے کا اعلان۔

سرمایہ دارانہ نظام، کارپوریٹ کلچر اور ملٹی نیشنل کے خداؤں کی اندھی تقلید کے دورانیئے میں اک لمحۂِ سکوت۔

اے اکیسویں صدی کے انسان۔ ٹھہر۔ ذرا دم لے۔

کہاں بھاگا جا رہا ہے۔ تو؟

یہ چوہا دوڑ کیوں؟ کس لئے؟ کہاں ہے تیری منزل؟ کس کی تلاش میں سرگرداں ہے تو؟

کیا تو زمین پر اسی لئے بھیجا گیا تھا؟

بارِ امانت اسی لئے اٹھایا تھا تو نے؟

وہ جسے پہاڑوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا۔ اے احمق تو نے اٹھا لیا اور پھر یہ بھول گیا تیری ذمہ داری کیا ہے۔

اے ایٹم بموں، ٹینکوں، توپوں اور جنگی اسلحے ڈھالنے میں جتے ہوئے انسان۔

تو اپنے جیسے انسانوں کی تباہی کے سامان اکٹھا کرنے میں اتنی دور نکل گیا کہ یہ بھی بھول گیا

تیرا اپنے رب سے وعدہ کیا تھا؟

ارے اک ننھے سے وائرس نے تیری اندھی طاقت کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ تجھے چیتھڑا بنا کر زمین پر گرا دیا۔

یوں کہ اب تیری حالت قابل ِ رحم دکھائی دیتی ہے۔

موت سے بھاگا بھاگا پھرتا ہے تو۔ خود اپنے آپ سے چھپ رہا ہے تو۔

قیدِ تنہائی۔ مکمل محصوری۔ مکمل پسپائی۔

کیا یہی تھی تیری طاقتوری جس کے بل بوتے پر تو زمین پر اکڑ اکڑ کر چلتا تھا

طاقت کے زعم میں کمزور اقوام کی کھال کھینچا کرتا تھا؟

افسوس آج تجھے ہاتھ ملنے کی بھی فرصت نہیں۔

تو نے کم زوروں کے لہو میں لتھڑے ہاتھوں پر دستانے چڑھا کر خود کو وبا سے تو محفوظ کرنے کا بندوبست کر لیا۔

مگر کیا اس طرح وہ خونِ ناحق چھپ سکتا ہے جسے گزشتہ اور حالیہ صدی میں بے دریغ بہایا گیا؟

کرونا کی آفت نے برپا ہو کر انسانیت کے لہو لہو چہرے سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

مغرب سے لے کر مشرق کی پہنائیوں تک۔ اور شمال سے لے کر جنوب کی وسعتوں تک۔

انسان بلا تفریق و امتیاز ایک ہی اجتماعی ابتلا کا شکار ہو چکا ہے۔

خوف کی دبیز چادر میں سر تا پا لپٹا انسان آج خود سے خوف کھا رہا ہے۔

اپنے سائے سے بھاگ رہا ہے۔ وبا اس کے تعاقب میں نکلی ہوئی ہے، اور یہ محفلوں کا دلدادہ آج خود اختیار کردہ تنہائی میں عافیت محسوس کر رہا ہے۔

سڑکیں ویران، شہر سنسان، عیش گاہیں اور طرب خانے خالی، دنیا کے مصروف ترین شہروں میں ہوکا عالم۔

آدم بو آدم بو پکارتے ایک دکھائی نہ دینے والے وائرس نے پوری دنیا اوندھا کر رکھ دی ہے۔

مہذب کہلائی جانے والی فرسٹ ورلڈ کی سائنسی، معاشی، اقتصادی، سماجی برتر ی اور اونچائی کی جان نکال کر رکھ دی ہے۔

یوں کہ آج سارے مادی نظاموں اور ان کے سب سے بڑے مرکز وال سٹریٹ کا تختہ ہو گیا۔

۔ لمحوں، سیکنڈوں اور منٹوں کے حساب سے دنیا بھر کی اکانومی کا حساب کتاب رکھنے والے سارے یہودی سود خور کان لپیٹ کر پڑ رہے۔

اسلحے کی فیکٹریاں بند ہو گئیں۔ بموں کی ترسیل رک گئی۔

کون برتر۔ کون اعلی، کون کم تر کون بدتر۔ فرسٹ اور تھرلڈ ورلڈ تاریخ میں پہلی دفعہ کمتری اور برتری کے اعداد و شمار سے باہر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

اور تو اور فرسٹ ورلڈ کا اپنے تئیں عظیم الشان سمجھا جا نے والا ہیلتھ کیئر نظام بھی گھٹنے ٹیکے وائرس سے پناہ کی بھیک مانگ رہا ہے۔

اور رہی ازلی محروم، مہجور اور محکوم تیسری دنیا تو وہ چونکہ ابھی تک خدا کے مطالبے سے پوری طرح دستبردار نہ ہوئی تھی۔

اسے بم دھماکوں، آسمانی آفات، بھوک، گونگوں مصائب اور آئی ایم ایف، سے لے کر نا اہل اور کرپٹ حکمرانوں جیسی بلاؤں سے نمٹنے کے لئے خدا کی اشد ضرورت تھی۔

لہذا اس نازک موقع پر اس نے نہایت سہولت سے دھو مانجھ کر، اپنا خدا کیسے سے نکال لیا ہے اور دن رات اس کے سامنے توبہ استغفار کرتے ہوئے اپنے کتھارسس کا سامان مہیا کر رہی ہے۔

جو خدا کے باغی تھے۔ انکارِ خدا کی دلیل رکھتے تھے۔ مذہب اور خدا کو چھوٹے، کمزور طبقات اور پسماندہ بے چاروں کی ضرورت سمجھ کر ان کے جہل کا مذاق اڑایا کرتے تھے

آج ان کی زبانیں گنگ ہیں۔

چوری چھپے وہ رب سے رابطے کے جتن میں ہیں۔ جو پکار پکار کہتا ہے۔

اے میرے بندے تو میری طرف ایک قدم چل کر آ

میں تیری جانب دوڑ کر آؤں گا۔

ارے اگر تو میری تلاش میں نکل کھڑا ہے تو جان لے میں تجھ سے پہلے تیری تلاش میں نکلا ہوا تھا۔

آ مجھ سے جڑ جا۔ مجھ سے جڑے گا تو تیرے دل سے ہر خوف ہر غم نکل جائے گا۔

کہ میری یاد ہی تجھے ہر ابتلا سے آزاد کر سکتی ہے۔

چنانچہ اے قیدِ تنہائی میں غمگین بیٹھے انسان، اپنے اپنے عقیدے اور ایمان کی گٹھڑی باندہ اور اٹھا اپنے کاندھے پر اور ڈھیر کر دے اسے

اپنے رب کے سامنے اور ہو جا آزاد۔

میری ناقص رائے میں یہ وائرس بظاہرجتنا بھی جان لیوا اور تباہ کن ہو۔ اس سے کہیں زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے اگر انسان فکر کا راستہ اپنائے اور اپنے محاسبے پر آمادہ ہو جائے تو۔

مجھے یقین ہے، اگر ہم نے یہ راستہ چنا تو وبا کے بعد ہمیں یہ وائرس انسانیت کا دشمن کم اور دوست زیادہ محسوس ہو گا۔

آج مغربی معاشروں میں خدا کی ضرورت کا بڑھتا ہوا احساس۔

عبادات کی طرف رجوع، اپنے اپنے گریبانوں پر گاہے گاہے اٹھتی نظر، یہ بتاتی ہے۔

کہ آئندہ آنے والے دنوں میں یہ دنیا کم از کم اتنی تبدیل ضرور ہو جائے گی کہ چوہا دوڑ میں شامل ہونے سے پہلے

اک لحطے کو ٹھٹھک کر سوچے گی ضرور، یہ تیز رفتاری کیوں، اور آخر کب تک؟

مقصدِ انسان کیا دنیا کی مشینی چال کا اندھا کل پرزہ بننا ہی ٹھہر ہے ا، یا پھر اس سے ماورا بھی کچھ ہے، جس کا ادراک ضروری ہے۔

کہ خدشہ ہے سمتِ غیب سے چلنے والی یہ ہوا جس نے ظہور کے سارے چمن جلا کر راکھ کر دیے ہیں، کہیں اس شاخِ نہالِ غم کو بھی جلاکر راکھ نہ کر ڈالے۔ جسے دل کہتے ہیں۔

یاد رہے یہی ہے وہ دل جس پر بارِ امانت رکھا ہے۔

وہ جسے پہاڑوں، سمندروں اور دریاؤں نے اٹھانے سے انکار کر دیا۔

مگر حضرتِ انسان کی شوخی اسے لے ڈوبی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *