کرونا اور خود کو بھولی انسانیت
آج کون سا ملک ہے جو کرونا کا شکار نہیں۔ یہ عالمی وبا ایک بھیانک اور ہولناک تباہی بن کر پھوٹ پڑی ہے۔ سپر پاورز، ترقی پزیر اور غربت کی لاٖین سے بھی نیچے کے ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں۔ طاقتیں بے بس ہیں اور صرف ایک ہی سپر طاقت کے سامنے دعاگو ہیں جسے بھلاے ہوے تھے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے انسانیت کے نام پر بہت سے ڈراونے، کریہہ اور مکروہ مقاصد کے پیش نظر دل ٹوٹے، گھرانے برباد ہوٖے اور انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایسے حادثات سامنے آے کہ جن کو پڑھ اور دیکھ کر دل ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔
بچوں کی شامت اعمال، ان کے اغوا، جسمانی تشدداور جنسی استحصال، معصوم بچیوں کی بھیڑیوں کے ہاتھوں پامالی، مذہبی و لسانی تفرقات اور گروہی تعصبات، استعماریت کے نام پر ترقی یافتہ ممالک کی غریب ممالک پر حکمرانی، دولت اور وسایل کی بنا پر من مانیاں، کہیں برما میں جلتے بوڑھے جسم، شناخت ڈھونڈتے کمزور اور ناتواں ذہن، جو نہ جانے کتنے اونچے آدرشوں کی بنت اپنے اندر سموے ہوے تھے نہ جانے کتنے دیے تھے جو روشنی لیے ہوٖے تھے سب بھجا دیے گیا اور کوی پوچھنے والا نہ تھا۔
کہیں فلسطین کی کربناک آہیں اور کہیں کشمیر کی قید۔ سچ بات تو یہ ہے کہ کرونا نے لوگوں کو خدا یاد کروا دیا۔ نفسا نفسی، بھاگم بھاگ، ایک سے آگے نکلنے کی خواہش، دوسروں کو کچلنے کی تگ و دومیں افراد اپنی ہستی اور اپنے اندر بستی انسانیت کو بھلاے بیٹھے تھے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ کیا امیر اور کیا غریب، بڑے ممالک سے چھوٹے ممالک تک صرف ایک ہی تگ و دو میں ہیں کہ اس وبا سے کیسے نمٹا جاے کیسے بچا جاے؟
دعا اور صرف دعا : اس خالق کاینات سے جو اپنا آپ دکھاتی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ میں ہوں۔ حضرت آدم علیہ اسلام کے جنت سے زمین پر اتارے جانے سے لے کر، فرعون، نمرود کی تباہی اور تمام طاقتوں کا قلع قمع کرنے تک صرف ایک ہی ذات جو قادر و مطلق ہے جو بہتر جانتی ہے اسی ذت سے دعا ہے کہ عالمی سطح پر تباہی لانے والی اس وبا سے نجات دلادے وہ چاہے تو سب کر سکتا ہے۔ صرف دعاہے جو انسانیت کو بچا سکتی ہے اللہ اپنا کرم فرما۔ ہماری توبہ قبول فرما (آمین)


