قید خانے کے خواب بھی قیدی ہوتے ہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دنوں لاک ڈاون اور Self Quarantine کی اس صورتحال میں سوچ رہا تھا کہ روز انہی دیواروں، چھتوں، گھروں، لوگوں، میں رہ کر کیسا لگتا ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے انسان نظربند House arrest ہو۔ احساس ہوا کہ ایک انسان کے لئے یہ چاردیواری کتنی کم ہے۔ اس اتنے سارے جہاں میں اگر کسی انسان کو اتنی سی جگہ ملے تو وہ قیدی ہے۔ اور جو صدیوں سے اس چاردیواری کے نام نہاد تقدس کا پہرا دے رہی ہیں آج یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ کروڑوں قید ہیں۔

جن انسانوں کو پورے جہان میں اتنی سی جگہ ملی وہ کیسے محسوس کرتی ہوں گی؟ یہ قید پاکستان بشمول سندھ کی عورت پر اس نام نہاد عزت، چاردیواری کے تقدس، غیرت، کی عنایت ہے۔ کاش آپ عورت کو عزت، غیرت، تقدس نا سمجھیں، اسے انسان سمجھیں۔ آپ اپنی عزت کی تجوری کی چابیاں عورت سے واپس لے کر اپنے پاس رکھیں۔ آپ کی عزت آپ کے پاس اچھی لگتی ہے۔

اس لاک ڈاون میں کچھ دوستوں کی تصاویر دیکھ رہا تھا جن میں کوئی کوکنگ کر رہا ہے، کوئی کپڑے دھو رہا ہے، کوئی گھر کی صفائی کر رہا ہے، تو کوئی بیوی کا سر دبا رہا ہے تو کوئی چائے بنا کر بیوی کو پلا رہا ہے۔ یہ تصاویر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، جو لوگ اپنی نوکری، کاروباری زندگی کے بعد اپنی گھر کی عورتوں کے ساتھ گھر کے کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں، یقینا وہ گھر مثل جنت ہوں گے۔ اس گھر میں دکھ بھی آنے سے پہلے کئی بار سوچتے ہوں گے۔ اگر دکھ آتے بھی ہوں گے تو شرمسار لگتے ہوں گے۔ کیونکہ اس گھر کے افراد ایک دوسرے سے دکھ بھی بانٹتے ہوں گے۔

میں سوچتا ہوں عظیم ہیں وہ رشتے جو ہمیں صبح نیند سے اٹھا تے ہیں، کپڑے سامان مہیا کر کے تیار کر کے منہ میں ناشتے کا نوالا بھی ڈالتے ہیں۔ اس وقت بھی جب ہم محتاح ہوتے ہیں تو اس وقت تک بھی جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں۔

میری امی کو پوری زندگی گول روٹی نہیں بنانا آئی، لیکن کیا ہی عجیب لذت ہے اس کے ہاتھ میں کہ اس کی بنائی روٹی کھانے کے لئے آج بھی ترستا ہوں۔ امی ضعیف ہوگئیں ہیں اکثر بیمار رہتی ہیں تو نہیں کہتا۔ امی نے جب گھر کا کام کرنا چھوڑا تو بہنوں نے سنبھالا، ہم رہے آوارہ رات دیر سے گھر آئیں تب بھی بہن انتظار میں بیٹھی رہتی ہے کہ بھائی آئے تو اسے کھانا دوں۔ کافی دفعہ منع بھی کیا لیکن مانتی نہیں۔ کھانا گرم کرنے کے لئے نہیں کہتا صرف اس لیے کہ اسے تکلیف نا ہو۔ اس لیے ٹھنڈا کھانا کھانے کی عادت پڑ چکی ہے۔

کچھ عرصہ قبل پریکٹس اسٹارٹ کی تو خیرپور میں رہائش بھی اختیار کر لی۔ ہوٹل کے کھانے سے طبعیت خراب ہو رہی تھی تو سوچا کہ اپنی ہانڈی کروں گا۔ جس جگہ میں رہائش اختیار کی ہے اس میں گیس لگی تھی، برتن گھر سے لے آیا اور سامان پورا کیا۔ ایک دن صبح ناشتہ بنانے کے لئے آٹا گوندنا شروع کیا۔ ایک اندازے کے مطابق ایک پراٹھے اور دو روٹیوں کا آٹا پلیٹ میں ڈالا جب پانی ڈالا تو وہ زیادہ ڈال گیا، آٹے کو خشک کرنے کے لئے زیادہ سوکھا آٹا شامل کرتا گیا یوں جب آٹا تیار ہوگیا تو وہ پانچ روٹیوں کا تھا۔

کافی ٹائم گزر چکا تھا روٹی لگانے کا ٹائم آیا کافی دیر کوشش کی لیکن روٹی گول نہیں ہوئی۔ اس کو بھی خشک آٹا لگایا تو وہ بھی جگہ جگہ سے ٹوٹ گئی۔ جب وہ روٹی توے پر ڈالی تو توا چھوٹا اور روٹی بڑی تھی اور توے کے اطراف لٹکنے لگی۔ کوشش کر کہ اسے پکایا کہیں سے پتلی تو کہیں سے موٹی کہیں سے کچی تو کہیں سے ٹوٹی ہوئی روٹیاں بنا لیں۔ اب انڈے کا وقت آیا انڈہ ہاف فرائی پسند ہے ہاف فرائی انڈہ کب آملیٹ بن گیا پتا ہی نہیں چلا۔ ناشتہ تیار تھا آگے رکھ کر سوچ رہا تھا کہ میں نے پوری زندگی میں ایک دفعہ بھی کھانے پر جھگڑا نہیں کیا، جو بھی ملا کھا لیا لیکن میں یقین سے کہتا ہوں اگر وہی ناشتہ مجھے گھر میں ملتا تو میں نا کھاتا۔ وہ روٹی کھانے کے قابل ہی نہیں تھی۔

کبھی کبھی ایسی خبریں سن کر دل ٹوٹ جاتا ہے کہ روٹھی ٹھنڈی دینے پر بھائی نے بہن پر تشدد کیا، شوہر نے بیوی کو مار ڈالا وغیرہ۔ کیا ہی برے لوگ ہیں جو گھر کی عظیم عورتوں کو نوکرانی سمجھتے ہیں یہ لہجہ تو غلام کے ساتھ بھی ٹھیک نہیں آپ اپنے رویے میں جلاد ہیں اس پر غور کریں۔ گھریلو تشدد domestic violence کے واقعات اور پدری جبر نام نہاد غیرت اور عزت کے فلسفے سن کر لگتا ہے کہ ہماری عورت اس چاردیواری میں نظربند ہے۔ یہ عورت ہونے کی سزا کاٹ رہی ہے۔ عورت کو ہم نے غلام سمجھا کبھی اس کے جذبات احساسات کی قدر نہیں کی۔ ہم نے گھر کے گرد بڑی دیواریں کھڑی کر کہ اسے قیدی بنا کر رکھا ہے۔ اور وہ خود کو قیدی ہی تسلیم کرتی ہوگی۔ میں نے ایسی ایک عورت کے جذبات پر سندھی میں کچھ لکھا تھا کوشش کرتا ہوں کہ اردو ترجمہ کروں!

”گھر کے قید خانے سے، قیدی نظریں

اڑنے کے خواب دیکھ کر

کسی دریچے سے آزاد فضا میں اڑان بھرتی ہیں۔

زنجیر کھنچتی ہے

اڑان ختم ہوتی ہے

واپس آکر گھر کے قیدخانے کی سلاخوں سے،

ٹکرا کر چور چور ہو کر بکھر جاتی ہیں۔

اپنے نینوں کو یہ کہہ کر سلاتی ہوں کہ،

قیدخانے کے خواب بھی قیدی ہوتے ہیں۔

سلاخوں کے گھیرے میں ان کا بسیرا ہوتا ہے

بہار کی خوشبؤ اور ساون کے موسم کی بجلی

جب گرجتی ہے دل ٹوٹ جاتا ہے۔

ان سلاخوں سے بجلی کی گرج اور روشنی ہی تو آتی ہے، بوندوں سے محروم رہتی ہوں۔

اس گھن گرج چمک میں کانوں کو ہاتھوں سے بند کر لیتی ہوں۔

دل کہتا ہے ان بوندوں میں ہرنی کی طرح ٹہلوں

لیکن! یہ سوچ کر خاموش ہوجاتی ہوں

قیدی ہرنی کی خواہشیں بھی قیدی ہوتی ہیں۔

ٹپ ٹپ کی آواز آتی ہے

آنکھوں کے دریچوں سے آنسو

چھلانگیں لگا کر خودکشی کر لیتے ہیں

کچھ کو ہاتھ پہ گرا کر بچا لیتی ہوں

ان کو آنکھوں کے قریب لا کر کہتی ہوں

قید خانے کے آنسو بھی قیدی ہوتے ہیں۔

میں اپنے جوبن کو جوش دلا کر

آنسوؤں کو قہقہوں میں گم کر دیتی ہوں

کیسے سمجھاوں؟

قید خانے کے قہقہے بھی قیدی ہوتے ہیں۔

میرے قید خانے کے باہر،

پیاسی مٹی پر برسات کی بوندیں گرتی ہیں

اس مٹی سے سوندہی خوشبؤ اڑ کر

میرے قیدخانے میں آتی ہے

میرے احساسات سے ٹکرا کر

مجھے معطر کر دیتی ہے

مجھے کہتی ہے

او قیدی عورت!

قیدخانے کی خوشبو بھی قیدی ہوتی ہے نا؟

میں آہوں سے زندان کی خاموش دیواروں میں

دراڑیں ڈال دیتی ہوں

دیواروں سے آواز آتی ہے

قید خانیں کی آہیں بھی قیدی ہوتی ہیں ”

گھر کے قید خانے میں نظربند جذبے آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ کبھی اپنے پدری روایات کو باہر پھینک کر گھرآئیں اپنی بیوی، اپنی بہن، اپنی ماں، اپنے گھر کی عورت کو اتنا حق دیں جتنا اس پر آپ اپنا حق جتاتے ہیں۔ یقین مانیں میں عورتوں کے جذبات سے واقف ہوں۔ عورت بھوکی بھی آپ کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہے اور آپ کا گھر جنت بن جائے گا۔ کبھی گھر آئیں نا عورت کھانا پکا رہی ہو تو آپ برتن دھو دیں، وہ پراٹھا ڈالے، آپ چائے بنا لیں، اس میں برا کیا ہے؟ عورت کسی صورت آپ کی نوکرانی نہیں۔ اسے پیار توجہ کی ضرورت ہے۔ آپ کے پدری روایات کے خاتمے کے انتظار میں ہے۔ وہ آپ کی عزت غیرت نہیں آپ کے جیسی انسان ہے۔

اس معاشرے میں عورت کی سے لے کر ہر چیز پر مرضی تھوپی جاتی ہے۔ اسے کس سے شادی کرنی ہے حتی کہ کھانے، پینے، پہننے کا فیصلہ بھی وہ خود نہیں کر سکتی، میں جانتا ہوں کہ اس ملک کی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے لیکن ان کی فرمائشیں بھی چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں ان میں کوئی میراث نہیں ہوتی۔

عام طور پر دیکھا جائے کہ مرد عورت میں فرق کی زیادہ ذمہ دار ہماری عورت بھی ہے۔ عورت کو پدری معاشرے نے اس قدر مفلوج کردیا ہے کہ وہ خود بھی خوشی سے اس قیدخانے میں مزید قیدی داخل کر رہی ہے۔ اس معاشرے کی اکثر مائیں بیٹے کو بیٹی پر برتری دے کر پدرسری معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں۔ مرد سب سے پہلے اپنی بہن پر خود کو برتر محسوس کرتا ہے آہستہ آہستہ وہ اس سماجی روایتوں میں ڈھل کر ایک روایتی مرد بن جاتا ہے۔ عام طور پر ایسے رویے ہمارے گھروں سے جنم لیتے ہیں۔

جس گھر کا مرد اپنی بیوی کو اہمیت دیتا ہے۔ گھر کے فیصلوں میں اسے شامل رکھتا ہے، اپنی پسند نا پسند کا حق دیتا ہے، حسب ضرورت آزادی سے سرشار کرتا ہو۔ اپنے گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتا ہو اسے یہ معاشرہ ”رن مرید“ کہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی پیر کی مریدی سے رن مریدی بہتر ہے۔ کیونکہ کوئی مرشد کامل ملے نا ملے، اپنی بیوی کی مریدی میں گھر جنت بن جاتا ہے۔ رن مریدی کو عام طور پر غلط تاثر دیا جاتا ہے۔ لیکن رن مریدی کا مطلب ہے، بیوی کو صاحب اختیار کرنا، اور اس کا احترام کرنا۔

سنسار کا سب کاروبار اعتبار پر مشتمل ہے۔ ہماری تکالیف کا سب سے بڑا سبب ہماری عورت کا ناکارہ ہونا ہے۔ حال ہی میں ایک رپورٹ کے مطابق میڈیکل تعلیم پانے والی پچاس فیصد عورتیں شادی کے بعد پریکٹس چھوڑ کر گھر بیٹھ جاتی ہیں یہ ہمارا المیہ ہے کہ پڑہی لکھی عورت بھی ناکارہ ہوجاتی ہے اپنی صلاحیتیں صرف گول روٹی بچے اور شوہر پالنے پر صرف کردیتی ہے حالانکہ اسے اس ملک کی ترقی میں بھی حصہ ڈالنا چاہیے۔ رہی محروم و محکوم عورت تو اس کو تو زندگی کبھی موقع ہی نہیں دیتی۔ عورت کو خود کفالت سے روکنا اس سماج کو مفلوج کرنا ہے۔ خدانخواستہ جب شوہر کسی قدرتی آفت یا حادثے کا شکار ہوجائے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ بیوی کا خودکفیل ہونا کتنی بڑی نعمت ہے۔

ہمیں عورت کو برابر کا انسان سمجھ کر اسے تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا پڑے گا۔ ہمیں اس پر اعتماد کرنا ہوگا اسے اڑنے کا موقع فراہم کرنا ہوگا۔ گھر کی چاردیواری اس کی محافظ ضرور بنے لیکن اس کے لئے قید خانہ نا بنا دی جائے۔ ان بیٹیوں کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی صلاحیت کو اجاگر کریں۔ اپنی آزاد زندگی خودکفالت والی زندگی گزاریں۔ یقین جانیں ہماری بیٹی کے خودکفیل بننے سے کبھی آپ سر شرم سے نہیں جھکے گا بلکہ آپ کا سر فخر سے اوچا ہوگا جب اس معاشرے اور اس کے سسرال میں اس کی عزت مان اور مرتبہ دیکھیں گے۔ اپنی عورت کا ہر قدم پر ساتھ دیں، اسے آپ کی محبت اور آپ کی توجہ کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *