وینٹی لیڑ کی جگہ ٹینک اور کورونا کے لئے بین البراعظمی میزائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو دن قبل ملک بھر میں ڈاکٹرز، نرس اور پیرامیڈکل سٹاف کو خراج تحسین پیش گیا۔ مختلف شعبے اور طبقہ فکر والوں نے اپنے انداز سے سلامی پیش اور کرنی بھی چاہے کیونکہ ہمارے ڈاکٹرز، نرس پیرامیڈکل سٹاف اس جنگ کی اول صف میں کھڑے ہے اور جنگ ایسی لڑ رہے کہ دوسرے کو مار نہیں رہے بلکہ بچا رہے ہیں وہ اپنی جان اور زندگی دوا پر لگا کر۔ بے شک سرخ سلام ہے ان مسیحاوں کو۔

ان مسیحاوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں پولیس والے اپنے بندوق اوپر نیچے کر کے ایک ہسپتال میں سلامی پیش کررہے تھے غالباً ویڈیو کوئٹہ کے ہسپتال کی تھی۔ ہسپتال میں نہ تو وینٹی لیٹر اور نہ ہی ڈاکٹروں کے لئے کورونا وائرس کے مریض کا علاج کرنے والا کٹ موجود ہے جس کے نتجے میں دو ڈاکٹروں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پورے بلوچستان میں صرف 49 وینٹی لیٹرز ہے جو کم و بیش بلوچستان میں موجود چھاونیوں سے کم ہے وہ بندوق، ٹینک، میزائل وغیرہ جن کا ذخیرہ ہمارے پاس آنے والے سو سال کے بعد کے دشمن کے آدمی مارنے کا تو پڑا ہے لیکن ڈاکٹروں کے لئے کٹ نہیں جو کم سے کم خود کو اس وائرس سے بچا کر دوسرے کے لیے مقابلہ کرے۔

ہماری ترجیحات میں فرق ہے۔ جب سے یہ ملک بنا ہے تب سے آج دن تک ہمارا دفاعی بجٹ صحت کے بجٹ سے زیادہ ہے کیونکہ ہمیں ستر سال پہلے بھی ہمارے ہمسایہ ممالک سے خطرہ تھا آج بھی ہے کل بھی ہوگا کیونکہ ہمیں جنگی طیارہ چاہیے، اسٹیتھوسکوپ نہیں، ہم ایٹم بم بنانے کے لئے گھاس کھا سکتے ہیں لیکن ہم ہسپتال نہیں بنا سکتے، ہم وینٹی لیٹر نہیں لے سکے جبکہ ہم بیمار ہی اس گھاس کے کھانے کے بعد ہوئے ہیں۔ تو بے شک لوگ اگر ہسپتال میں مرتے ہیں مریں لیکن ہمیں خطرہ ہمشہ صرف بارڈر والے دشمن سے ہوگا۔

ہاں نا ہم کیوبا تھوڑی ہے جو ملک میں ڈاکٹر پیدا کرکے اپنے لوگوں کو بیماریوں سے بچائیں، اس کے اثرات سے بھی اگاہ کریں اور ساتھ میں دوسرے ممالک کی بھی مدد کریں۔ اگر ضرورت پڑے تو خود چلے جائیں انسانیت بچانے لیکن ہم کیوں کریں ایسا؟ ہمارے پاس تو ایٹم بم ہے جو انڈیا کے لئے ہے، بندوق ہے اور اے کے 47 جس سے ہم ملک میں آپریشن کرتے ہیں۔ اور شدت پسندی اور طالبان بھی ہمارے اثاثے ہین دشمن کے لئے ۔

خیر چلیں، کم از کم، کورونا وائرس ہی سہی، لیکن ایک بات کی سمجھ تو آگئی ہے کہ قومی صحت بھی قومی سلامتی کا حصہ ہے تو آئندہ کے لئے اگر بندوق کا آرڈر دینا ہوا تو ایک دو وینٹی لیٹرز بھی منگوائے جا سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *