لندن لاک ڈاؤن کی کچھ جھلکیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بحران انسانی نفسیات پر کیا اثر ڈالتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو تمام سوشل سائنسز (اکنامکس، سیاسیات، سماجیات، نفسیات اور تاریخ ) میں نہایت اہم ہے۔ آج پوری دنیا ایک بحران سے گزر رہی ہے جس کا سب سے زیادہ اثر ہماری نفسیات پر ہے …… سوشل سائنسز کے طلباء جہاں کہیں بھی ہیں انہیں اس سوال کے جواب کی جستجو کرنی چاہئے اور اپنے اردگرد بسنے والے انسانوں کے رویوں کا مشاہدہ و مطالعہ ضرور کرنا چاہئے ….

میں یہاں لندن میں گھر سے باہر کم ہی نکلتا ہوں۔ شام کو صرف آدھے گھنٹے کی تیز رفتار واک کے لئے یا کوئی چیز خریدنے کے لئے ….. میں نے جو بدلتے ہوئے انسانی رویوں کا مشاہدہ کیا ہے وہ درج ذیل ہے …

۔ لوگ خوراک کے علاوہ ہر چیز سے بے نیاز ہو گئے ہیں ….. میک اپ کئے ہوئے چہرے اب نظر نہیں آتے، لپ سٹک لگائے ہوئے ایک بھی خاتون بھی نظر نہیں آئی جب سے آیا ہوں …. اس کی ایک وجہ ماسک بھی ہے ۔

۔ چہرے تھکے ہارے اور ناخوش ہیں ….. بے زار بے زار سے اور جاری صورتحال سے اکتائے ہوئے ….. اگر موجودہ لاک ڈاون طویل ہوتا ہے تو یہ ذہنی مریض بن جائیں گے۔

۔ پہلے جتنے لوگ باہر ہوتے ہیں اس کا تقریبا پانچ فیصد سے بھی کم ہوں گے جو باہر نظر آ جاتے ہیں … راہ چلتے فاصلہ رکھتے ہیں …. اگر آپ ایک دم کسی کے سامنے آ جائیں تو دوسرے کی بوکھلاہٹ کا مشاہدہ کرنا انتہائی تکلیف دہ ہے …

۔ بوڑھے سڑکوں پر نہ ہونے کے برابر ہیں اور نہ ہی بچے باہر ہیں … راستے میں پھولوں کی دکان خالی ہے …. بہار کی آمد آمد ہے اور درخت اپنا جوبن عریاں کر رہے ہیں۔ آسمان چمکیلا اور ہواصاف ہے مگر لوگ خاموش ہیں، گم سم اور بے چین۔ کبوتر سڑکوں پر ایسے پھر رہے ہیں جیسے انسانوں کی بستی میں انسان نایاب ہیں …. ڈبل ڈیکر بسیں وقفے وقفے سے آ جا رہی ہیں مگر ان میں بس دو چار مسافر ایک دوسرے سے دور دور بیٹھے کھوئے کھوئے سے ہیں …. اس خوبصورت شہر جس نے مجھے بے حد احترام اور ایک مقام دیا ہے کی یوں ویرانی دیکھ کر میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آ گئے … مگر میں نے اپنے آنسو بھی نہیں پونچھے کہ ویسے بھی دیکھنے والا کوئی نہ تھا اور کرونا کی احتیاط میں چہرے کو ہاتھ نہ لگانے کا مشورہ بھی دیا گیا تھا۔

۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان  ہمدردی میں اضافہ ہوا ہے …. یہ ایک دلچسپ بات ہے اگرچہ فلموں میں ہم دیکھتے تھے کہ لوگ کرونا جیسے سنگین بحران میں مشتعل ہو جاتے ہیں اور انارکی پھیلتی ہے …. یہاں صورتحال اس سے مختلف ہے…. آج صبح ASDA گھر کے لئے گراسری خریدنے کے لئے جانا ہوا…. جب سامان والی ریڑھی کھینچنے لگا تو ایک خاتون نے سینٹائزر آگے بڑھا دیا تاکہ میں سامان کھینچنے والی ریڑھی کے دستے کو اس سے صاف کر لوں….. شاپنگ مال کے باہر سبزی کی دکان پر چیری خریدی…. پیسے دینے کے بعد اس میں جھانکا تو کوالٹی پسند نہیں آئی، گورے دکاندار سے کہا کہ کوالٹی صحیح نہیں، اس نے ایکدم سے ایک پاؤنڈ نکال کر آگے رکھ دیا عام حالات میں تھوڑی بہت بحث ضرور ممکن تھی… لگا یہ کہ وہ بحث نہیں کرنا چاہتا… بوڑھوں اور ڈاکٹروں نرسوں کے احترام میں بے حد اضافہ ہوا ہے اور انہیں گراسری سٹور پر ترجیح مل رہی ہے کہ وہ آئیں اور سب سے پہلے چیز خرید کر چلے جائیں….

۔ اب خریداری میں panic نہیں … ہر چیز مل رہی ہے سوائے آٹے کے جو دیسی زیادہ استعمال کرتے ہیں اور شنید ہے کہ انہوں نے خرید کر سٹاک کر لیا ہے یا جو بھی سبب ہے۔ اکثر چیزوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور اب تقریبا سب مطمئن ہیں کہ خوراک کی سپلائی متاثر نہیں ہو گی۔

یو کے سمیت یورپ میں کیسز اور اموات کی زیادہ تعداد کے تین بڑے اسباب سمجھ آتے ہیں …

۔ ستر سال سے اوپر کے بوڑھوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ….. ایک خاتون نے مجھے سرگوشی میں بتایا کہ یورپ امریکہ بوڑھوں کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک گیا ہے ان کے پاس سنہری موقع ہے کہ ان سے جان چھڑائیں، لہجہ سازشی تھیوری کے انکشاف جیسا تھا

۔ یہاں کے لوگ غیر ملکی جراثیم اور وائرسز سے کم immune ہیں … یہ بات مقامیوں کی ایک بڑی تعداد نے مجھے بتائی

۔ سوائے ایک دو کیسز کے باقی سارے کیسز میں ہلاک شدگان یا تو ستر سال سے اوپر کی عمر میں تھے یا کسی دوسری خطرناک بیماری میں مبتلا تھے …. اگر کرونا ٹیسٹ نہ ہوتا تو یہ سمجھا جا سکتا تھا کہ یہ اسی بیماری میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ یوں زیادہ ٹیسٹنگ اور مرنے والوں کی وفات کے بنیادی سبب کے diagnosis کے سبب یہ بیماری زیادہ ظاہر ہو رہی ہے۔

یوکے کے ہیلتھ چانسلر (وزیر صحت) جو خود بھی کرونا کا شکار ہو چکے ہیں کے مطابق تقریبا بارہ اپریل تک نئے کیسز اور ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا تاآنکہ peak آ جائے گا اور پھر ان میں مسلسل کمی آ جائے گی …. اس بحران کو ختم ہونے میں تقریبا دو تین ماہ لگ جائیں گے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا یہ ماننا ہے کہ حل herd immunity میں ہی ہے یعنی جب تک ساٹھ سے ستر فیصد آبادی اس بیماری کا شکار ہو کر اس سے امیون نہیں ہو جاتی محض احتیاطی تدابیر سے اس سے چھٹکارا ناممکن ہے …. یا پھر کوئی ویکسین یا علاج ایجاد ہو جائے …

میرے زندہ دل رومانیہ کے پڑوسی میوزک اور بار بی کیو انجوائے کر رہے ہیں۔ ابھی امید باقی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 163 posts and counting.See all posts by zeeshan

Leave a Reply