ہماری کرکٹ اور بابا محمد یار کمہار

کوئی پھیری والا ہوتا تو کبھی کبھار اس سے شکرقندی، جموں یا لچھے لے کر کھا لیتے۔ لیکن پھیری والے کم ہی کھڑے رہ کر اپنا وقت ضائع کرتے۔ اتنے کم عقل تو ہوتے نہیں تھے کہ مفلسی سے اٹے بچوں کے پاس چند دھیلوں کی امید لیے کھڑے رہتے۔ ہاں ذرا سستانے کو ضرور چھاؤں میں آ ٹھہرتے تھے۔

ہماری کرکٹ میں کچھ غیر متوقع وقفے بھی ہوتے تھے۔ کسی کا جنازہ قبرستان کی طرف لے جایا جاتا تو ہم سب کھیل روک کر تکتے رہتے۔ آگے آگے چارپائی اٹھائے چار لوگ، چارپائی پہ سفید چادر میں لپٹا بے جان جسم، پیچھے ہمارے گاؤں کے لوگ تیز تیز قدم بھرتے۔ عجیب سی خاموشی چھا جاتی۔ بس پل دو پل ہی میں جنازہ اوجھل ہو جاتا اور خاموشی بھی دبے پاؤں قبرستان کا رخ کر جاتی۔

ایک اور عجیب رواج تھا۔ جیسے ہی جنازہ گزرتا سبھی بچے چلا چلا کر کہتے ’تعویز آلے اندر جاؤ‘ ۔ جن بچوں نے تعویز پہنے ہوتے وہ دوڑ کر چھوٹے کمرے میں چلے جاتے۔ دروازے کی اوٹ سے جنازے کو دیکھتے رہتے۔ مجھے بھی والدین نے تعویذ باندھ رکھے تھے۔ ماں باپ کی دعائیں اور نیک تمنائیں تھیں جو انہوں نے چاندی کی تختی اور چمڑے میں ’مڑھوا‘ کر کالی ڈوری سے باندھ کر میرے گلے میں لٹکا دی تھیں۔ میت کے پاس جانے سے نہ جانے وہ دعائیں بے اثر ہو جاتی ہوں گی۔ تبھی تو ہم تعویز والے لڑکے چھپ جاتے تھے۔ نہ جانے ان لوگوں سے کیا ڈر تھا جو اب گاؤں سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو رہے تھے۔

کرکٹ تو تب بھی رک جاتی تھی جب کسی بچے کی ماں یا باپ گالیوں کی بوچھاڑ کے ساتھ اچانک حملہ آور ہوتا۔ گھر سے چینی، پتی، ماچس یا سگریٹ لینے نکلا تھا اور کرکٹ کھیلنے میں یوں جٹا کہ سب بھول گیا۔ اگر ہتھے چڑھ جاتا تو وہیں پٹائی شروع ہوجاتی۔ ورنہ کرکٹ کھیلنے سے جسم میں جو چستی پیدا ہوتی وہی کام آتی اور آنکھ جھپکتے ہی دکان تک کا آدھا سفر طے ہوجاتا۔ غصیلے باپ نے جو ’چھتر‘ اس پہ پھینکے تھے وہ بہت پیچھے اوندھے پڑے رہ جاتے۔

دو چار ہلکی پھلکی گالیاں باقی کھلاڑیوں کو بھی پڑ جاتیں۔ جو ہم خاموشی سے کھا لیتے۔ اب روز روز کیا تلملانا۔ ویسے بھی یہ ہماری گیم کا حصہ تھا۔ سپورٹس مین شپ۔

کرکٹ تب بھی رک جاتی جب کوئی جھگڑا ہو جاتا۔ گیند یا بلے کا مالک ہی ناراض کر بیٹھتے۔ یا پھر ہمارا کوئی بڑا وہاں آ جاتا اور بلا پکڑ کر حکم سناتا ’گیندیں کرواو‘ ۔

کبھی گیند کسی پیڑ کی شاخوں میں یوں پھنستی کہ نکلنے کا نام نہ لیتی۔ باقی درختوں پہ تو ہم چڑھ کر گیند اتار لیتے لیکن بیری پر ’کنڈے‘ بہت ہوتے تھے۔ وٹے مار مار کر ہلکان ہو جاتے۔ ایک بیری ’چیڑی‘ بہت تھی۔ نہ تو بیر آسانی سے گراتی تھی نہ گیند چھوڑتی۔ ہم بھی روڑے مار مار کر اسے گنجا کر دیتے تھے۔

اسکول کرکٹ میں آف سائیڈ ممنوعہ علاقہ تھا۔ زیرو لائن ہو جیسے۔ جوں ہی لائن کراس ہوگی گولا باری اور جھڑپیں شروع ہوجائیں گی۔ بابا محمد یار کمہار کا گھر تھا آف سائیڈ پہ۔ بابے ممے کے گھر گیند گئی، تو بس گئی۔

جب کبھی کسی بیٹسمین سے زیرو لائن کراس ہو جاتی تو باقی سب اسے قوال و ہمنوا کی طرح مل کر تانیں لگا لگا کر گالیاں دیتے۔ جب من ہلکا ہوجاتا تو بابے ممے کے گھر سے گیند واپس لانے میں سبھی جُٹ جاتے۔ یہ ایک بندے کے بس کی بات نہ تھی۔ یہ اجتماعی ذمہ داری بن جاتی۔ ہمارے پاس ایک ہی گیند ہوتی تھی۔ نئی لانے کے پیسے ہوتے تو گیند واپس لانے کی خجل خواری میں نہ پڑتے۔ قسم سے ہمیں گیند وہاں سے واپس لانا بہت مہنگا پڑتا تھا۔ بابا محمد یار کمہار چاک پر بیٹھا اپنی بوڑھی اور ٹیڑھی میڑھی انگلیوں سے گھڑے، کوریاں، کنیاں (ھانڈیاں) ، ساہنکیں، ڈولے، جھجھریاں، گھڑولیاں، دوریاں، پیالے اور استاوے (لوٹے) بناتا رہتا۔ چاک پہ مٹی کا ایک ’تھوبا‘ رکھتا۔ پاؤں سے چاک گھماتا رہتا اور انگلیوں سے مٹی کو ایسی شکلیں عطا کرتا جاتاکہ دیکھنے والے بس دیکھتے ہی رہتے۔

بابا مما مٹی سے برتن بنانے والا آرٹسٹ تو تھا ہی، ساتھ وہ گاؤں والوں کے لئے چھوٹا موٹا حکیم بھی تھا۔ شدید گرمی میں جب کسی کو ’گدڑ گلہیاں‘ (گلے کا سوجنا) نکلتیں تو دوڑا دوڑا بابے ممے کے پاس آتا۔ بابا اپنے ’تھتھوے‘ ( لکڑی کا آلہ جس سے برتنوں کو ڈھالا جاتا ہے ) پہ چکنی مٹی لگا کر گلے پہ دھیرے دھیرے مارتا جاتا۔ لگتا جیسے مٹی کے تھوبے سے صراحی تراش رہا ہو۔ ٹھنڈی مٹی کا اثر تھا یا بابا محمد یار کمہار کی بے لوث دعا سوجا ہوا گلا ٹھیک ہو جاتا۔ اس کے علاوہ بھاگتے، دوڑتے، گرتے کسی کے ٹخنے یا کلائی کا جوڑ نکل جاتا تو بھی بابا مما بھٹکے جوڑوں کو اپنی جگہ واپس فٹ کر دیتا۔ البتہ مریض کی چند چیخیں اور دیکھنے والوں کا تراہ ضرور نکال دیتا۔

گیند اٹھانے جوں ہی کوئی بچہ چھپری یا دیوار پہ چڑھتا بابے ممے کی گالیاں تڑ تڑ شروع ہو جاتیں۔ گالیوں کی بھی اتنی قسمیں تھیں بابے کے پاس، جتنے اس کے گھر میں مٹی کے برتن۔ کوئی گھڑولی جیسی سڈول اور ہلکی پھلکی گالی، کوئی کوری جیسی موٹی اور وزنی۔ ان گالیوں میں نہ جانے کیا تھا ایسا کہ ہم دیوار کی اوٹ میں انہیں سن کے ہنستے رہتے۔ کسی گالی پہ تو ہنسی کے فوارے پھوٹ پڑتے۔

ان کے گھر ایک ’کوڑا کتا‘ بھی تھا۔ کمبخت ایسا چوکنا کہ دیوار سے کسی کے بال بھی اوپر ہوتے دیکھ لیتا تو بھونک بھونک کر آسمان سر پر اٹھا لیتا۔ باہر جب مال ڈنگر کے ساتھ کھالے پہ جاتا تو ڈرپوک سا نظر آتا۔ ہم آنکھ بچا کر اسے وٹہ بھی جڑ دیتے تھے۔ لیکن جب وہ گھر ہوتا تو کاٹنے کو دوڑتا کبھی ریڑھے کے نیچے گہری نیند سو رہا ہوتا تو ہلکی سی آہٹ سے چونک جاتا اور خطرے کو بھانپ جاتا۔

ایک مسئلہ اور بھی درپیش آتا تھا۔ بابے ممے کے گھر کے دروازے کے عین سامنے گدھوں کی ایک قطار ایک ہی رسی سے بندھی ہوتی۔ زیرو لائن کی بارڈر فورس ہو جیسے۔ دولتی کا خوف بھی ہمارے حوصلے پست کر دیتا۔ ہم گیند لانے کے لئے کس کس دریا کو پار کرتے۔ ہم گیند لانے کی جنگ کارنرڈ ٹائیگرز کی طرح لڑتے مگر جیت ہمیشہ بابا محمد یار کی ہوتی۔ ہمارا ہر منصوبہ دھرے کا دھرا رہ جاتا۔ غصہ کرنا بابے کا حق بنتا تھا۔ اس کا صحن مٹی کے برتنوں سے بھرا ہوتا تھا۔ کہیں ابھی چاک سے اترے ادھ گھڑے برتن تھوڑی دھوپ لگوانے کو پڑے ہوتے، کہیں تیار کچے برتنوں کی قطاریں دھوپ میں سوکھ رہی ہوتیں۔ کہیں آوی سے نکلے پکے برتنوں کے گنبد بنے ہوتے۔ صحن کے ایک کونے میں آوی ہوتی جس کی گرم راکھ میں برتن دفن ہوتے اور دھواں لگاتار اٹھ رہا ہوتا۔ کہیں ٹوٹے، تڑکے بھانڈوں کا ڈھیر پڑا ہوتا۔

ہمارے لئے یہ مٹی کے گھڑے ہوتے ہوں گے، بابے ممے کے سارے خاندان کے لیے ’زندگی‘ تھے۔ وہ پورے گاؤں کے گھروں میں برتن دیتا اور ہاڑی میں گندم کے بورے لے لیتا۔ یہ گھڑے، گھڑولیاں ان کی سدھریں تھیں۔ جیون کو سہارا دینے کی امیدیں تھیں۔ اور بابا محمد یار کمہار بچوں کی ست ربڑی گیند سے اپنی امیدوں کو ٹوٹتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔

پرائمری سکول میں کھیلتے وہ سبھی بچے لیگ سائیڈ کے بہترین کھلاڑی بن گئے۔ آف سائیڈ پہ شاٹ لگانے کی ہمیشہ جھجک سی رہی۔ جب کبھی ہم آف سائیڈ پر شاٹ کھیلتے تو اکثر آؤٹ ہوجاتے۔ اس کے بعد جس گراؤنڈ میں بھی کرکٹ کھیلتے تو آف سائیڈ سے یوں گریزاں رہتے جیسے ادھر بابا محمد یار کمہار کا گھر ہو۔ جیسے دھوپ میں پڑے کچے گھڑے ہوں۔ جیسے ایک بوڑھے محنتی دستکار کا صحن خوبصورت جیون جینے کی آس سے بھرا ہو۔

Latest posts by احمد نعیم چشتی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words