کرونا اور ہماری قوت مدافعت میں چھابڑی والوں کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1999 کی بات ہے۔ وہ فطری حاجت دُور کر کے آیا تھا۔ اس نے آتے ہی جس بڑے سے کھلے برتن میں ہاتھ ڈالا اس میں بیسن آلو اور پیاز وغیرہ کا آمیزہ تھا، جس پر تقریباً ہزار ایک مکھی بیٹھی تھی۔ اس نے اس آمیزے کو ہاتھ میں اٹھایا اور پھر اُبلتے تیل کی کڑاہی میں ہاتھ کے ہلکے ہلکے جھٹکوں کے ساتھ انڈیلنا شروع کر دیا۔ اور آن کی آن میں پکوڑے تیار ہونے لگے۔ اس شخص نے جناح اسپتال لاہور کے نہر کی طرفہ گیٹ کے دائیں جانب زمین ہی پر پکوڑا سازی کا مذکور کارخانہ لگایا تھا۔ اس شخص کی مکھیوں اور غلاظت سے محبت کا یہ مشاہدہ میرا ہے۔ اس کے بعد جب بھی پکوڑے کھائے وہ شخص ضرور یاد آیا۔ اس لئے کبھی بھی سیر ہو کر نہ کھا سکا۔

2016 میں قذافی اسٹیڈیم لاہور کے باہر نیم دائروی انداز میں کھلی ہوا میں کھانے کی دکانوں میں سے ایک پر فالودہ کھانے کے لئے گئے۔ تقریباً شب آٹھ بجے کا وقت ہو گا۔ بہت رونق تھی۔ ہم نے آرڈر دیا اور فالودے کا انتظار کرنے لگے۔ ہماری گاڑی کے دائیں جانب کچھ ہی فاصلے پر ایک گول گپے والا ٹھیلا تھا۔ اس پر دو یا شاید تین آدمی اپنے اپنے گول گپوں کے ساتھ نہایت خشوع و خضوع سے گول گپے کھانے میں مشغول تھے۔ ایک جوڑا تو ضرب چلیپائی (انگریزی حرف X) کے انداز میں ایک دوسرے کے منہ میں گول گپا ڈال رہا تھا۔

کچھ دیر کے بعد جب گول گپوں سے لطف اندوز ہونے والے چلے گئے تو آدمی نے اپنے ساتھ بچے سے برتن سمیٹنے کو کہا۔ وہ چھوٹا اس آدمی کے حسنِ سلوک سے اس کا اپنا سگا بیٹا محسوس ہوتا تھا باقی و اللہ اعلم، خیر اس بچے نے پلیٹیں تو ایک پانی کی بالٹی میں ڈال دیں۔ البتہ گول گپے کھانے والوں کے برتنوں میں بچ جانے والی مختلف چٹنیاں اور رائتے وغیرہ اس گول گپے فروش کے سامنے ترتیب دے دیے۔ اس آدمی نے نہایت مہارت سے ہر چٹنی اور رائتہ واپس ان برتنوں میں انڈیل دیا، جہاں سے نکال کر گاہکوں کو پیش کیا گیا تھا۔ اور اس دوران میں ہمیں فالودہ کھاتے ہوئے مزے اور ابکائیاں آتی رہیں۔

ٹی وی پر کئی دفعہ ایسے پروگرام دکھائے گئے ہیں، جن میں بیکریوں میں رس، بریڈ یا بسکٹ بنانے کے لئے آدمی پاؤں سے میٹیریل مکس اور تیار کرتے ہیں۔ مزید بر آں ان بیکری پروڈکٹس کے تخلیق کاروں نے ان لوگوں کا کبھی طبی معائنہ نہیں کروایا۔ کئی بیکریاں جب رات کو مقفل ہو جاتی ہیں تو ان کے شیلفوں میں رکھے کیکوں، بسکٹوں اور نام نہاد نان خطائیوں پر چوہا ڈانس اور چھپکلی پرفارمنس عام سی بات ہے۔

اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک ہم سب نے ایک چیز کامن دیکھی ہے وہ یہ کہ تمام چاٹ، سموسا یا دہی بھلے فروش پلیٹیں اور چمچ دھونے کے لئے پانی کی ایک ہی بالٹی استعمال کرتے ہیں۔ صابن کی فضول خرچی سے مبرا تھے۔ کھانے کے بعد پلیٹ اور چمچ بالٹی میں پھینکے۔ باہر نکالے، کپڑے کے ایک گندے اور گیلے ٹکڑے سے صاف کیا اور اسی میں اگلے کاہک کا آرڈر اسے پیش کر دیا۔ بعض اوقات تو بالٹی کا پانی ان کی چٹنیوں سے زیادہ گاڑھا ہو جاتا ہے۔ مگر اپنی مستقل مزاجی سے مجال ہے شام تک کبھی جو تبدیل کیا ہو۔ اجتماعی طور پر ہمارا معاشرہ ہم نوالہ و ہم پیالہ و ہم جراثیم ہے۔ ایک ایک شخص کے جسم میں مدافعت کی وہ قوتیں ہیں کہ مغرب کے خالص خوراک کھانے والے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ جیسے ہم خالص خوراک کا تصور نہیں کر سکتے۔

کرونا سے وہ ڈریں، جنہوں نے خالص خوراکیں کھائی ہیں۔ ہم نے تو ملاوٹ اور جراثیم ہی کھائے ہیں۔ کرونا جاہل کو ہماری ذاتی جسمانی ویکسینوں کا علم نہیں۔ بنیادی لازمی احتیاط کے بعد کرونا سے ہم نے ڈرنا ہرگز نہیں ہے۔ کیوں کہ ڈر مدافعت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ اور ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہماری سالہا سال کی ریاضت سے حاصل شدہ مدافعت میں بال برابر کمی آئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خاور صدیق کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *