سینے کا کینسر

موبائل فون پر آج کل کسی کو بھی کال کریں، تو چھاتی یا سینے کے کینسر کے بارے ایک آگاہی پیغام سننے کو ملتا ہے۔ سینے کے کینسر سے مجھے گاؤں کا ایک کردار یاد آ گیا۔

نیاز عرف نیاجا، اپنے تئیں نہایت با اخلاق اور وضع دار آدمی تھا۔ چال چلن سطحی طور پہ مناسب سا تھا۔ گھر کے آگے نیم کے درخت کے نیچے کھجور کے پتوں کے بان سے بنی ایک بڑی چارپائی ڈالی ہوئی تھی۔ جس پر ہر وقت تین چار آدمی بیٹھے خوش گپیاں کرتے رہتے اور باتوں سے فراغت کے وقت تاش وغیرہ کھیل لیتے۔ نیاجا تاش تو نہ کھیلتا البتہ چغلیاں وغیرہ نہایت تن دہی سے فرض سمجھ کے کرتا۔ نیاجے کی چارپائی پہ جو بھی بیٹھا ہوتا۔ نیاجا اس کی تعریفوں میں آسمان کے قلابے ملا دیتا۔

Read more

سائیکل چال

تین گھر اور ایک کوڑا دان چھوڑ کے ہمسایہ عبدالغفور رہتے ہیں۔ اپنے تئیں یہی کوئی پچپن چھپن برس کا ”نوجوان“ ۔ کسی سرکاری ادارے کی بدقسمتی کہ اس میں ملازم ہیں۔ ملازمت اپنی جگہ مگر موصوف نے ساری زندگی ایک ہی کام پوری تن دہی، ایمانداری اور انہماک سے کیا ہے اور وہ ہے خوراک کا لمحوں میں صفایا کرنا۔ بچپن میں اپنے ہم جماعتوں کے ٹفن چوری کر کے لنچ کھا جایا کرتے تھے۔ جوانی، بن بلائی اور بلاتفریق شادی و مرگ کی دعوتیں اڑانے میں گزار دی اور ملازمت صرف سو کر۔ دفتر میں اللہ سے پناہ مانگتی ایک کرسی رکھوائی ہوئی ہے۔ صوفے پر بھی لمبے ہو لیتے ہیں مگر وہ عموماً آٹھ گھنٹوں میں سے تقریباً صرف ساڑھے سات گھنٹے۔

Read more

لاقو کے کاروبار قسمت لے ڈوبی

نام تو اُس کا لیاقت تھا مگر لوگوں کی اکثریت اُس کے اس اصل نام سے ناواقف تھی۔ سبھی اسے لاقو کے نام سے جانتے تھے۔ پڑھا تو شاید زیادہ نہیں تھا لیکن تھا نہایت محنتی۔ اس نے زندگی میں طب سے لے کر کتب فروشی تک اور مرغی بانی و مگس رانی سے لے کر شکرقندی کی فروخت تک غرض کہ کون سا پیشہ و کام تھا جس میں قسمت و طبع آزمائی نہ کی ہو۔ اب اُسکی طب کی کہنہ مشقی کو ہی لے لیجیے۔ اس کا علمِ طب اگرچہ منجن سازی تک محدود رہا مگر جب تک شعبہ طب سے منسلک رہا نہایت تن دہی اور مستقل مزاجی سے فرائض سرانجام دیے۔

Read more

کرونا اور ہماری قوت مدافعت میں چھابڑی والوں کا کردار

1999 کی بات ہے۔ وہ فطری حاجت دُور کر کے آیا تھا۔ اس نے آتے ہی جس بڑے سے کھلے برتن میں ہاتھ ڈالا اس میں بیسن آلو اور پیاز وغیرہ کا آمیزہ تھا، جس پر تقریباً ہزار ایک مکھی بیٹھی تھی۔ اس نے اس آمیزے کو ہاتھ میں اٹھایا اور پھر اُبلتے تیل کی کڑاہی میں ہاتھ کے ہلکے ہلکے جھٹکوں کے ساتھ انڈیلنا شروع کر دیا۔ اور آن کی آن میں پکوڑے تیار ہونے لگے۔ اس شخص نے جناح اسپتال لاہور کے نہر کی طرفہ گیٹ کے دائیں جانب زمین ہی پر پکوڑا سازی کا مذکور کارخانہ لگایا تھا۔ اس شخص کی مکھیوں اور غلاظت سے محبت کا یہ مشاہدہ میرا ہے۔ اس کے بعد جب بھی پکوڑے کھائے وہ شخص ضرور یاد آیا۔ اس لئے کبھی بھی سیر ہو کر نہ کھا سکا۔

Read more