لاقو کے کاروبار قسمت لے ڈوبی

نام تو اُس کا لیاقت تھا مگر لوگوں کی اکثریت اُس کے اس اصل نام سے ناواقف تھی۔ سبھی اسے لاقو کے نام سے جانتے تھے۔ پڑھا تو شاید زیادہ نہیں تھا لیکن تھا نہایت محنتی۔ اس نے زندگی میں طب سے لے کر کتب فروشی تک اور مرغی بانی و مگس رانی سے لے کر شکرقندی کی فروخت تک غرض کہ کون سا پیشہ و کام تھا جس میں قسمت و طبع آزمائی نہ کی ہو۔ اب اُسکی طب کی کہنہ مشقی کو ہی لے لیجیے۔ اس کا علمِ طب اگرچہ منجن سازی تک محدود رہا مگر جب تک شعبہ طب سے منسلک رہا نہایت تن دہی اور مستقل مزاجی سے فرائض سرانجام دیے۔

Read more

کرونا اور ہماری قوت مدافعت میں چھابڑی والوں کا کردار

1999 کی بات ہے۔ وہ فطری حاجت دُور کر کے آیا تھا۔ اس نے آتے ہی جس بڑے سے کھلے برتن میں ہاتھ ڈالا اس میں بیسن آلو اور پیاز وغیرہ کا آمیزہ تھا، جس پر تقریباً ہزار ایک مکھی بیٹھی تھی۔ اس نے اس آمیزے کو ہاتھ میں اٹھایا اور پھر اُبلتے تیل کی کڑاہی میں ہاتھ کے ہلکے ہلکے جھٹکوں کے ساتھ انڈیلنا شروع کر دیا۔ اور آن کی آن میں پکوڑے تیار ہونے لگے۔ اس شخص نے جناح اسپتال لاہور کے نہر کی طرفہ گیٹ کے دائیں جانب زمین ہی پر پکوڑا سازی کا مذکور کارخانہ لگایا تھا۔ اس شخص کی مکھیوں اور غلاظت سے محبت کا یہ مشاہدہ میرا ہے۔ اس کے بعد جب بھی پکوڑے کھائے وہ شخص ضرور یاد آیا۔ اس لئے کبھی بھی سیر ہو کر نہ کھا سکا۔

Read more