میں اور میری خود سری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنی خود سری کے بارے میں سوچتی ہوں تو حیرت بھی ہوتی ہے اور افسوس بھی۔ امی سے اتنی مار کھانے کے بعد بھی سدھری نہیں۔ کبھی جب امی کی برداشت سے باہر ہوجاتا تو پٹائی کاشرف  ابو کو حاصل ہو جاتا تھا۔ کچھ دیر رونے دھونے کے بعد معافی مانگ لی جاتی اور چار دن بعد وہی ڈھاک کے تین پات۔

پہلے ماں باپ کچھ معاملات میں اتنی ہوشیاری کے ساتھ اولاد کی حق تلفی کرجاتے تھے کہ وہ حق تلفی تربیت کا حصہ لگتی تھی اور ہر دوسرے گھر میں کم و بیش ایسا ہی ہوتا تھا تو نا کوئی سمجھنے والا تھا نا سمجھانے والا۔ بھائی تو انگلش میڈیم اسکول سے تعلیم حاصل کررہے تھے تو ہم ایک اردو میڈیم اسکول سے۔ سن اسی کا ذکر کر رہی ہوں۔ کیا پڑھا کیسے پڑھا آج سوچتی ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ پاس کیسے ہوجاتی تھی۔ ایک تو امی ابو بیٹی اور بیٹے میں فرق کرتے تھے سونے پہ سہاگہ پہلوٹی کی بیٹی اور باقی ہم دو بہنوں میں بھی بہت فرق رکھتے تھے۔

اب یہ ماحول ایسا ملنا تھا یا اللہ پاک مستقبل کے لئے تیار کررہا تھا کہ نا کبھی حرص کی عادت پڑی نا مقابلہ کرنے کی نہ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں میں اختلاف کیا۔ بہن کی چاکلیٹ کھالی تو پٹائی اس کے سو کر اٹھنے کے بعد تک سوتے رہے تو پٹائی۔ اسکول کو دیر ہو جائے ہماری وجہ سے تو پٹائی۔ پیار شفقت ہمارے حصے میں کم ہی آتا تھا۔

لیکن امی ابو کی کچھ باتیں بہت ہی اچھی لگتی تھیں۔ گرمیوں کی شاموں میں دالان میں چارپائی ڈال کے ابو بیٹھ جایا کرتے تھے، چمبیلی کی بیل دیوار پہ چڑھی رہتی تھی، اس موسم پہ اس بیل کی دلکشی کیا خوب لگتی تھی۔ ہر ڈالی پھول سے بھری مسحور کن خوشبو مہکاتی اور چارپائی پہ لدے ہم بہن بھائی ابو کے سنائے قصوں میں کھوجاتے تھے۔ ہر قصہ کوئی نہ کوئی سبق دیتا تھا۔ امی ایک طرف بیٹھی کشیدہ کاری کر رہی ہوتی تھیں۔ کبھی ہم نے اپنی امی کو کوئی فرمائش کرتے نہیں دیکھا۔ کتنی آسانی اور سادگی سے زندگی گزر رہی تھی۔ اسی سادہ ماحول نے ماں باپ کی حق تلفیوں کے باوجود باغی نہیں بنایا۔

پڑھنے کا شوق ہوتے ہوئے بھی کبھی ٹیوشن نہیں پڑھی کبھی کوئی کتاب نہیں لی بس حسرت سے بڑی بہن اور بھائیوں کے جائز وناجائز خواہشات پوری ہوتے دیکھتے تھے اور خود سری جیسے اندر ہی اندر پنپ رہی تھی۔ موقع امی ابو نے ہی دیا اس خود سری کو باہر آنے کا۔ تعلیم کے دوران شادی کر دی۔ رزلٹ بھی شادی کے بعد آیا۔

بھائی اور ابو کے بعد شوہر کے روپ میں مرد کی توجہ ملی تو خود سری نے چٹان کا روپ طاری کرلیا، وقت کے ساتھ اختلافات بھی بڑھتے گئے، شوہر خدا لگنے لگا۔ باپ کی ہر حق تلفی جیسے وقت نے پوری کر دی، اپنے بچپن کے تجربات اور ماں باپ کی مثبت تربیت اولاد پہ لاگو کی، کبھی اپنے بچوں میں فرق نہیں کیا۔ ہر بچے کی خواہش کو اہمیت دی جب کہ اس بات پہ اکثر بچوں کے ددھیال اور ننھیال سے اختلافات ہوئے لیکن اپنے بچوں اور شوہر کے معاملے میں کسی کی کبھی نہیں چلنے دی۔ وقت حالات اور ماں باپ کی تربیت نے ایسا خود سر بنا دیا کہ شوہر سے ہٹ کر کبھی کسی کو اہمیت نہیں دی۔ اتنے سال کیسے گزرے پتا ہی نہیں چلا۔

پیروں تلے زمیں تو تب نکلی جب اچانک اپنے شوہر کو دنیا کے سیاہ قانون کی بھینٹ چڑھتے دیکھا اس کرب میں بھی باپ کے ہوتے اس کی شفقت کاہاتھ سر پہ نہیں آیا، کیسے آتا؟ ابو نے سیاسی اختلافات کو ذاتیات تک گھسیٹ رکھا تھا اور میری خود سر ی نے انہیں مجھ سے دور کردیا تھا شوہر کے قدم سے قدم نہ ملاتی تو وہ بہت مطمئن ہوتے لیکن میں اپنی خودسری کا کیا کرتی کہ شوہر کے مقام کو کبھی بھی کسی کے بھی سامنے جھکنے نہیں دیا نہ اپنے ماں باپ کے سامنے نہ اس خود غرض معاشرے کے سامنے۔

پانچ سال میں کتنے اتار چڑھاؤ آئے۔ بچوں کے تعلیمی معاملات ہوں یا راہ چلتے ایکسیڈنٹ سب جھیلا، راتوں کو اکیلے ہسپتال میں بیٹھنا ہو یا جیل کی راہداری میں جرائم پیشہ قیدیوں سے سامنا۔ حالات کی سختی تپتی دھوپ میں آکاس بیل کی طرح بڑھتی لگتی ہے، ہمت نہیں ہاری ہے میں نے لیکن روح چٹختی ہے میری، میری خودسری نے مجھے تنہا کر دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *