اور کرونا ہار گیا


مدھم روشنی میں منہ پر ماسک لگائے باربار کھانستا ہو ا کرونا کا یہ مریض امید و نا امیدی کی کشمکش کے ساتھ موت و حیات کی کیفیت سے گزر رہاتھا کئی دنوں سے ماحول میں گردش کرتی ہوئی خبریں اس کے ذہن میں بار بار گونج رہی تھیں اور اسے یوں محسوس ہورہا تھا کہ یہ آوازیں اس کا پیچھا کر رہی ہیں کبھی تفتان، تفتان، تفتان کی صدائیں بلند ہوتیں۔ کہ تفتان زائرین نے تباہ کر دیا، تو کبھی تبلیغی، تبلیغی، تبلیغی ہمیں لے ڈوبے کبھی یہ سنائی دیتا کہ نا اہل حکومت نے قوم کو مشکل میں ڈال دیا، ناکارہ سہولیات سے زندگیاں نہیں بچیں گی، ناتجربہ کار عملہ کیسے اس بحران سے نکالے گا، ڈاکٹرز کی حفاظتی کٹ نہ ملنے پر ہڑتال، لاک ڈون لاک ڈون شہر شہر لاک ڈاون، حکومتی بے بسی، اپوزیشن کی بے حسی، طنزیہ جملے اور بیان بازی، صاحبِ اقتدار میری حکومت میری مرضی پر بضد، بڑھتی ہوئی وبا اور بنتی ہوئی جان لیوا بلا، اٹلی و سپین کی بے بسی کے قصے، چین کی طبی معاونت ملتے ہی صوبے میرا حصہ تیرا حصہ، جس کا صوبہ اس کی مرضی، میرِ کارواں کون، شہرشہر قرنطینہ، پھیلتا ہوا کرونا، بڑھتی ہوئی اموات، تابوتوں کی تیاری یہ سب صدائیں سن کر وہ لرز رہا تھا اس کا دل ڈوبا جا رہا تھا حوصلے دم توڑ رہے تھے اور وہ امید کی مدھم روشنی سے نا امیدی کی کالی سیاہ رات کی طرف جا رہا تھا وہ بیماری سے زیادہ اس صورت حال سے خوف زدہ تھا کہ آخر اس صورت ِ حال میں میرا اور میرے جیسے مریضوں کا کیا ہو گا صدائیں دھیرے دھیرے مدہم ہو رہی تھی ان دبتی ہوئی صداوں میں تفتان تفتان اور تبلیغی، تبلیغی واضح سنائی دے رہا تھا

اس نے ایک مشکل سانس کی صورت میں آہ بھر ی اور سوچا کہ میں تو شیعہ بھی نہیں میرا زائرین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، تبلیغیوں سے کوئی رابطہ نہیں، حمد و نعت کی محافل میں آنا جانا نہیں کسی سیاسی اجتماع میں آنا جانا نہیں کوئی عزیز دیارِ غیر سے لو ٹا نہیں تو آخر مجھے یہ وائرس کہاں سے لگ گیا کس کے سر الزام لگاؤں میں کس کو اپنا مجر م کہوں

اسی با ت کو لے کر وہ سو چنے لگا اس کی سو چ مزید گہری ہوتی چلی گئی اس کی دونوں آنکھیں سامنے والی دیوار پر جمی ہوئی تھیں دیوار پر کی گئی سفیدی پر دیکھتے ہی دیکھتے کئی منظر ابھرے ا ے ٹی ایم مشین، ٹول پلازہ کے انٹری کارڈ، کرنسی نوٹ کا لین دین، گھر میں آتے ہوئے شاپر، اشاروں پر ملتے اور کھانستے ہوئے افراد، گلی محلہ اور اڑوس پڑوس والے، گلے ملتے دوست احباب، دفتر کا عملہ، بیرونِ ملک سے آئے ٹی سی ایس کے، یہاں تک کہ گاڑی کی صفائی والا، دودھ فروش، سبزی والا، نان فروش، کھچا کھچ بھرے بڑے بڑے مال، مارکیٹیس جمعہ و اتوار بازار کا ہجوم بھی یاد آرہا تھا اسے اب ہر جگہ مشکوک لگ رہے تھی ہر ہر منظر میں کھانستے چھینکتے لوگ کرونا کا وائرس منتقل کرتے ہوئے نظر آرہے تھے ایک لمحے کے لئے اسے لگا کہ یہ سب میرے گناہگا ر اور مجرم ہیں جن کی وجہ سے میں قرنظینہ میں مقیم ہوں پھر اس نے اپنا سر جھٹکا اور کہانہیں ایسا نہیں میں نے خود لا پرواہی کی جب تمام میڈیا، لوگ اور حکومت چلاچلا کے کہ رہے تھے خدارا احتیاط کیجیے ہاتھ دھویں، گھر میں رہیں، ماسک لیں سماجی فاصلہ رکھیں ہجوم سے دوری اختیار کریں اپنے لئے اپنے پیاروں کے لئے تو اس وقت احتیاط کیوں نہ کی

اس نے اسے اپنی غلطی مان کر خود کو حوصلہ دینا شروع کردیا اپنے وجود کی تمام طاقتوں کو اکٹھا کرنے شروع کر دیا اپنے یقین کو مضبوط کرنے لگا اور خود کو یہ پیغام دینے لگا میں نے کرونا کا مقابلہ کرنا ہے خود کو مضبو ط بنانا ہے اپنی مدافعاتی قوت کو بہتر کرنا ہے اس یقین کے آتے ہی اس کو بہتر ی محسوس ہونے لگی اسے نا امیدی و مایوسی کے گہرے اندھیرے سے امید کی کرنیں بکھرتی نظر آنے لگی اس کے اداس چہرے پر عزم کی سرخی تھی اور بجھی ہوئی آنکھوں میں یقین کی چمک تھی اور خود کلامی کے انداز میں کہنے لگا

کاش ہمارے لوگ اس وقت سیاست کی جگہ ریاست کو بچانے کی فکر کرتے، الزام در الزام کے بجائے انتظام و انصرام پر توجہ دیتے، ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دیتے، رقابت کو رفاقت میں بدلتے، ہرسہولت پر شکو ہ کرنے سے کہیں بہتر تھا کہ جو ہے اس پر شکر کرتے، یاس کو آس میں بدلتے ہر عمل میں برائی ڈھونڈنے والے اچھائی کا پہلو نکلاتے، الگ الگ ٹامک ٹوئیاں مارنے والے متقق اور متحد ہو کر اس مشکل میں کھڑے ہو جاتے تو شاید صورتِ حال مختلف ہو جاتی وہ حکومت کے ساتھ ساتھ قوم کے غیر سنجیدہ رویہ پر آبدیدہ و رنجیدہ تھا وہ کہہ رہاتھا کہ اگر ایک فرد کو اپنی تمام دفاعی نظام کی طاقت کو یکجا کر کے کرونا کو ہرانا پڑتا ہے توپھر ملک کو بھی آپ سب کی ضرورت ہے آپ کے اتحاد و اتفاق کی، آپ کی محنت و حکمت کی، ساری طاقت کو یکجا کرنے کی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ تو اللہ سے رحم کی بھیک مانگنے کا وقت، فرنٹ لائن ورکرز کی حوصلہ افزائی، حکومتی احکام کی پاس داری اور مشکل گھڑی میں ساتھ چلنے کا وقت ہے بے سہاروں کا سہارا بننے کی ضرورت ہے سیاست، مذہب، فرقے اور ذات پات کی حدود سے آگے نکل کر انسانیت کی فلاح اور بقا کا سوچنے اور عمل کرنے کا وقت ہے، دوسروں کے تجربوں سے سیکھ کر بہتر حکمت عملی کا وقت۔ وہ گلو گیر آواز میں کہہ رہا تھا خدارا حالت کی سنگینی کو بحثیت قوم سمجھئے اپنے اپ کو اپنے پیاروں کو اس اذیت سے محفوظ کیجئے اور یاد رکھیں ہم بحیثیت قوم متحد ہو کر ہی اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں کیونکہ عدم احتیاط وفات اور مکمل احتیاط حیات ہےایک فرد کو زندہ رہنے کے لے اپنی تمام مدافعاتی طاقتوں کی یکجا کرنا پڑھتا ہے تو ہمیں بحیثیت قوم بھی اکٹھا ہونا ہو گا تبھی سماعتیں یہ سنیں گی وطنِ عزیز پاکستان میں کرونا ہار گیا۔

Facebook Comments HS

One thought on “اور کرونا ہار گیا

  • 04/04/2020 at 5:56 شام
    Permalink

    ماشاءاللہ۔ میاں صاحب! سلامت باشد۔ اللّٰہ زور قلم میں مزید طاقت بخشے۔۔۔۔

Comments are closed.