گھمی کبابی: اشرف صبوحی


تیسرے صاحب۔ اچھا تو وہ اردو ہی میں باتیں کر رہے تھے؟
میں۔ ہاں اردو میں اور ٹھیٹ اردو میں۔ تمھاری سمجھ میں نہ آئے تو اس کا کیا علاج؟
پہلے صاحب۔ اگر یہ اردو تھی تو ہماری سمجھ میں نہ آنے کی وجہ۔

میں۔ وجہ یہ کہ تم جو اردو پڑھتے ہو وہ دلی والوں کی اردو نہیں، انگریزی دانوں کی اردو ہے۔ جو کتابیں مدرسوں میں پڑھائی جاتی ہیں ان کا معیار کچھ اور ہے۔ ایک جاہل کبابی کو دیکھ لیا، کس صفائی کے ساتھ کیسا بے تکان محاورے پر محاورے اور ضرب المثل پر ضرب المثل بولتا چلا جا رہا تھا۔

نسیم دہلوی ہم موجد بابِ فصاحت ہیں
کوئی اردو کو کیا سمجھے گا جیسا ہم سمجھتے ہیں

گھمّی، ایک کبابی کی بدولت دلی کی لاج رہ گئی۔ لیکن افسوس اب ایسا بھی کوئی نہیں۔ لاگ آپڑے تو کہاں جائیں؟ مٹر مٹر سناکرتے ہیں کہ دلّی والے بے ہنر، بے غیرت، جھوٹے، شیخی باز، یہاں کے باورچیوں کو کھانا پکانا نہیں آتا۔ یہاں کے حلوائی مٹھائی بنانی نہیں جانتے۔ نہاری جس کی اتنی تعریف ہے، کباب جس پر رال ٹپکائے دیتے ہیں، گھلی ہوئی مرچوں اور جلے ہوئے گوشت کے سوا کیا رکھا ہے۔ کیا جواب دیں۔ ”نہ ایسے ہوتے نہ تم پرمرتے“ رات گئی بات گئی۔ جو کوئی اور جو کچھ کہے سچ ہے۔

کوئی فن ہو اصل میں قدردانی کی گود میں پرورش پاتا ہے۔ قلعہ آباد تھا۔ امرا کی ڈیوڑھیاں برقرار تھیں۔ ملک گیری اور ملک داری والے تو خُلد آشیاں اور جنّت مکاں ہوچکے تھے۔ رہ گئی تھی صرف شاہی اور امارت کی باتیں، بازیاں عیّاشیاں اور کھانا اڑانا خالی بیٹھے کیا کرتے۔ لباس کی تراش خراش ہوتی یا دسترخوان کی زیبائش۔ درزی اپنی کاری گری دکھاتے، باورچی، نان بائی، رکاب دار طرح طرح کی استادیوں سے کھانے کے اقسام بڑھاتے، انعام پاتے۔

بادشاہت اجڑی۔ اہلِ کمال دربدر کی ٹھوکریں کھاکر بازاروں میں نکلے۔ پیٹ بُری بلاہے۔ کیسی آن اور کس کی شان؟ کوئی کبابی بن گیا۔ کسی نے نہاری کی دکان کرلی۔ اس طرح اکثر خاص کھانے جو سچّی چینی کے پیالوں اور بلوّری قابوں میں تورہ پوشوں سے ڈھکے ہوئے شاہ زادوں اور شہزادیوں کے سامنے آتے تھے، ٹھاک کے پتّوں کے دونوں اور مٹی کے جھوجرے برتنوں میں نکلنے لگے۔ عوام الناس کا بھلا ضرور ہوا مگر فن کی ترقی رک گئی۔ جومرا اپنا فن اپنے ساتھ لے گیا، کسی نے اپنا جانشین نہ چھوڑا۔

دلّی کے اکثر دکان داروں میں یہ بات پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے کہ وہ گاہکوں کے نمبر کا خیال رکھتے ہیں۔ وار سے سودا دیتے ہیں تاہم خریدار کی مطالبت اور خریداری کی نوعیت سے ان کا یہ قاعدہ ٹوٹ بھی جاتا ہے۔ لیکن گھمّی اس اصول کا بڑا مضبوطی سے پابند تھا۔ اس کی نگاہ میں ایک پیسے اور ایک روپے کے کباب لینے والا برابر تھا۔ اب اس کو کوئی بُرا کہے یا اچھا۔ اس کے اس طریق کی کوئی مذمت کرے یا تعریف۔ وہ بڑے سے بڑے موٹر میں بیٹھ کر آنے والے کی پروا نہیں کرتا تھا۔

ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا ہے کہ ”میاں ایسی جلدی ہے تو کہیں اور سے لے لو، میں تو نمبروں سے دوں گا۔ “ باوجود اس کے کہ میں اس کا لگا بندھا گاہک تھا، اس کو میری خاطر بھی منظور تھی۔ مجھے وہ خاص طور پر زیادہ دہی لگاکر دھیمی آگ پر سنکے ہوئے کباب دیا کرتا تھا۔ لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ نمبر کے خلاف دیے ہوں۔ ذرا جلدی کی اور اس نے تیوری چڑھاکر کہہ دیا کہ ”حضرت گھمّی کو اپنی جنٹلمینی سے نہ دبائیے۔ آپ سے پہلے کا یہ لونڈا کھڑا ہے، اس کی سیخ سینک دوں پھر آپ کا وار ہے۔ دیکھیے یہ آپ کے واسطے لگارکھی ہے۔ “

گھمّی کی اس مستقل عادت سے دوچار دفعہ ہمیں تکلیف بھی ہوئی اور برا بھی معلوم ہوا لیکن ایمان کی بات ہے کہ اس جاہل کبابی میں یہ خصلت ایسی تھی کہ ہزاروں پڑھوں لکھوں میں نہیں ہوتی۔ مساوات کا سبق میں نے اسی دکان پر پڑھا تھا۔ حالاں کہ اِن حضرت کی اس حق شناسی کی بدولت جس میں کوئی استثنا ہی نہ تھا، ایک مرتبہ مجھ کو سخت خفّت، پریشانی اور بے حد ذلّت اٹھانی پڑی۔ اس واقعے کے بعد وہ مرگیا اور مجھے مرنا ہے۔ آج تک میں پچھتاتا ہوں۔ اور اپنی اجتہادی حماقت اور گھمّی کی جہالت آمیز عمل نمبری پر ماتم کرتا ہوں۔

علی گڑھ سے کرکٹ کی ٹیم آئی ہوئی تھی۔ میرے چند کھلاڑی دوستوں نے اس کی دعوت کردی۔ اس دعوت کی انتظامی مجلس کا میں بھی ایک رکن تھا۔ کھانوں کی فہرست تیار ہوئی۔ شامتِ اعمال میرے منہ سے نکل گیا کہ گھمّی کے کباب بھی ہونے چاہئیں۔ تھوڑے بحث و مباحثے کے بعد میری رائے پاس ہوگئی۔ مگر ساتھ ہی اس پر زور دیا گیا کہ جہاں کھلایا جائے وہیں میاں گھمّی کباب لگائیں تاکہ گرماگرم ہوں۔ ادھر اتریں اور ادھر دسترخوان پر آئیں۔ اور اس کا انتظام مجھ بدنصیب کو سونپا گیا۔ میں خوش تھا کہ مفت میں گھمّی پر احسان ہوگا اور علی گڑھ والے بھی کیا یاد کریں گے کہ دلّی کی دعوت وہ دعوت کھلائی جو کھانے والے کو سرسے پانوتک جنّتی بنادیتی ہے اور جس کے پہلے ہی نوالے میں خضوع و خشوع شروع ہوجاتا ہے۔

خوشی خوشی میاں گھمّی کی دکان پر پہنچا۔ وہ ابھی آئے نہ تھے۔ ایک لڑکا ان کا ٹھیا صاف کر رہا تھا۔ اتنے میں وہ بھی لنگی باندھے تہبند سے اونچا بنیان پہنے بڑے ٹھسّے سے تشریف لائے۔ سرپر پتیلا، بغل میں روٹیاں، دونوں ہاتھوں میں دوپوٹ۔ سامان رکھتے رکھتے بہت کچھ تصنیف کرڈالا۔ جب ذراہلکے ہوئے تو مجھ سے پوچھا میاں آج اس وقت کہاں۔ سیخیں تو گھنٹہ بھر میں تیار ہوں گی۔ مگر وار پہلا تمہارا ہوگا، میں نے کہا۔ اس وقت تو میں کباب لینے نہیں آیا ہوں تمہارے لیے ایک کام لایا ہوں۔

بولے میاں میں کس کام کا ہوں، کباب بیچتا ہوں اور پیٹ بھرتا ہوں۔ اور یہ فقرہ کچھ ایسے انداز سے کہا کہ مجھ کو خیال آیا کہ کہیں کم بخت انکار کردے تو سارا مزہ ہی کِرکِرا ہوجائے۔ ڈرتے ڈرتے کہا کہ بھئی ایک دعوت ہے اور اس میں تمہارے کبابوں کی ضرورت۔ علی گڑھ تک نام ہوجائے گا۔ جواب دیا کہ ”کباب جتنے چاہئیں لیجیے، اور ایسے مزے کے لیجیے کہ کھانے والے انگلیاں چاٹتے رہ جائیں۔ “ میں نے کہا ”مگر ایک شرط ہے۔ دعوت کی جگہ چل کر تیار کرنے پڑیں گے“ کہنے لگے میاں یہ جھگڑے کی بات ہے۔ گھمّی سے یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی کے دروازے پر جائے۔ یہیں سے لے جائیے گا۔ ”

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4