گھمی کبابی: اشرف صبوحی


اس جملے میں ایسی اکڑتھی۔ میں گھبرا گیا اور زور دیتے ہوئے کہا“ لو اور سنو! میں تو اپنے دوستوں سے وعدہ کر آیا ہوں۔ اپنے دلّی والے کی اتنی لاج بھی نہیں۔ ”یہ سُن کر میاں گھمّی کچھ پسیجے۔ اب دکان پر چند کبابوں کے رسیا بھی آگئے تھے۔ کہنے لگے تم گھمّی کی آن توڑتے ہو۔ خیر۔ گھمّی نے تو آج تک دوسرا در دیکھا نہیں۔ کبھی اس ٹھیے سے اٹھ کر کہیں گیا ہو تو کلمے کی مار پڑے۔

مگر اب تم سے کیا کہوں۔ اچھا۔ مگر یہ بیچارے کس کی جان کو روئیں گے۔ یہ غریب جو کباب لینے کو آئیں گے تو کیا کہیں گے۔ وقت کون سا ہوگا؟ ”دعوت رات کی تھی اور دعوتوں کا عام طور پر یہی وقت ہوتا ہے۔ میں نے کہہ دیا رات کا وقت ہوگا۔ لیکن تم کو دن سے آنا پڑے گا۔ یہ سُن کر میاں گھمّی کو پھر جلال آگیا۔ بولے“ حضرت اگر مجھ پر ایسا ظلم کرنا ہے تو دوپہر کا وقت مقرر کرو وہاں سے فراغت پاکر میں اپنی دکان تو لگاسکوں گا۔ نہیں تو میرا سلام ہے۔ اس سے زیادہ میں آپ کی مروّت نہیں کرسکتا۔ ”

دسترخوان پر پر گھمّی کے کباب نہ ہوں اور میری بات میں فرق آئے۔ اس سے یہ آسان تھا کہ دعوت کا وقت بدل دیا جائے۔ چنانچہ اپنی ترکیب سے یاروں کو سمجھا دیا۔ اگر چہ نفسیات اور فلسفے کا سارا زور لگانا پڑا۔ دعوت دن کے گیارہ بجے قرار پائی اور اس کی میاں گھمّی کو بھی اطلاع دے دی گئی اور یہ بھی بتادیا کہ اتنے آدمی کھانا کھائیں گے اور سب کے سب تقریباً نوجوان انگریزی فیشن اور انگریزی مذاق کے ہوں گے جس کے جواب میں گھمّی نے عارفانہ لہجے میں صرف یہ کہا ”اللہ مالک ہے۔ اسی نے اب تک تو گھمّی کی آبرو رکھی ہے۔ “

دعوت ایک قدیم وضع کے مکان میں ہے۔ صدر دالان میں دسترخوان بچھانے کا انتظام ہے۔ صحن چبوترے سے نیچے ایک سہ دری میں میاں گھمّی ٹاٹ کے ایک ٹکڑے پر پھسکڑا مارے تشریف فرما ہیں۔ تسلے میں مسالا ملا ہوا قیمہ۔ زانوؤں کے قریب سیخوں کا ڈھیر، مٹی کے کونڈے میں پیاز کالچھا۔ باریک کتری ہوئی ادرک ہری مرچیں، لیموں اور پودینہ رکھا ہوا ہے۔ کوئلے سلگ رہے ہیں۔ پنکھا چل رہا تھا۔ میں صبح سے موجود تھا اور ہر دس منٹ بعد میاں گھمّی کو جھانک آتا تھا۔

نوبجے کے بعد جب دعوت کے دوسرے منتظم آئے اور انھوں نے کہا کہ سارے کھانے تیار ہیں۔ تنور بھی گرم ہے۔ مہمانوں کے آتے ہی باقرخانیاں لگنی شروع ہوجائیں گی تو مجھے بھی کبابوں کی تیاری کا فکر ہوا۔ جاکر کیا دیکھتاہوں کہ ابھی نہ پورے کوئلے دہکے ہیں نہ قیمے نے کبابوں کی شکل اختیار کی۔ میاں گھمّی بڑے آرام سے بیٹھے قیمے کو دہی ڈال ڈال کر متھ رہے ہیں۔ دوچار منٹ تو میں سیر دیکھتا رہا۔ آخر اکتاکر پوچھا۔

”میاں گھمّی! یہ کیا کر رہے ہو؟ ابھی تو سیخیں یوں ہی پڑی ہیں۔ کباب کب تیار ہوں گے؟ دیکھو دس بجنے کو ہیں اور ٹھیک گیارہ بجے دسترخوان بچھ جانا چاہیے۔ “

گھمّی۔ میاں میں نہ خالی بیٹھا ہوں نہ کھیل رہا ہوں۔ کام اپنے رستے سے ہواکرتا ہے۔ قیمے کو ذرا درست کرلوں تو سیخوں کو لوں۔ اتنے میں کوئلوں کا تاؤ بھی ٹھیک ہوجائے گا۔

میں۔ لیکن ہمارے پاس تو صرف چالیس پچاس ہی منٹ ہیں اور تمھارے کام میں ابھی بہت دیر معلوم ہوتی ہے۔ دوسرے کھانے کبھی کے تیار ہوچکے۔

گھمّی۔ میاں ان کا اور کام ہے اور میرا اور کام۔ یہ گھمّی کے کباب ہیں۔ آخر جب سے آیا ہوں اسی میں لگا ہوا ہوں۔ آپ گھبرائیں نہیں اللہ مالک ہے۔

میں۔ اللہ تو مالک ہے مگر خدا کے بندے تم نے یہ اوپر کا کام بھی پہلے نہ کرلیا۔ اب کوئی دم میں مہمان آنے شروع ہوجائیں گے۔ وقت کی پابندی بہت ضروری ہے۔

گھمّی۔ آپ میرے ہاتھ پاؤں نہ پھلائیے۔ میں وقت کو دیکھوں یا اپنے کام کو دیکھوں۔ یہ تو مجھ سے کبھی ہوگا نہیں کہ آپ کی ٹیم کی وجہ سے کباب کو خراب کردوں۔

میں۔ بھئی تم آج مجھ کو بغیر ذلیل کیے نہیں رہوگے۔ خدا کے واسطے کچھ تو پھرتی کرو۔ تو بس قیمے سے کشتی لڑچکے۔ آگ بھی خوب دہک گئی ہے۔ سیخیں لگانی شروع کردو۔

گھمّی۔ اسی لیے تو پرائی تابعداری نہیں کرتا۔ بڑے بڑے نوابوں نے بلایا۔ نہیں گیا۔ دنیا کے انعام کا لالچ دیا لیکن میں نے دوسروں کی حکومت اٹھانے سے اپنی حالت کو اچھا سمجھا۔ پھٹے حالوں رہتا ہوں۔ بلاسے کسی کا نوکر تو نہیں۔ غلامی تو نہیں کرنی پڑتی۔

میں۔ تم کس کے نوکر ہو۔ اس وقت تو ہم تمھارے نوکر ہیں۔ صرف یہ عرض ہے کہ ہماری دعوت پھیکی نہ رہ جائے۔

گھمّی۔ اللہ نہ کرے، پھیکی کیسی اتنی چٹ پٹی ہو کہ عمر بھر یاد رہے۔ اچھا آپ تشریف لے جائیں اور پورے آدھے گھنٹے بعد کباب لینے شروع کردیں۔

یہ کہہ کر میاں گھمّی نے ہاتھ کسی قدر تیزی سے چلائے اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری سیخوں پر قیمہ چڑھا کر تاگے لپٹ ڈالے۔ ایک سیخ سے کوئلوں کی سطح کو برابر کیا۔ اینٹیں جو کوئلوں کے دونوں طرف سیخیں لگانے کے لیے رکھی تھیں ان کو دیکھا اور برابر برابر تمام سیخیں لگادیں۔ پنکھا چلانے والے چھوکرے کو حکم دیا، اے ذرا دباکر ہاتھ چلا۔

گیارہ بجنے میں دس منٹ تھے کہ مہمان آپہنچے۔ کالج کے طلبہ عموماً آزاد اور بے تکلف ہوتے ہیں۔ آتے ہی انھوں نے کھانا مانگا۔ مہمان میزبان، طفیلی اور تف طفیلی سب ملاکر کوئی پچاس آدمی تھے۔ دسترخوان بچھا۔ خالی رکابیاں رکھی گئیں۔ قابوں میں کھانا نکل نکل کر آنے لگا۔ نان بائی نے باقر خانیاں لگانی شروع کردیں۔ مجھ کو اپنے کبابوں کا اندیشہ تھا۔ لپکا ہوا میاں گھمّی کے پاس پہنچا۔ انھوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا۔

حضرت یہ چالیس سیخیں تو تیار ہیں۔ کھانا شروع کردیجیے۔ کھلانا شروع کردیجیے۔ خدانے چاہا تو اب تار نہیں ٹوٹنے پائے گا۔ یہ سن کر میں نے دیکھا تو حقیقت میں آٹھ نو رکابیاں کبابوں سے بھری رکھی تھیں اور ان پر نہایت خوبصورتی کے ساتھ پیاز کا لچھا، ادرک کی ہوائی، ہری مرچیں اور کترا ہوا پودینہ چھڑکا ہوا تھا۔ خوشی کی گھبراہٹ میں کہیں یہ پوچھ بیٹھا کہ بھئی کبابوں کے تاگے بھی نکال دیے ہیں۔ ”یہ کہنا تھا کہ میاں گھمّی آئیں تو جائیں کہاں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4