گھمی کبابی: اشرف صبوحی

گھمّی کبابی کو کون نہیں جانتا۔ سارا شہر جانتا ہے۔ جب تک یہ زندہ رہا کبابوں کی دنیا میں اس سے زیادہ دلچسپ کوئی کبابی نہ تھا۔ جامع مسجد کی سیڑھیوں سے لے کر ادھر دِلّی دروازے تک اور ادھر حبش خاں کی پھاٹک تک اس کے کباب چٹخارے لے لے کر کھائے جاتے تھے۔ چھوٹے بڑے، امیر غریب سب ہی پر میاں گھمی کے کبابوں نے سکّہ بٹھا رکھا تھا۔ دکان تو آج بھی ہے اور کباب ہی اس پر بکتے ہیں۔ لیکن وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ وہ نہ گھمّی کی سی مزے دار باتیں ہیں، نہ وہ گھمّی کا سا کباب بیچنے کا ڈھنگ۔ نہ وہ خریداروں کی بھیڑ ہے۔ نہ وہ چٹپٹاپن۔ ایک لمبا تڑنگا بھینگا سا جوان آدمی دکان پر بیٹھا ہوا مکھیاں مارا کرتا ہے۔
میاں گھمّی کی صورت بھی ایسی گول مٹول تھی کہ گولے کا کباب معلوم ہوتے تھے۔ شام کو پانچ بجے کے بعد جاڑوں میں اور مغرب کی اذانوں کے قریب گرمیوں میں ان کی دکان جمتی تھی۔ سری پائے گھرسے پکاکر لاتے۔ کلیجی گردے اور بکری کے بھیجے تلے ہوئے الگ اور بھُنے ہوئے علاحدہ سینیوں اور پتیلے میں رکھے ہوئے ہوتے۔ قیمہ سیخوں پر چڑھائے جاتے اور آپ ہی آپ بڑبڑاتے رہتے۔ باتیں ایسی صاف ستھری زبان میں آواز کو جھولادے دے کر کیا کرتے کہ قلعے کی بولیوں ٹھولیوں کا لطف آجاتا۔ اب تو وہ اردو ہی سننے میں نہیں آتی۔ بولنے والے نہ رہے تو سمجھنے والے کہاں سے آئیں۔
یونی ورسٹی کے امتحانوں کے دن تھے۔ بڑی بڑی دورکا لڑکا آیا ہوا تھا۔ طالب علم پورب کے ہوں یا پچھّم کے گھنٹوں میں یار ہوجاتے ہیں۔ اردو کے پرچے کا نمبر آیا تو آپس میں چخ شروع ہوئی۔ بحث یہ تھی کہ اردو پر دلّی والوں کا حق دعوا ہے۔ دوسرے ان سے اچھی جانتے ہیں۔ گویا استادوں کو منہ چڑانے والے شاگرد بھی اللہ کی شان میاں مٹھو بننے لگے۔ یوں وہ کب ماننے والے تھے۔ کاگا رول میں میری کون سنتا۔ یکایک مجھے ایک ترکیب سوجھی اور خوب سوجھی۔
شام کو ان میں جو زیادہ شیخی بگھار رہے تھے، انھیں ساتھ لے، باتوں میں لگا اِدھر ادھر کا چکر دیتا ہوا۔ میاں گھمّی کی دکان پر جاپہنچا۔ اتفاق سے اس وقت ان کا بھی بہرہ کھلا ہوا تھا۔ کسی نے چھیڑ دیا ہوگا۔ چومکھّی چل رہی تھی۔ اور زرغل دکان کے سامنے کھڑے ہونے کا کوئی بہانہ تو ہوتا، میں نے چاندی کی ایک پاؤلی پھینکی اورچپ کھڑا ہوگیا۔ مگر گھمّی صاحب اپنے رنگ میں۔ غرض کہ ہم سب کھڑے تھے اور میاں گھمّی پنکھے کے ساتھ پتنگے اڑا رہے تھے۔ آغاز اور انجام کی تو خبر نہیں کہ کیوں کر اردوے معلیٰ کا دفتر کھلا اور کس پر آخری تان ٹوٹی۔ ہاں جتنا ہم نے سناحاضر ہے۔
خوب۔ دھوبی بیٹا چاند سا سیٹی اور پٹاخ۔ اجی وہ زمانے لد گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ آج کی کہو۔ جس کو دیکھو بے نوا کا سونٹا بنا پھرتا ہے۔ نہ بڑوں کا ادب نہ چھوٹوں کی لاج۔ وہی مثل ہوگئی کہ باولے گانو اونٹ آیا لوگوں نے جانا پرمیشور آئے۔ حضرت ہم نے بھی دنیا دیکھی ہے۔ جھجّو جھونٹوں میں عمر نہیں گزاری۔ رانڈے کے سانڈ بن کر نہیں رہے۔ یہ بال دھوپ میں سفید نہیں ہوئے۔ کیا کہا بارہ برس دلّی میں رہے اور بھاڑ جھونکا؟
ہاں صاحب اب تو جو کہو بجا ہے۔ آنکھ پھوٹی۔ پیڑ گئی۔ دلّی کا کوئی ہو تو اس کی پیٹ میں درد اٹھے۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا۔ پھر جیسا راجا ویسی پرجا۔ جیسی گندی سیتلا ویسے پوجن ہار۔ میری کیا پوچھتے ہو آنے کا چراغ گھر رکھوں چوہا کھائے، باہر دھروں کوّا لے جائے۔ انھیں کیوں نہیں دیکھتے جو آدھے قاضی قدوا اور آدھے بابا آدم بنے ہوئے ہیں۔ آخر کس برتے پرتتا پانی۔ کرگا چھوڑ تماشے جائے۔
ناحق چوٹ جُلایا کھائے۔ خیر بھئی ہم تو اپنی کہتے ہیں۔ زن، زر، زمین زبان قضّیہ چاروں کے گھر۔ یہاں کیا دھرا ہے؟ جس کا کام اسی کو ساجھے اور کرے تو ٹھینگا باجے۔ پہلے بادشاہی تھی اب انگریزی ہے۔ سنا نہیں کہ راجا کہے سونیا و پانسا پڑے تو دانو۔ کالوں کا چراغ بجھ گیا۔ گوروں کی رتّی چڑھی ہوئی ہے۔ خدا سے لڑو۔ حکومت اس کی جس کے ہاتھ میں تلوار۔ کہتے نہیں کہ رانی کو رانا کانی کو کانا۔ دلّی اسی قابل رہ گئی تھی۔
اچھا جناب، تجھ کو پرائی کیا پری اپنی نبیڑ تو، بقولِ ذوق۔ یار تو کباب بیچتے ہیں جس کی زبان سو دفعہ کھجائے وہ ہمارے نخرے اٹھائے۔ ہاں صاحب آپ نے چونّی دی ہے! کیا عرض کروں۔ گلزار کی ٹولی کا ایک پرانا لمڈا آگیا تھا۔ چھوٹا منہ بڑی بات۔ بھلا کہو تو گدھی گھمار کی تجھے رام سے کیا کام، پڑھے لکھوں کی سی تقریر کرنے لگا۔ میں نے جو کس کر ذرا مزے لیے تو کہاں ٹکتا، نوک دم بھاگا۔ بھُس میں چنگی ڈال جمالو دور کھڑیں، لیجیے آپ کی واری ہے۔ کباب بھی ملائی ہیں۔ جگر تک سکے ہوئے۔ آپ تو تشریف لے جائیے، مجھے نہ جانے ابھی کب تک بکواس لگی رہے گی۔
میرا تو پوچھنا ہی کیا۔ گھمّی صاحب کے کبابوں اور ان کی چٹپٹی باتوں کا عاشق تھا۔ رات بھر ہوجاتی تو بھی وہاں سے نہ ٹلتا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی بھی اڑیل بٹّو بنے ہوئے تھے۔ دکان سے کھسکے تو لیکن اوپری دل سے۔ تھوڑی دور آگے چل کر ان میں سے ایک حضرت بولے۔
”کیوں مسٹر ان طبّاخی کا نام کیا ہے؟ “
میں۔ گھمّی! پکڑوانے کا ارادہ تو نہیں؟
دوسرے صاحب۔ کیا بات کرتے ہو، نام پوچھنے میں بھی کچھ حرج ہے؟
میں۔ میں سمجھا شاید۔
تیسرے صاحب۔ (بات کاٹ کر) یہ کچھ پڑھا لکھا بھی ہے؟
میں۔ پڑھے لکھے کی ایک کہی۔ پڑھا لکھا ہوتا تو کباب بیچتا؟
پہلے۔ اور یہ اردو میں باتیں کر رہا تھا؟
میں۔ جی نہیں زرگری میں!
دوسرے صاحب۔ زرگری بھی کوئی زبان ہے؟
تیسرے صاحب۔ زرگر بولتے ہوں گے۔
میں۔ (ہنس کر) واہ! اسی برتے پرتتّا پانی۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔ بھائی دلّی کی اصلی بول چال یہی ہے۔
پہلے صاحب۔ اردو نہیں؟
میں۔ تم کیا سمجھے؟ سمجھوگے کیا خاک۔ تم نے، جسے اردو کہتے ہیں، پڑھی نہیں۔ لیکن اب دلّی میں ابھی اس زبان کے جاننے اور بولنے والے گنتی کے رہ گئے ہیں۔ پڑھے لکھوں میں کوئی جم ہی جم دکھائی دے گا۔
دوسرے صاحب۔ (اعتراضاً) تو یہ زبان جاہلوں کی زبان ٹھیری!
میں۔ یار تم تو اردو کے پورے رنگروٹ نکلے۔ میاں انقلاب کا اثر معاشرتی ہو یا علمی، پہلے بڑے گھرانوں، اونچے خاندانوں اور پڑھے لکھوں پر پڑا کرتا ہے۔ مدّتوں بعد کہیں ادنا طبقے والے اور جاہل متاثر ہوتے ہیں۔ دلّی کی کایا پلٹ ہوئی تو اس کی ہر چیز پر گردش آگئی۔ پردیسیوں سے میل جول بڑھا۔ مدرسوں میں نئی تعلیم کا سلسلہ جاری ہوا۔ پرانی بولیاں بولی جاتیں تو کون سمجھتا۔ سادگی اختیار کی اور رفتہ رفتہ اردو ایک نئے قالب میں ڈھل کر رہ گئی۔ پڑھے لکھے تو کتاب کے محتاج ہوتے ہیں، جیسا پڑھتے ویسا بولتے لیکن چھوٹی امت، ان پڑھ جوں کی توں اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ نہ باپ دادا کے طریق ان سے چھوٹیں نہ مادری زبان۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

