گھمی کبابی: اشرف صبوحی


جان کو آگئے۔ ”میاں تم نے مجھے کیا کوئی گنوار سمجھا ہے۔ میں نے کوئی گھامڑوں میں عمر گزاری ہے۔ واہ صاحب واہ، اچھی قدردانی کی، کیا کہنے آپ کی سمجھ کے۔ میاں دلّی رہ کر بھاڑ نہیں جھونکا ہے۔ کباب بیچے ہیں کباب اور وہ بھی جامع مسجد تلے جہاں ایک سے ایک تانا شاہی مزاج کا آدمی آتا ہے۔ بڑے سے بڑے اور اچھے سے اچھے لوگوں کو بھگتا ہے۔ خوب حضرت خوب کیا بغیر تاگے نکالے کابیوں میں لگادیتا۔ ہت تیری قسمت کی ایسی تیسی۔ نہیں میاں یہ وقت کی خوبی ہے۔ گھمّی چالیس برس کا کبابی اور اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کبابوں میں سے تاگے نکال دیے۔ اچھا میاں اچھا۔ “

میاں گھمّی بڑبڑاتے رہے اور میں نے آکر نوکروں کو بھیج دیا کہ کبابوں کی رکابیاں اٹھالائیں اور دسترخوان پر چن دیں۔ کھانا شروع ہوا۔ کم بختی جو آئی میں نے میاں گھمّی کی تعریف اور کھانوں میں سب سے پہلے کباب پیش کیے۔ کچھ تو کباب کے ذائقے نے سارے کھانوں کا منھ ماردیا، جس نے اس کا ایک لقمہ کھالیا اس نے دوسرے کسی کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا۔ چند منٹ نہ گزرے تھے کہ کبابوں کی ساری پلیٹیں صاف۔ اتنے میں پچیس تیس سیخیں اور تیار ہوگئیں تھیں وہ آئیں اور تکاّبوٹی ہوگئیں۔

اب تو یہ عالم ہوگیا کہ ادھر کباب آئے اور ادھر غائب۔ آنے میں دیر ہوئی تو پھبتیاں کسی جائیں۔ یہ مہذّب شہدے تعلیم یافتہ لُنگارے کسی کے روکے کب رکے تھے اٹھ اٹھ کر دوڑنے لگے۔ جو جاتا تھا میاں گھمّی سے کباب لے آتا تھا اور دسترخوان پر آتے ہی چھینا جھپٹی ہوتی تھی۔ جب معاملہ اس سے بھی گزرگیا اور کباب تیار نہ ملے تو جو جاتا میاں گھمّی اس سے کہہ دیتے ”حضرت رکابی چھوڑ جائے کباب سک جائیں تو آکر لے جائیے گا۔

” رکابیاں چھوڑ دی گئیں اور انتظار ہونے لگا۔ اب ایک جاتا“ میاں گھمّی کباب لاؤ۔ جواب ملتا ہے آپ کا ابھی نمبر نہیں۔ وہ لمبے سے عینک لگائے کھڑے ہیں، پہلے پلیٹ ان کی آئی ہے۔ دوسرا آتا ہے ”لاؤ بھئی ہمیں تو دو“، ”ارے میاں میں وار سے دوں گا۔ “ نمبر وار سنتے سنتے آخر جل گئے۔ سعید صاحب جو اس ساری پارٹی کے سرغنہ اور پورے جلاتن تھے بگڑ گئے مجھ سے کہنے لگے ”اشرف! یہ تمھارا کبابی آدمی ہے یا پیسے والا ٹرو۔ نمبر واردوں گا، نمبر واردوں گا کی رٹ لگارکھی ہے۔ کہیں میں چانٹا نہ مار بیٹھوں۔ ”

یہ سننا تھا کہ گھمّی کے تن بدن میں مرچیں لگ گئیں۔ غُلّہ سی آنکھیں نکال کر بولے۔ گھمّی کو چانٹا مارنے والا تو آج تک پیدا ہوا ہی نہیں۔ یہ سیتچہ بھی دیکھا ہے۔ آدمی کا پیٹ پھاڑ دیتاہے۔ تم جیسے انگریزوں کی بیٹ چاٹنے والے ہزاروں دیکھ ڈالے ہوں گے۔ ولایت والوں کی اترنیں کیا پہننے کو مل گئیں کہ اترا ہی گئے۔ ارے ذرا ان کنگلوں کی صورتیں تو کوئی دیکھے۔ پھر غصّے سے میری طرف مخاطب ہوئے۔ آپ نے یہ بہروپئے کہاں سے پکڑلائے ہیں۔ ایسے لٹیرے مہمان تو ہم نے کہیں دیکھے نہ سنے۔ کیوں جی ایسے ہی جنٹل مین ہوتے ہیں۔ “

ادھر میاں گھمّی پر بکواس کا دورہ پڑا ہوا تھا۔ ادھر بعض نوجوان بھی بگڑچلے۔ میں ڈرا کہیں گھمّی پر حملہ نہ ہوجائے اور وہ اپنی پھوہڑزبان کی پاداش میں واقعی پٹنے نہ لگے۔ ہنستا ہوا چہرہ بناکر ایک مصنوعی قہقہہ لگایا اور گھمّی سے کہا۔ ”واہ لونڈوں کے جھانسے میں آگئے۔ یہ تو تمھاری زبان کی بانگی دیکھتے تھے۔ لو چلو۔ اپنی بانی ختم کرو۔ کب تک ٹیسو اڑا رہے گا۔ جن جن صاحبوں کی رکابیاں رکھی ہیں۔ انھیں کباب دو۔ تم نے کباب ہی ایسے بنائے ہیں کہ منہ سے لگ کر چھوٹتے ہی نہیں۔ ”میری اس تقریر کا بھی ان پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ اور زیادہ سخت لہجے میں بولے۔ کس نے منع کیا ہے۔ نمبر وار آئیں اور لے جائیں۔ بے نمبر تو میں لاٹ صاحب کو بھی دینے والا نہیں، یہ کس کھیت کی مولی ہیں۔ رفع شر کی غرض سے میں نے کسی قدر لجاحت سے کہا میاں گھمّی یہ تمھاری دکان تو نہیں ہے جہاں تم نے نمبر کی شرط لگارکھی ہے۔ یہ تو ہمارا مکان ہے یہاں پہلے اور پیچھے آنے والے کا کیا سوال۔ یہ گاہک تو نہیں کہ برامانیں گے۔ آؤ غصے کو تھوک دو اور کباب دو۔ لیکن گھمّی ہیں کہ اپنی ضد سے ایک انچ ہٹنا نہیں چاہتے۔ جواب دیا۔ میاں مکان ہودکان ہو یا آسمان ہو اپنی عادت کیوں بگاڑوں۔ پرائے شگون کے لیے ناک کٹوانا مجھے نہیں آتا۔ اگر آپ کو ان کی ایسی ہی خاطر منظور ہے تو آئیے بسم اللہ کباب لگائیے اور جس طرح جی چاہے دیجیے۔ گھمّی تو اپنے ہاتھ سے دے گا، نمبر وار ہی دے گا۔ یہ کہتے کہتے میاں گھمّی کھڑے ہوگئے۔

اور تولیہ کندھے پر ڈال چلے۔ میں نے ہر چند سمجھایا، پھسلایا۔ ٹھوڑیوں میں ہاتھ دیے لیکن ان پر بھوت سوار ہوگیا تھا۔ ادھر یہ خیال کہ دعوت میں کھنڈت پڑہی چکی ہے۔ خدا نہ خواستہ کوئی اور حرکت نہ ہوجائے۔ حماقت کی شرارت سے ٹکر ہوئی تو غضب ہی ہوجائے گا۔ اس لیے گھمّی کو جانے دیا۔ لوگوں نے دور تک انھیں شور مچاتے سنا۔ گویا ریل کا انجن تھا کہ اکیلا دھواں چھوڑتا چیختا چلاجاتا ہے۔ اور میں دل ہی دل میں اپنے اوپر ملامت کرتا رہا۔ آج بھی جب کبھی یہ واقعہ یاد آجاتا ہے تو اپنی بیوقوفی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔

 

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4