آفت جو خدا کے قریب کر دے رحمت ہوتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس نے جس طرح دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے. یورپ اور امریکہ جس طرح اس وائرس کے سامنے بے بس نظر آ رہے ہیں. بڑے بڑے بادشاہ اور حکمران اس وائرس کا شکار ہو کر گھروں میں نظر بند ہیں.دُنیا کی تقریباً سات ارب آبادی ایک خوف.وہشت اور بے چارگی کی تصویر بنی گھروں میں دبکنے پر مجبور ہے۔

پوری دُنیا خصوصاً ترقی یافتہ ممالک اس بیماری سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہے. مگر ابھی تک کوئی کوشش بار آور نہ ہو رہی ہے. یہ کرونا وائرس کس قدر تباہی کرے گا کس قدر اموات کا باعث بنے گا. اسکا حتمی تعین کرنا ممکن نہ ہے. البتہ اس کرونا وائرس کے پھیلاؤ. اسکے اثرات.اور اسکی وحشت کےپیش نظر معاشرہ میں جو افراتفری پھیلی ہے. لوگ جس طرح گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں. کاروبار زندگی تھم چکا ہے. ایک  تلاطم خیز سوسائٹی جہاں مصروفیت کا یہ عالم تھا کہ ” ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو اپنی خبر بھی نہیں آتی” پر پہنچ چکا تھا. یکدم بریک لگ گئ ہے۔

بزنس. تجارت برُی طرح متاثر ہوئے ہیں. روزگار زندگی درہم برہم ہے. کاروباری. مزدور پیشہ.دیہاڑی دار. رہیڑی اور چھابڑی والا. چھوٹا دکاندار سب پسِ کر رہ گئے ہیں.متوسطّ طبقہ اور اُس سے ذرا اُونچا طبقہ گھروں میں قید ہے. ان حالات میں انسانی معاشرتی رویّے بدلتے نظر آ رہے ہیں۔

جو مرد حضرات  صبح اپنی ڈیوٹی پر یا مزدوری پر نکلتےتھے. وہ گھروں میں دبک کر بیٹھے ہیں عرصہ دراز کے بعد لوگ اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنے پر مجبور ہیں. جو لوگ اس طرح کی چھٹیاں تفریحی مقامات یا پہاڑی علاقوں میں گزارنے کو ترجیح دیتےتھے. بالکل بےبس ہو کر گھروں میں دبکے پڑے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جگت بازی کا سلسلہ  جاری ہے.مگر اسکے ساتھ ساتھ لوگوں کی ایک بڑی تعداد خالقِ کائنات کی طرف رجوع کرنے پر بھی مجبور ہیں. لوگ توبہ استغفار کر رہے ہیں. عبادات میں دلجمی سے دلچسپی لے رہے ہیں. ایسی آفت یا مصیبت جو لوگوں کو   اللّہ کے  قریب کر دے وہ عذاب نہیں ہوتی رحمت ہوتی ہے۔

لہذا یہ کرونا وائرس انشاءاللّہ چند ہفتوں تک اپنے انمٹ نقوش چھوڑ کر چلا جائے گا. مگر یہ معاشرہ اسکے بعد کافی حد تک بدل چکا ہوگا. جو ترقی یافتہ ممالک اپنی رعونت اور گھمنڈ کی وجہ سے اپنے آپ کو اعلٰی و ارفع مخلوق سمجھتے تھے. کرونا وائرس کی وجہ سے اُنکا یہ سارا گھمنڈ اور رعونت زمین بوس ہو چکی ہے. وہ روزانہ موت کا رقص بے بسی سے دیکھ رہے ہیں. اسی طرح انفرادی رویّے بھی تبدیل ہوئے ہیں. اور ابھی مزید ہوں گے.

سڑکوں پر جہاں  بے روزگار اور راشن کے طالب نظر آ رہے ہیں۔ تو بے شمار مخیر لوگ راشن کے ڈبے اور نقدی تقسیم کرتے بھی موجود ہیں۔ معاشرہ ازخود  حرکت میں آ چکا ہے۔ حکومت کیا کر رہی ہے۔ اسے کیا کرنا چاہیے۔ اپوزیشن کا کیا رول ہونا چاہیے یہ با تیں اس وقت غیر متعلقہ نظر آرہی ہیں۔ یہ ساری باتیں بعد کے وقت کے لیے اٹھا رکھی جانی چاہئیں ۔

سردست پوری قوم کو متحد ہو کر اخلاص کے ساتھ، دیانت کے ساتھ متحرک ہو کر رو بہ عمل آنا ہے کہ قومیں بحرانوں میں ہی اپنا وجود ثابت کرتی ہیں۔ اللہ تعالی پر توکل اور ساتھ عملی طور پر انسانیت کی مدد یہ  ہی اس بحران  کا سبق ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور ضروریات ذندگی کی مصنوعی قلت کرکے منافع کمایا جا سکتا ہے۔ اور کچھ لوگ اس مکروہ کھیل میں شامل بھی ہیں۔ مگر یہ سب ادھر ہی رھ جاے گا۔

کرونا وائرس کوئی عہدہ، برادری، شعبہ، مزہب نہیں دیکھ رہا۔ اسلئے اب معاشرتی رویے بدلنے کی ضرورت ہے۔ سوشل ڈسٹنسنگ، حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند رہنا۔ انسانیت کی بقا کے لیے کوشاں رہنا، ایثار و قربانی کا جذبہ نمایاں ہونا۔ ضرورت مندوں کی مدد کرنا۔ یہ سب نئے معاشرتی رویے ہیں۔ اس بحران   میں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف نے جس جرأت اور جواں مردی سے ہر اول دستہ کا کردار ادا کیا ہے. لائق تحسین ہے.  اور واقعتاً محکمہ طبّ سے منسلک لوگوں نے جرأت . بہادری اور ایثار قربانی اور فرائض کی لگن کی ایک نئ تاریخ رقم کی ہے. اپنی جان کو سو فیصد خطرہ میں ڈال کر دوسروں کی زندگیاں بچانا ہمارے معاشرتی رویّے کی ایک نئ جُہت ہے.

ہماری فوج اور پولیس کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے. فوج تو ایسے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ تیار ہوتی ہے. اور اُنکی ٹرنینگ بھی کرائی جاتی ہے. مگر اس بار تو پولیس نے بھی کمال کر دیا. سادہ سی بات ہے. کہ جو شخص بھی باہر کھڑا ڈیوٹی کر رہا ہے. وہ اس جان لیوا وائرس کے سامنے ایکسپوز ہو رہا ہے. لہذا یہ جرأت. بہادری کی داستانیں ہیں. انہیں سراہا جانا چاہیے

کرونا وائرس کے اختتام پر اگر ایک بہتر. شائستہ. ہمدرد. ایثار قربانی کی عملی شکل . صحت و صفائی کے اعلٰی معیار پر قائم ایک ڈسپلنڈ معاشرہ جنم پذیر ہوتا ہے. تو پھر یہ گھاٹے کا سودا نہیں.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply