یہ جنگ نہیں، وبا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملکوں میں جنگ چھڑ جائے تو جہاں توپ و تفنگ، اسلحہ و بارود، بمباری اور میزائل پھینکنے سے جنگ لڑی جاتی ہے وہاں دشمن ملک ایک دوسرے کے خلاف نفسیاتی جنگ بھی لڑتے ہیں جس کا موثر ترین ہتھیار پروپیگنڈہ ہوتا ہے یعنی اطلاعات پھیلانا۔ جنگ میں چونکہ ناجائز بھی جائز ہوتا ہے چنانچہ یہ اطلاعات عموماً جھوٹی ہوتی ہیں۔ اپنے مسائل اور مصائب کو کم کرکے اور دشمن ملک کے مسائل اور مصائب کو زیادہ کرکے بتایا جاتا ہے۔ دشمن ملک میں لوگوں کا حوصلہ پست کرنے اور وہاں مقتدر افراد اور اداروں پر ان کا اعتماد متزلزل کرنے کی خاطر مبنی پر مبالغہ آرائی باتیں بتائی جاتی ہیں۔ ہر ایک ملک خود کو مدمقابل ملک سے زیادہ قوی اور محفوظ ظاہر کرتا ہے۔

ایسا کرنا ہوتا ہے کیونکہ جنگ محض افواج کی تعداد، طاقت، جذبہ، ہتھیاروں، استعداد پر نہیں لڑی جاتی بلکہ ہر محاذ پر لڑنی ہوتی ہے جس میں معیشت اور معاشرت اہم ترین ہوتے ہیں۔ اگر لوگ حوصلہ ہار جائیں اور دشمن ملک کے پروپیگنڈے کو سچ مان کر ہاتھ پیر چھوڑ بیٹھیں یا ان کی حب الوطنی متزلزل ہونے لگے تو فوج بھی کچھ نہیں کر سکتی۔

مگر وبا جنگ نہیں ہوا کرتی اگرچہ اس سے بچنے اور اس کے مہلک پن سے کم سے کم متاثر ہونے کے لیے لڑتا جنگی پیمانے پر ہی پڑتا ہے مگر دکھائی نہ دینے والے اور لوگوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کی بجائے ان کو پچھاڑنے والے دشمن کے خلاف پروپیگنڈہ کیا بھی جائے تو کیا کیا جائے کہ یہ بہت کمزور ہے، یہ گرمی کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ اسے مضبوط حفظان صحت کے بغیر محض خواہش کے اظہار جسے آپ دعا کہہ لیں، سے شکست دی جا سکتی ہے۔

مگر پاکستان میں ایسا بھی کیا جا رہا ہے جیسے کچھ روز پہلے پاکستان کے ایک ”جیّد“ کالم نگار نے، جن کا لکھا پڑھنے والے اور ان کے کہے کو مستند جاننے والے بھی بہت ہیں، مثالیں دیں کی دنیا میں ہر سال مختلف امراض اور ٹریفک کے حادثات میں لاکھوں لوگ مر جاتے ہیں جبکہ اس وبا سے تو ابھی ہزاروں مرے ہیں۔

درست کہ دنیا میں ٹریفک حادثات میں ہر سال 1000000 سے زائد افراد مرتے ہیں۔ ہم فرض کر لیتے کہ یہ تعداد 1200000 افراد ہوگی۔ ہم سمجھنے کی غرض سے ان 1200000 اموات کو دنیا کے اتنے ہی ملکوں میں جہاں کورونا وائرس سے ہونے والی مرض وبا کی شکل میں پھیلی ہوئی ہے یعنی دو سو ملکوں میں برابر برابر تقسیم کر دیتے ہیں یعنی 6000 افراد فی ملک۔ ہمارے مفروضے کے مطابق یہ تعداد کسی ایک ملک میں ایک سال میں ہوئے ٹریفک حادثات کے باعث مرنے والوں کی ہے مطلب ہر ماہ میں 500 اموات۔

لیکن اگر کسی ملک میں ایک ماہ میں یہ اموات دس گنا ہو جائیں یعنی 5000 تو اس کا مطلب ہوگا، یا تو بہت زیادہ ڈرائیور بے تحاشا شراب پی کر گاڑیاں چلانے لگے ہیں یا یہ کہ لوگ ٹریفک کے اصولوں کی بالکل پروا نہیں کر رہے یا یہ کہ سڑکیں اتنی خراب یا پیچیدہ ہو گئی ہیں کہ گاڑیاں بلاوجہ بے قابو ہو جاتی ہیں یا یہ کہ گاڑیوں کی بریکوں میں خرابی ہو گئی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ کچھ تو ہے جو غلط ہو گیا ہے۔ چنانچہ کسی ملک میں یک لخت اموات کا بڑھ جانا بلاوجہ نہیں ہوا کرتا۔

دوسرا پروپیگنڈہ یہ کیا جا رہا ہے کہ یورپی ملکوں میں بیشتر اموات معمر افراد کی ہو رہی ہیں۔ وہاں اینٹی بائیوٹکس کا استعمال زیادہ ہے جس کی وجہ سے وائرس کے سبب کمزور ہوئے مدافعتی نظام کی وجہ سے جو بیکٹیریا انسانی اعضا کو متاثر کرتے ہیں ان میں ادویہ کے خلاف مزاحمت بڑھ گئی ہے۔ بوڑھوں میں دل و جگر، پھیپھڑوں کی امراض پہلے ہی زیادہ ہیں۔

یہ ساری باتیں درست مگر اتنے زیادہ معمر لوگوں نے بھی کیوں مرنا شروع کر دیا کہ ملکوں ملکوں کے علاج معالجے کے بہترین انتظامات درہم برہم ہو گئے؟ وینٹی لیٹر پہلے بھی تھے مگر اب وہ اتنے کم یوں پڑ گئے؟ تدفین سے لوگوں کو دور کیوں رکھا جانے لگا، مخصوص ملبوس میں ٹیمیں ہی کیوں تدفین پر مامور کرنی پڑیں؟ کیا دنیا بھر کے رہنما اور ماہرین طب دیوانے ہو گئے ہیں کیا کہ وہ بے بسی ظاہر کرنے لگے ہیں؟

کورونا وائرس تو بہت پہلے سے ہے اور اس کی بیسیوں اقسام ہیں مگر اس بار جو وائرس پھیلا ہے یہ اپنی صنف میں نہ صرف بالکل نیا ہے بلکہ کئی اعتبار سے متحیر کن بھی ہے جیسے یہ کہ اس سے متاثر لوگ صحت یاب ہوئے اور حیرت انگیز طور پر انتہائی کم مدت بعد پھر سے اس کا شکار ہو گئے یا یہ کہ چودہ روز کے بعد بھی یہ بعض جگہوں پر موجود پایا گیا، نہ صرف فعال اور مستعد بلکہ پہلے ہی کی طرح مہلک بھی۔

ہمارا میڈیا بھی غلط پروپیگنڈہ کرنے میں کچھ کم نہیں۔ چلو دعاؤں، پھونکوں سے علاج کے دعوے اپنی جگہ مگر حد تو تب ہوئی جب ایک چینل نے روس سے آئے ایک کم پڑھے شخص کو ڈاکٹر اور سائنسدان کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس کے اس دعوے کا پروپیگنڈہ کیا کہ اس نے کورونا سے ہونے والی مرض کی دوا ایجاد کر لی ہے۔

یہ شخص 1990 کی دہائی میں ماسکو کے مرکز میں کرنسی تبدیل کرنے کا غیر قانونی دھندہ کرتا تھا۔ پھر اس نے ایجنٹی شروع کی یعنی ہیومن سمگلر رہا۔ پھر بیس برس بعد معلوم ہوا کہ یہ ڈاکٹر بھی ہے اور موجد بھی۔ پوچھا تمہاری ادویہ کس قسم کی ہیں؟ بولا منرل ہیں۔ پوچھا تم جیولوجسٹ ہو؟ بولا ایسے ہی سمجھ لیں۔ اتفاق سے یہ بات ایک دعوت میں ہوئی جہاں پاکستان ایمبیسی کے ایک کونسلر بھی تشریف فرما تھے جنہوں نے بی فارمیسی کی ہوئی تھی۔ یہ ان کی بھی کسی بات کا مناسب جواب نہ دے پایا یوں اندازہ ہو گیا کہ بھائی عطائی ہے۔ ماسکو میں سارے پاکستانی جانتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر نہیں۔

یلسن کے دور میں جب بہت سے جعلی انسٹیٹیوٹ اور اکیڈمیاں بن گئی تھیں، اس نے بھی ان میں سے کسی سے سند لے لی ہوگی۔ شاید کچھ یونانی ادویہ ہیں جو اس نے توہم پرست روسیوں میں چلا دیں اور خوب پیسہ بنا لیا مگر ٹی وی چینل پر بیٹھا Lungs کو Langs کہہ رہا تھا اور وائرس کو بکٹیریا یعنی بیکٹیریا بھی نہیں۔

خیر کیا کیا جائے ہمارے ہاں تو حامد میر جیسے اینکر پرسن بھی پانی سے کار چلانے والے کو حقیقی سمجھ کر اپنے پروگرام میں لے آتے ہیں مگر ایسے وقت میں جب انسانوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوں ایسے جعل ساز کو جس کی دوا دیواروں پر بھی چھڑکی جا سکتی ہو، ناک میں بھی ڈالی جا سکتی ہو اور بھاپ کے ذریعے پھیپھڑوں میں بھی کارگر ہوتی ہو سامنے لانا مجرمانہ فعل ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “یہ جنگ نہیں، وبا ہے

  • 02/04/2020 at 11:48 am
    Permalink

    After your column I saw the video on youtube. The best treatment of such people is to hand them over to area SHO. After an hour visit of “Guest House” he will start saying the whole truth and nothing but truth.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *