انسانی المیے سے بچنے کے لیے آمرانہ فیصلے ضروری ہوتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا بیماری نے جہاں انسانی لائف سٹائل کو ہلاکر رکھ دیا ہے وہیں کچھ انسانی فلسفے کے دعوؤں کا پول بھی کھل گیا ہے۔ مثال کے طور پر جمہوریت کو عوام کی خدمت کا درست طریقہ کہا جاتا تھا لیکن کورونا بیماری کے خلاف جنگ میں جمہوریت ناکام ہوگئی۔ وہ ایسے کہ کورونا کی روک تھام اور پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے جمہوری طریقہ کار کی بجائے آمرانہ اصولوں کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔ آئیے اس حیران کن نئے نکتے کی تشریح کو سمجھنے کے لیے درج ذیل تجزیاتی بحث کرتے ہیں۔

کورونا کی بیماری کا بظاہر آغاز دسمبر 2019 ء میں چین سے ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس بیماری کی ہلاکت خیزی دنیا پر عیاں ہوگئی۔ اُس وقت کئی اہم مبصروں کا خیال تھا کہ یہ وباء چین کو لے ڈوبے گی لیکن صرف تین ماہ کے اندر یعنی مارچ 2020 ء تک چین نے نہ صرف اس موذی مرض پر قابو پالیا بلکہ نئے مریضوں کی تعداد بھی صفر کردی۔ چین ایک غیرجمہوری ملک ہے۔ اس کے حکومتی فیصلوں پر عوام کو لازمی عمل کرنا ہوتا ہے۔ وہاں عوام کی اجتماعی رائے سے زیادہ تحقیق اور سنجیدگی سے کیے گئے فیصلوں کو قانونی شکل دی جاتی ہے۔

کورونا کی صورتحال کے دوران بھی چین نے مطلق العنان فیصلہ کرتے ہوئے کورونا سے متاثر آبادیوں کو تمام جمہوری شہری حقوق سے محروم کردیا۔ لوگوں کا آزادنہ گھومنا پھرنا، ملنا جلنا یا شاپنگ وغیرہ کرنا قانوناً منع ہوگیا۔ یہاں تک کہ متاثرہ آبادی کے لوگوں کو اجتماعی قید کی صورتحال میں رہنا پڑا۔ اگر کوئی چینی باشندہ انسانی جبلی تقاضے کو بلند کرتے ہوئے حکومت چین کے اِن اقدامات کے خلاف ہلکی سی بھی آواز نکالتا تو اسے سخت انجام سے دوچار ہونا پڑتا۔

چین کے ان غیرجمہوری اقدامات پر جمہوری مغربی ملکوں میں اعتراضات ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کورونا بیماری کے دوران بھی اپنی عوام کے ساتھ غیرانسانی سلوک کررہا ہے۔ اس حوالے سے پراپیگنڈے کی کئی فیک وڈیوز بھی وائرل ہوئیں جن میں کورونا مریض کو چینی فائرنگ سکواڈ گولیوں سے اڑاتا دکھایا گیا یا چین میں کورونا کے مریضوں کو جلا دیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ چین کے امیج کے خلاف ایسے ہی پیغامات اور فیک وڈیوز کا مقصد اس مشکل گھڑی میں چین کو اقوام عالم کے سامنے بدنام کرنا تھا۔

یہاں تک کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس خوفناک مرض کو چائنیز وائرس کہہ کر چین کا تمسخر اڑایا۔ دوسری طرف اس سارے معاملے کے دوران چینی حکام چپ چاپ اپنے کام میں لگے رہے اور اپنے سٹائل میں اس نئی بیماری کا مقابلہ کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری اولین ترجیح اپنی عوام کو محفوظ کرنا ہے۔ صرف تین مہینے بعد پوری دنیا ششدر رہ گئی اور دانتوں میں انگلیاں دباکر چین کی طرف دیکھنے لگی کیونکہ آخرکار چین نے اپنی اولین ترجیح حاصل کرلی اور اپنے عوام کو کورونا سے بہت حد تک محفوظ کرلیا خواہ اس کے لیے انہوں نے آمرانہ طریقہ ہی کیوں نہ استعمال کیا۔

وہی مغربی جمہوری معاشرے جو چین کے کورونا بیماری کنٹرول کرنے کے آمرانہ طریقے پر تنقید کررہے تھے چین کے ماڈل پر عمل کرنے پر مجبور ہوگئے۔ مثلاً اٹلی ایک جمہوری ملک ہے۔ ان کی حکومت نے عوام کو جمہوری انداز سے حکم دیا لیکن عوام نے اپنی آزادی کو اپنا حق سمجھا جس کے نتیجے میں کورونا بیماری نے اٹلی کے اندر لاشوں کے ڈھیر لگا دیے۔ یہاں تک کہ اٹلی کے وزیراعظم کو اپنی تقریر کے دوران روتے ہوئے سب دنیا نے دیکھا۔

گویا جمہوری ملک کورونا سے جمہوری انداز میں لڑنے کی پاداش میں کورونا سے شکار ہونے والے دنیا کے ٹاپ ممالک بن گئے جبکہ چین کورونا کے خلاف آمرانہ طریقے سے لڑنے کی بنیاد پر اپنے شہریوں کو کورونا بیماری سے محفوظ کرگیا۔ اس کے بعد اٹلی سمیت مغربی ممالک نے بھی آمرانہ اصول اختیار کرتے ہوئے شہری آزادی کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، کینیڈا، ایران اور دیگر یورپی ممالک میں بھی لوگوں کو ڈائریکٹ فزیکل کونٹیکٹ سے روکا جانے لگا، سوشل ڈسٹنسنگ کا کہا گیا، شاپنگ سینٹرز اور بڑے بڑے مال سنسان ہوگئے۔

مختصریہ کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے چین کا شہری آزادی کو محدود کرکے لاک ڈاؤن کرنے کا آمرانہ اصول دنیا میں ایک رول ماڈل کی حیثیت اختیار کرگیا جس میں شہری آزادی کے بنیادی حقوق سے زیادہ عوام کو محفوظ بنانے کے لیے مطلق العنان فیصلوں کو لازمی قرار دیا گیا۔ امریکی وائٹ ہاؤس کو بھی لیجیے۔ صحافیوں سے ملاقات ہویا دوسرے اہم اجلاس، اب امریکی صدر پرانے جمہوری انداز سے میل ملاقات کی بجائے محدود اور کسی قدر آمرانہ سٹائل پر مخصوص پابندیوں کے تحت ملاقاتیں یا اجلاس کررہے ہیں۔

اس کے علاوہ امریکہ، کینیڈا سمیت مغربی جمہوری ممالک میں عام لوگوں میں خوف و ہراس، افراتفری اور شاپنگ سینٹرز میں مارکٹائی کے جو مناظر دیکھنے میں آئے وہ چین جیسے غیرجمہوری معاشرے میں نظر نہیں آئے۔ چین کے علاوہ دوسرے غیرجمہوری معاشروں کی بات کریں جن میں عرب ممالک اور روس وغیرہ شامل ہیں تو وہ بھی کورونا کی ہولناکی سے کسی قدر کم متاثر ہوئے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیرجمہوری ممالک میں میڈیا کنٹرول کی وجہ سے خبر باہر نہیں آتی کیونکہ آج کے دور میں کسی بڑی خبر کا پوشیدہ رہنا ناممکن ہے۔

پاکستان میں بھی کورونا بیماری سے نمٹنے کے لیے آخرکار غیرجمہوری اور آمرانہ طریقوں کو ہی اپنایا گیا۔ مثلاً لاک ڈاؤن شہری آزادی کو روک دیتا ہے۔ پیپلز پارٹی جو جمہوریت کی علمبردار ہے اس کی حکومت نے صوبہ سندھ میں سب سے پہلے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ بیشک موجودہ حالات میں عوام کی بھلائی کے لیے یہ ایک بہترین فیصلہ ہے لیکن جمہوری نہیں ہے۔ اسی طرح شاپنگ سینٹرز، شاپنگ مال اور تعلیمی اداروں وغیرہ کو بند کردینا غیرجمہوری اقدام ہے لیکن کورونا بیماری کی روک تھام کے لیے اچھے فیصلے ہیں، خواہ یہ آمرانہ اقدام ہی کیوں نہ ہوں۔

ملک کے دیگر حصوں میں بھی سندھ کی پیروی کی جارہی ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کی طرح پی ٹی آئی مکمل جمہوری جماعت نہیں ہے لیکن جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی یہ جماعت بھی بنیادی انسانی حقوق کو معطل کرکے آمرانہ اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کورونا کو شکست دینا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں جن میں پیپلز پارٹی، ن لیگ اور جماعت اسلامی وغیرہ شامل ہیں کورونا سے لڑنے کے لیے سب لاک ڈاؤن یعنی شہری آزادی کو محدود کرنے کے حق میں ہیں۔

سماجی و سیاسی اجتماعات اور دیگر سوشل گیدرنگز یہاں تک کہ شادی بیاہ کے فنکشنز پر بھی حکومت کی طرف سے پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایکسپو سینٹرز، یونیورسٹیز کے ہاسٹلز اور بڑے ہوٹلوں وغیرہ کو قرنطینہ ہسپتال میں تبدیل کرنے کا ارادہ ہے، سڑکوں پر ٹرانسپورٹ محدود کردی گئی ہے، کچھ ایئرپورٹس بند ہوگئے ہیں، انٹرنیشنل فضائی آپریشن روک دیا گیا ہے، ٹرینیں منسوخ کی جارہی ہیں، اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ دفعہ 144 کا نفاذ کردیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ جمہوریت میں سِول اداروں کی مدد کے لیے فوج کو بلانا کچھ اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن ملک میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سِول حکومت نے فوج سے مدد مانگ لی ہے۔ یہ سب اقدامات ایک شہری کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں اور جمہوریت ان کی اجازت نہیں دیتی لیکن انسانی المیے سے نمٹنے کے لیے جمہوری اقدار کو ایک طرف کرتے ہوئے آمرانہ فارمولے پر عمل کیا جارہا ہے۔ ان تمام دلائل کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانی فلاح و بہبود کے لیے بعض اوقات مطلق العنان فیصلے اور آمرانہ طریقہ کار ضروری ہوجاتا ہے۔ تو کیا انسانی معاشروں کو بچانے کے لیے مطلق العنان فیصلے اور آمرانہ طریقہ کار ہی نجات کا راستہ ہوتے ہیں؟

(عالی مرتبت، سید سردار پیرزادہ صاحب، آپ کی آزادی رائے کا پورا احترام کرتے ہوئے عرض کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کے جمہوری دستور کی شق 245 میں فوج کے دو فرائض بیان کئے گئے ہیں۔ ملک کی سرحدوں یعنی جغرافیائی سلامتی کا تحفظ کرنا اور ضرورت پڑنے سول حکومت کی درخواست پر اس کی مدد کرنا۔ چنانچہ آپ کی یہ رائے دستوری طور پر محل نظر ہے کہ “جمہوریت میں سِول اداروں کی مدد کے لیے فوج کو بلانا کچھ اچھا نہیں سمجھا جاتا”۔ ایسا کرنا تو جمہوری دستور کے عین مطابق فوج کا فرض ہے اور قطعی طور پر غیر جمہوری نہیں۔ البتہ کسی فرد یا گروہ کی طرف سے فوج کو دستوری حکومت کی حکم عدولی کرتے ہوئے حکومت سنبھالنے کی دعوت دینا یا فوج کی طرف سے از خود دستور کے تسلسل میں خلل اندازی کرتے ہوئے کسی منتخب حکومت کو معزول کرنا بالکل غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر قانونی جرم ہے۔ اور اس جرم کی سزا دستور کی شق چھ میں بیان کی گئی ہے۔ مجھے آپ کی تحریر کے بنیادی مقدمے سے اختلاف ہے لیکن وہ ایک الگ بحث ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ رائے کا پرامن اختلاف مہذب معاشرے کو مضبوط بناتا ہے۔ و-مسعود)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *