کھلا خط بنام صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جناب والا!

اس وقت پوری دنیا ایک وبا کی لپیٹ میں ہے۔ اس سے نمٹنے کا واحد ذریعہ گھروں میں رہنا قرار پا چکا ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں دفاتر تک رسائی ناممکن ہے آپ کی توجہ بذریعہ کھلا خط ایک اہم اور حل طلب مسئلے کی جانب لے جانا چاہوں گا۔

جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ موجودہ وبا سے قبل 2013 کو آواران کو ایک بڑے قدرتی آفت کا زلزلے کی شکل میں سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس آفت کے نتیجے میں سیکڑوں جانی چلی گئی تھیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔ اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے دیگر صوبے، ادارے اور مخیر افراد میدان میں آ گئے تھے۔ اس موقع پر پنجاب حکومت کی جانب سے آواران اور کیچ کے متاثرہ علاقوں کے نوجوانوں کے لیے ایک اہم پیکج کا اعلان کیا گیا اس پیکج کے تحت دونوں اضلاع سے 550 افراد کو انٹرن شپ فراہم کیا گیا۔ یہ سلسلہ تین سال تک چلتا رہا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے جونہی تین سالہ پیکج ختم ہوا تو مذکورہ نوجوان ایک بار پھر سے بے روزگاری کے دلدل میں آگئے۔ جنہوں نے بحالی کے لیے آواز اٹھانا شروع کیا۔ حکومت کا دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا۔ ان کی یہ مہم جوئی رنگ لے آئی۔ موجودہ حکومت نے 550 کے بجائے ان 335 انٹرنیز کی بحالی کے احکامات جاری کیے جو محکمہ تعلیم میں فرائض انجام دے رہے تھے ان کی مدت میں دو سالہ توسیع کر کے 22 فروری 2020 کو ان کے حق میں جولائی 2019 سے لے کر جون 2020 تک کا ایک سالہ بجٹ جاری کر دیا جو ضلعی ایجوکیشن افسر آواران کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا جا چکا ہے۔

بجائے یہ کہ بجٹ اجرا کے فوراً بعد ضلعی ایجوکیشن افسر اور ایچ آر اے انتظامیہ انٹرنیز اساتذہ کو بحالی کے آرڈر جاری کرکے ان کے حق میں تنخواہیں جاری کر تے جن کی فہرست اور بنک اکاؤنٹس پہلے سے ایچ آر اے انتظامیہ کے پاس موجود تھے وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ اور معاملے کو طول دیتے رہے۔ اب مختلف ذرائع سے خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ ایک اور کمیٹی عمل میں لائی گئی ہے جو از سر نو ٹیسٹ و انٹرویو منعقد کرکے ازسرنو تعیناتیاں کریں گے۔

جناب والا۔

اگر ایسا کیا جاتا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس طریقہ کار سے ان نوجوانوں کی حق تلفی ہوگی جن کی تعیناتیاں پہلے سے ہی ٹیسٹ و انٹرویوز کی بنیاد پر عمل میں لائی جا چکی ہے۔ موجودہ عمل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ موجودہ ضلعی افسر اور نئی کمیٹی اپنے من پسند افراد کو تعینات کرکے انٹرنیز اساتذہ کے حقوق پر شب خون مارنے کا خواہاں ہے۔

جناب والا۔

اس وقت پوری دنیا ایک وبا کی لپیٹ میں ہے۔ اس وبا سے نمنٹنے کے لیے پوری دنیا جہاں گھر بیٹھ کر اس کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ انٹرنیز اساتذہ کو بروقت بحالی کے آرڈرز اور تنخواہوں کا اجرا نہ کرکے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کیا جا چکا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ذمہ داران کا موجودہ فعل بدنیتی پر مبنی ہے۔

ہم اس خط کے ذریعے سے انٹرنیز اساتذہ کی آواز آپ تک پہنچنا چاہ رہے ہیں ہمیں امید ہے کہ آپ جناب انٹرنیز کی فوری بحالی کے لیے اقدامات اٹھائیں گے اور غفلت برتنے پر ضلعی ایجوکیشن افسر آواران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائیں گے۔ اور ایسے کسی بھی عمل کی حوصلہ شکنی کریں گے جو مذکورہ انٹرنیز کو ان کی ملازمت سے محروم کرنے کا سبب بن جائے۔

ہم آپ جناب کی جانب سے کارروائی کے منتظر ہیں۔

والسلام

شبیر رخشانی

آرگنائزر۔ بلوچستان ایجوکیشن سسٹم

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *