عبدالقادر جونیجو چھوٹی سی دنیا چھوڑ چلا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں ہی جب تھوڑا ہوش سنبھالا تو میرے والد اور والدہ جب ڈراموں اور فلموں کا تذکرہ کرتے تو یہ بات ضرور سننے کو ملتی کہ ڈرامہ ہو تو ”چھوٹی سی دنیا“، کے جیسا۔ کیونکہ یہی تو وہ ڈراما تھا جس میں ایک بہتر انداز سے سندھ کی دیہاتی زندگی کو پیش کیا گیا تھا۔ میں اپنے کھیل کود میں مصروف بس یہ بڑی حسرت سے سوچتی تھی کہ، کاش میرا جنم بھی کچھ سال پہلے میری بہن کے بدلے ہو جاتا تو یہ ڈرامہ دیکھ لیتی، اور امی ابو کی باتیں سن کر یہ تجسس نہ ہوتا۔

میں اکثر اوقات سوچتی تھی کہ، پتا نہیں ایسا کیا خاص اس ڈرامے میں تھا، جو امی ابو دونوں کو پسند آیا؟ ساتھ ہی یہ خیال آتا تھا کہ اس ڈرمے کا لکھاری پتا نہیں کون سا بڑا آدمی، محل نما گھر میں رہنے والا شخص ہو گا، جس کا ڈرامہ اس وقت کے واحد پاکستانی ٹی وی چینل پی ٹی وی پر نشر ہو رہا تھا، ہائے کتنا خوش قسمت ہوگا وہ انسان!

پر جب عمر کا سورج پروان چڑھا اور مزید دھوپ ذہن میں گھولنے لگا، بچپن جوانی میں تبدیل ہوا، ادب کے طرف تھوڑا رجحان ہوا تو یہ بات علم میں آئی کہ ”چھوٹی سی دنیا“ ڈرامے کا لکھاری کوئی بڑا ہی رئیس، کوئی طلسماتی شخصیت رکھتا، محل نما گھر میں رہتا شخص نہیں، بلکہ یہ تو سندھ کے ریگستانی علاقے تھرپارکر میں جنم لینے والا، نہایت ہی سادہ سا، اور با اخلاق عبدالقادر جونیجو ہے۔ پھر جا کے معلوم ہوا کہ وہ صرف اردو نہیں سندھی ڈرامہ نگار بھی ہے، وہ کہانیاں بھی لکھتا ہے، افسانے بھی اس کے مقبول ہیں، حالت حاضرہ پہ کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ، مترجم اور ناول نویس بھی ہے۔

پھر تو اس کہ لیے دل میں عزت اور احترام اور بھی بڑھ گیا۔ پھر تو یہ بھی معلوم پڑا کہ اس کے مشہور ڈرامے ”چھوٹی سی دنیا“ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ، نامور جرمن انتھراپالاجسٹ ڈاکٹر ہیلن باسو ( Dr۔ Hellene Basu) فری یونیورسٹی برلن میں اس پہ تھیسز بھی لکھ چکی ہے، جس کا انگریزی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ جونیجو صاحب کی سندھی میں لکھی کہانی ”رانی کی کہانی“ کو جب اردو میں ”دیواریں“ نام کے ڈرامہ سے ٹیلی کاسٹ کیا گیا تو، ہر طرف واہ واہ مچ گئی۔

اس کہانی کو اتنی شہرت ملی کہ یہ کہانی بی بی سی چینل 4 سے انگریزی میں نشر ہوئی۔ ادبی انعامات کی بھی جونیجو صاحب کی زندگی میں کوئی کمی نہیں تھی، پر اس کی چھوٹی سی دنیا میں غرور کا غبار اور تکبر کی تیز دھاڑ شامل نہ کر پائی۔ اس کے ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے پہلے سنہ 1989، اور دوسری مرتبہ سنہ 2008 کو پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا، جب کہ سنہ 2016 کو اسے لطیف ایوارڈ بھی دیا گیا۔ علاوہ ازیں بھی بہت سے انعامات و اعزازت جونیجو صاحب کے نام تھے۔ جونیجو صاحب اب تک 20 کتابیں لکھ چکے تھے، جب کہ دو کتابیں انگریزی میں تھیں۔

عبدالقادر جونیجو کو حالانکہ محمکہ پولیس میں اے ایس آئی کی پوسٹ پہ سنہ 1962 میں سیلیکٹ کیا گیا، پر مفلسی کی وجہ سے اس نے پڑھائی آدھے میں چھوڑ کر پرائمری ٹیچر بننا بہتر سمجھا۔ آپ سنہ 2005 میں سندھیالاجی میں پبلیکیشن آفسر مقرر ہوئے، پر جلد ہی ترقی پا کر ایڈیشنل ڈائریکٹر اور پھر ڈائریکٹر کے عہدے پہ فائز ہوئے۔ سنہ 2005 سے عبدالقادر جونیجو نے بطور چئیرمین سندھ لینگوئیج اتھارٹی کی بھی ذمے داریاں بخوبی نبھائیں۔

پیار، محبت، عشق کہ معاملے میں جونیجو بانو قدسیہ کا جملہ دھراتے ہوئے کہتا تھا کہ ”مرد ڈیڑھ عشق کرتا ہے“۔

اس کی خود کی محبوبائیں بہت تھیں، کوئی چائنہ میں تو کوئی کینیڈا میں رہاش پذیر تھیں۔ ایک دفعہ جب ان سے ادبی دنیا میں قدم رکھنے کا سبب پوچھا گیا تو کہنے لگے : ”جب میں کتابیں پڑھتا تھا تو سوچتا تھا، یہ کتابیں آسمان سے اترے صحیفے تو نہیں ہیں، بلکہ لوگوں نے ہی لکھے ہیں۔ جب دوسرے لوگ لکھ سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں لکھ سکتا؟ اور پھر میں نے جو معاشرے میں دیکھا وہ کاغذوں میں درج کرتا گیا“۔

دو دن پہلے 30 مارچ پیر کے دن، سندھ کی یہ پچھتر سالہ عظیم ہستی راہ ربانی اختیار کر چلی، اور اپنے چاہنے والوں سے بہت دور کوچ کر گئی۔ 31 مارچ کو اسے تھرپارکر کے شہر مٹھی کے قریب ابائی گاؤں جنھان جونیجو میں اشکوں کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔

عبدالقادر جونیجو اپنی چھوٹی سی دنیا کو چھوڑ کر روانہ ہو گیا، پر وہ ہمیشہ اپنی کہانیوں میں، کہانیوں کے کرداروں میں زندہ رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *