عبدالقادر جونیجو: پنچھی اڑ گیا لیکن ہم اب بھی اس سے مل سکتے ہیں۔۔۔!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عبدالقادر جونیجو پر لکھنے کے لئے نہ ہی میں انسائیکلوپیڈیا سندھیانا اٹھا کر ان کا پروفائل پڑھوں گا اور نہ اپنی اسٹڈی میں موجود ان کتابیں نکال کر، ان کی تحریروں میں سے کچھ حوالے تلاش کرکے ثابت کرنے کی کوشش کروں گا کہ وہ کتنے بڑے لکھاری تھے۔ نہ ہی میں تحقیق کے نام پر کاپی پیسٹ کروں گا۔

بس تھوڑا سوچوں گا اور اپنے دل کے اندر ہی جھانکوں گا۔۔۔

کہاوت کے مطابق ہاتھ میں پہنے کنگن کے لئے آئینہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جونیجو صاحب ادبی لحاظ سے کتنی بڑی قد آور شخصیت کے مالک ہیں۔۔۔ میں یہاں تھے اس لئے نہیں لکھ رہا کہ، وہ اپنی تحریروں میں زندہ ہیں اور ہم جب چاہیں ان سے مل سکتے ہیں۔۔۔

صحرا کے اس سائیں نے تین زبانوں میں لکھا ہے اور اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔۔۔ سندھی اور اردو کے بعد انہوں نے انگریزی میں لکھنا شروع کیا تھا۔ ان کا ایک ناول The Dead River لاہور سے شائع ہوا اور ان کا دوسرا انگریزی ناول Rustics امریکہ میں اشاعت پذیر تھا کہ وہ۔۔۔۔

ایسے دنوں میں دور گئے ہیں کہ

ہم سب اپنے گھروں میں قید ہیں

ہم ہی قیدی اور ہم ہی اپنے جیلر ہیں۔۔۔

وبا کے ان دنوں میں بھی اپنی ذات کا قیدی ہوں۔۔۔

اور جاتے وقت جو پھول مجھے دینے تھے۔۔۔

وہ پھول کسی پودے کا بوجھ بن کر کملہا جائیں گے۔۔۔ اور کمہلائے ہوئے ان پھولوں کی پتیاں ہوا میں اڑ جائیں گی۔۔۔

اور میرے کندھے پر وہ اپنے آخری سفر کا بوجھ چھوڑ گئے ہیں۔۔۔ ایسا بوجھ ، جو کبھی میرے کندھے سے اتر نہ سکے گا۔۔۔

وہ میری پسند کے لکھاری تو تھے ہی لیکن ان سے میرا ذاتی تعلق بھی تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط تھا۔

ایک بار میں نے ان کے گھر جا کر کہا، “آج میں ایک نخرہ کرنے کرنے آیا ہوں۔”

مسکرا کر بولے، ” ذرا کر کے دکھا۔۔۔”

میں نے سندھی میں لکھے ہوئے اپنے ناول “سیتا زینب” کا مسودہ ان کے سامنے رکھ دیا۔ انہیں نے اٹھا کر دیکھا اور مسکرا کر بولے، “واہ ۔۔۔ ایسے نخرے پر تو میں تمہیں مبارک دیتا ہوں۔”

میں نے ہنس کر کہا، “اب اس نخرے کے بیک ٹائٹل کے لئے چند لائنیں بھی لکھ دیں۔”

کچھ دنوں بعد ان کا فون آیا تو میں ان کے گھر گیا۔ انہوں نے چند لائنوں کی بجائے ناول اور میرے بارے میں ایک آرٹیکل میرے ہاتھ میں تھما دیا۔

ان کا تعلق تو صحرائے تھر سے تھا لیکن رہتے دریائے سندھ کے کنارے جام شورو میں تھے اور دریا دل بھی تھے۔

بہت سے لوگ اس دنیا میں آتے ہیں اور دنیا کے دسترخوان پر اپنے حصے کا کھانا کھا کر چلے جاتے ہیں، لیکن کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جو اپنے حصے کا کام کرتے ہیں۔

عبدالقادر جونیجو نے اپنے حصے کا کام کیا اور ایسا کیا کہ وقت کی دھول ان کی تحریروں پر اثر انداز نہ ہو پائے گی۔

بے شک وہ اس دنیا سے گئے ہیں۔۔۔ لیکن جن لوگوں کا بسیرا دل میں ہوتا ہے وہ بھلا کب مرتے ہیں۔۔۔

ان کا ایک گھر صحرا میں تھا، دوسرا گھر دریا کے کنارے اور تیسرا گھر دلوں میں تھا۔ دلوں بسنے والے بھی کیا مر سکتے ہیں۔۔۔؟ میرے دل کا مکین میری دل کی دنیا میں زندہ ہے۔۔۔

میں جب چاہوں ان سے مل سکتا ہوں اور آپ کو بھی یہ نسخہ دے سکتا ہوں۔۔۔

آپ اگر ان سے ملنا چاہیں تو، اپنے پاس میسر ان کی کوئی بھی تحریر پڑھیں اور ان سے مل لیں۔

وہ میرے دوست نصیر مرزا سے جب بھی ملتے تھے، نصیر کو پکھی (پرندہ) کہتے تھے۔

میں تو جب بھی ان سے ملنا چاہوں گا، ان کی کوئی کتاب اٹھائوں گا تو ان کے پیار بھرے ہاتھوں کا لمس واپس آئے گا، میرے ہاتھوں میں۔۔۔ اور جب کتاب کھولوں گا تو۔۔۔ کتاب میرے لئے ان کی بانہوں کی طرح کھل جائے گی۔۔۔

میں جب چاہوں گا اڑا ہوا پرندہ واپس آکر، اپنے پر سمیٹ کر میرے ہاتھوں پر آ بیٹھے گا۔

اگر آپ کے پاس بھی ان کی کوئی کتاب موجود ہے تو اٹھا کر دیکھ لیں۔۔۔

اور عبدالقادر جونیجو سے مل لیں۔۔۔!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *