کہیں بھوک، کورونا سے پہلے ہی نا آ دبوچے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان پچھلے دو تین ہفتوں سے فرما رہے ہیں ہیں کہ لاک ڈاؤن ملک کے لئے ضروری نہیں ہے کیونکہ ملک کا مزدور طبقہ، روزانہ مزدوری کرکے دیہاڑی لگانے والا، رکشے، ریڑھے، چھابڑی فروش سے لے کر گداگر تک کہیں کورونا سے پہلے بھوک سے نہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، خان صاحب کا یہ استدلال خاصا اہمیت کا حامل تھا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس مضبوط مؤقف رکھنے کے بعد وہ مسلسل لاک ڈاؤن کی مخالفت کرنے اور اس کے نقصانات گنوانے میں اتنے دن ضایع کرنے کے بجائے، ملک کے ان غریب دیہاڑی دار مزدور طبقے کو رلیف پہنچانے ان کو راشن کی ترسیل و تقسیم کی جامع منصوبہ بندی کرتے، لیکن وزیراعظم صاحب خود تو لاک ڈاؤن کے نقصانات پہ ہر دوسرے دن آ کر لیکچر دیتے رہے جبکہ ان کے اکثر ساتھی، وفاقی وزراء ان کی پارٹی کی صوبائی حکومتیں بھی حکومت سندھ کے اقدامات کی تقلید کرتی نظر آئیں۔

ملک جس کو اس قدرتی آفت میں متفقہ لائحہ عمل کی ضروت تھی ایک ایسی مربوط پالیسی کی ضرورت تھی جس کے ذریعے ملک کے کروڑوں غریبوں مزدوروں دیہاڑی دار طبقات تک امداد پہنچانے کا جامع منصوبہ بنتا اور اب تک امدادی سامان ان مستحقین تک پہنچ چکا ہوتا۔ لیکن آج جب لاک ڈاؤن کو دوھفتے ہونے کو آئے ہیں ہم ابھی تک اپنے ملک کے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی مدد کرنے ان تک امداد پہنچانے کا بندوست تو دور کی بات ابھی تک پالیسی بنانے میں ہی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان صاحب کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے دن سے لے کر آج تک اپنی ضد ہٹ دھرمی پہ قائم ہیں کہ لاک ڈاؤن نقصان دہ ہے یہاں تک کہ اپنے مؤقف کی سچائی میں وہ انڈین وزیراعظم کی جانب سے اپنی عوام سے معافی مانگنے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہندوستانی وزیراعظم نے اپنی قوم سے جس پیرائے میں معافی مانگی وہ خان صاحب کے پیرائے سے کسی طور مطابقت نہیں رکھتا مگر تکبر اور ڈھٹائی کی کوئی حد تو ہوتی نہیں ہے اس لئے خان صاحب کو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ پورے ملک کی صوبائی حکومتیں، آزاد کشمیر اور گلگت بلدستان کی حکومتوں سمیت فوج اور ملک کے دیگر مقتدر ادارے سوائے خان صاحب کی ذات کے ملک میں لاک ڈاؤن کے حامی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان پچھلے دو ہفتوں سے فرما رہے ہیں کہ ایک کروڑ بیس لاکھ لوگوں کو بارہ ہزار روپے کی کیش امداد دی جائیں گی مگر آج تک کسی کو ایک روپیا بھی نہیں مل سکا، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک کے پسماندہ مزدور دیہاڑی دار طبقات کی مشکلات میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس سے یہ خوف پیدا ہو چلا ہے کہ اگر یہی صورتحال مزید ایک دو روز رہی تو عوام اپنے بچوں کو بھوک سے بچانے کے لئے سڑکوں پہ نہ نکل آئیں، اور اگر خدانخواستہ ایسی کوئی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے تو کورونا وائرس کتنا جان لیوا اور مہلک ثابت ہو سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں ہے۔

آج ہی ٹی وی پہ مختلف چینلز، اور سوشل میڈیا پہ لاہور مردان، پشاور سمیت ملک کے کچھ دیگر علاقوں میں مزدوروں کی جانب سے مزدوری کے لئے صبح سویرے سڑکوں پہ نکل کے روزگار کی تلاش کے لئے مجمع لگانے اور احتجاج کرنے، اپنے بچوں کی بھوک اور بدحالی کے حوالے سے حکومت کو راشن اور مالی امداد کی دہائیاں دیتے انتہائی افسوناک فوٹیجز سامنے آ رہی ہیں جو اس بات کی غماز ہیں کہ صورتحال تشویشناک سے انتہائی تشویشناک حد تک پہنچتی جا رہی ہے، اور اس انتہائی تشویشناک صورتحال کو بہتر بنانے اور عوام تک غذائی اجناس کی ترسیل کے لئے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس خطرناک صورتحال کے سبب پھیلی بے چینی کو کم کیا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ مستحقین تک امداد اور غذائی اجناس پہنچائی جا سکیں۔

وزیراعظم عمران خان صاحب مسلسل احساس پروگرام اور اپنی حکومت کے دیگر عوامی فلاحی منصوبوں، لنگر خانوں، کی بات تو کرتے ہیں مگر اس قدرتی وبا کے دوران نہ احساس پروگرام ابھی تک کارآمد ہوتا نظر آیا ہے نہ ہی خان صاحب کی حکومت کی کوئی جامع منصوبہ بندی اور حکمت عملی نظر آتی ہے، خان صاحب اس مشکل صورتحال میں ابھی تک فیصلہ سازی کی قوت سے بالکل عاری نظر آئے ہیں، وہ اپنے ذاتی، سیاسی اختلافات بھلا کر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد ملکی سلامتی اور سیاسی استحکام کے لئے تمام سیاسی مخالفین کو ساتھ ملا کر متفقہ لائحہ عمل بنانے کے بجائے ملک کی تقسیم در تقسیم کا سبب بن رہے ہیں، ملک میں راشن کی تقسیم کے لئے ٹائیگر فورس نامی رضاکاروں کے ذریعے راشن کی تقسیم کا فارمولا ملک کے سیاسی بیانیے کی تقسیم کا سب سے بڑا ثبوت ہے اور خان صاحب پاکستان کو تاریخ کی اس سب سے مشکل خطرناک صورتحال میں لیڈرشپ فراہم کرنے کے بجائے اس کی سیاسی، اخلاقی، معاشرتی تقسیم کا سبب بن رہے ہیں، وہ قائدانہ صلاحیتوں سے عاری ایک انتہائی متکبر اور ہٹ دھرم سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ پاکستان اس وقت سیاسی ہم آہنگی، استحکام کا متقاضی ہے کیونکہ اگر اس خطرناک وبائی صورتحال میں حکومت اپنے غریب مزدور دیہاڑی دار طبقات کی فوری اور بروقت امداد کے اقدامات نہ کر سکی تو خدانخواستہ کہیں کورونا سے پہلے بھوک ہی نا ہمیں آ دبوچے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *