وبا کے دنوں میں محبت
کورونا عذاب نہیں چھوٹی سی آزمائش ہے اور وبا کے دنوں میں محبت کے مظاہرے اور فروغ کا بہترین موقع ہے۔ مشکل کے ان لمحات میں ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے اور کئی عملی مظاہرے ادھر ادھر دکھ رہے ہیں جو یہ یقین دلانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں کہ انسانیت ابھی فنا نہیں ہوئی تو انسان بھی اس وبا سے فنا نہیں ہوگا اور ہم یقینآ مشکل کی اس گھڑی میں کم سے کم نقصان کا سامنا کر کے ان شآاللہ نکل آئیں گے۔ لاک ڈاؤن کے دنوں کا پہلا ہفتہ اور ہفتہ کے روز کی شام کو میں حیدرآباد کی ایک کالونی میں اشیائے ضروریہ کی خریداری کی نیت سے گھر سے ڈرتے ڈرتے نکلا اور احتیاطآ اپنا شناختی کارڈ اور خریداری کی لسٹ بھی ساتھ لے نکلا کہ اگر راستے میں سیکیورٹی اہلکاروں نے دھر لیا تو یہ چیزیں دکھا کر جان چھڑانے کی کوشش کرونگا کیونکہ مجھے بھی کسی بھی شریف شہری کی طرح مرغا بننے یا حوالات میں رات گزارنے سے ڈر لگتا ہے۔
گھر سے نکلا تو کالونی کے مرکزی گیٹ پر پہلے سے مستعد کھڑے رینجرز کے اہلکاروں نے روک لیا اور پوچھنے لگے کہ اس وقت کہاں جا رہے ہو کیوں جارہے ہو اور گھر سے کیوں نکلے۔ میں نے سوالات کی بوچھاڑ کرنے والے رینجر اہلکار کو بتایا کہ ضروری اشیاء کی خریداری کرنے جا رہا ہوں اور بطور ثبوت مطلوبہ اشیاء کی لسٹ بھی جیب سے بمشکل نکال کر دکھا دی۔ رینجر والے نے لسٹ ہاتھ میں پکڑ کر پہلے تو مجھ سے میرے لنگڑا کر چلنے کی وجہ دریافت کی اور جب میں نے بتایا کہ بچپن میں پولیو کا شکار ہوا اور ایک ٹانگ مفلوج ہوئی ہے تو اب سوائے اس طرح چلنے کے میرے پاس کوئی اور آپشن نہیں مگر میں اپنے سارے کام اس وبا سے پہلے بھی خود ہی کیا کرتا تھا اور اب بھی مجھے خود ہی اپنے کام کرنے ہیں اور یہی میرا معمول ہے اور زمانے سے میں اپنے سارے کام خود ہی کرتا رہا ہوں اور مجھے میرے کام خود کرنے سے ہی خوشی اور اطمنان ملتا ہے۔
رینجرز والے نے کہا کہ مارکیٹ بہت دور ہے اور آپ پیدل اگر اسی طرح چلیں گے تو مارکیٹ آنے جانے میں بہت دیر ہوجائے گی تو آپ یہیں آرام سے بیٹھ جاؤ میں آپ کا سارا سامان خود جا کر لے آؤں گا۔ میرے انکار اور گفتگو کے طول سے رینجرز کا دوسرا اہلکار جو کچھ زیادہ پھول اپنے کاندھوں پر سجائے ہوا تھا ہماری طرف متوجہ ہوا اور قریب آکر اس نے بھی میری تمام باتیں اسی ہمدردی سے سنیں اور میری درخواست اور ناں ناں کو مسترد کرتے ہوئے مجھے اپنے قریب بیٹھ جانے کا کہا اور اپنے ساتھی کو میرا سامان لانے کا کہا۔
میں نے بھی مزید بحث اور احتجاج غیر ضروری سمجھا اور جیب سے پانچ سو روپے نکال کر رینجرز اہلکار کی طرف بڑھائے تاکہ وہ میری خریداری کر کے آجائے لیکن اس نے میرے ہاتھوں میں پکڑے نوٹ کی طرف دیکھے بغیر اپنی گاڑی سٹارٹ کی اور چند منٹوں بعد میری تمام چیزیں میرے ہاتھوں میں تھیں۔ میں نے ایک پھر بڑی کوشش کی کہ مجھ سے میرے سامان کی رقم لے لی جائے۔ مگر اہلکاروں نے میری ایک نہ چلنے دی اور مجھے سامان سمیت جلد از جلد گھر پہنچ جانے اور جاتے ہی ہاتھ دھونے کی تلقین کرنے لگے۔
بالآخر ان کی محبت خلوص اور انسانیت کے سامنے مجھے ہتھیار ڈالنے پڑے اور میں ان سے اجازت لے کر گھر کی طرف جانے لگا تو ایک خیال آیا اور میں نے فوجیوں کی طرح اباؤٹ ٹرن لے کر ان اہلکاروں کو فوجی انداز کا اٹینشن حالت میں کیا جانے والا سیلوٹ کیا اور اس وقت تک ہاتھ نیچے نہ کیے جب تک ان اہلکاروں نے مسکراتے ہوئے مجھے بھی سیلوٹ نہ کر لیا۔ وبا کے دنوں میں محبت کا یہ مظاہرہ مجھے بہت اچھا لگا۔ اور میں سوچنے لگا کہ اگر ہم سب اپنی اپنی سہولت اور بساط مطابق اگر وبا کے دنوں میں محبت کے ایسے ہی مظاہرے کرنے لگ جائیں تو یہ وبا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔
پاکستان زندہ باد اور وبا کے دنوں میں محبت کا مظاہرہ کرنے والے فوجی اہلکار زندہ باد۔


