ابھی بھی وقت ہے


پاکستان میں درآمد کیے جانے والے پودوں اور جانوروں کو قرنطینہ کیے جانے کے قوانین تو موجود ہیں مگر باہر کے ممالک سے آنے والے لوگوں کو قرنطینہ کیے جانے کے متعلق کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جب سے پاکستان معرضِ وجود میں آیا ہے اسے تب سے کبھی بڑے پیمانے پر وبا کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جب تک ہم تاجِ برطانیہ کے مکمل تسلط میں آئے تب تک اس نے بھی اپنے قرنطینہ کے زیادہ تر قوانین منسوخ کر دیے تھے۔ برطانیہ میں اٹھارویں صدی کے اوائل (ء 1710 ) سے لے کر انیسویں صدی کے وسط تک ان قوانین کا سختی سے نفاز رہا۔ بعد میں قرنطینہ ایکٹ ء 1825 کی جگہ صحتِ عامہ ایکٹ ء 1896 نے لے لی۔ اور تعزیراتِ پاکستان ء 1860 میں محظ دفعات 269، 270 اور 271 رہ گیئں جن کا حالیہ دنوں میں کوئی اطلاق نظر نہ آیا۔

دفعہ 269 کے تحت جو بھی آدمی جانتے بوجھتے، غیر قانونی طور پر یا غفلت کے باعث کسی جان لیوا انفیکشن کے جراثیم لوگوں میں پھیلاتا ہے اسے 6 ماہ قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ دفعہ 270 ک تحت جو بھی شخص جانتے بوجھتے بد نیتی کی بنیاد پر لوگوں میں کسی جان لیوا انفیکشن کے جراثیم پھیلاتا ہے تو اسے 2 سال تک کی قید اور جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ دفعہ 270 کے تحت جو شخص حکومت کے قرنطینہ کے متعلق بنائے گئے کسی بھی ضابطے کو توڑے یا وباء زدہ علاقے میں آمدورفت جاری رکھے اسے 6 ماہ قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

قرنطینہ کیا ہے اس کے لیے ایک الگ سے کالم مختص کیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ وبائی علاقوں سے آنے والے لوگوں کو چند مخصوص دنوں کے لیے بالکل الگ تھلگ رکھا جاتا ہے جس دوران ان میں سے ہر شخص کے متعلق اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس میں متعلقہ وبا کی علامات ظاہر ہوئی ہیں یا نہیں۔ ہربڑے ملک بشمول امریکہ اور چین میں بحری، بری اور فضائی آمدورفت کے متعلق قرنطینہ کے قوانین موجود ہیں اور قرنطینہ سینٹرز موجود رہتے ہیں۔ اس بابت بینالاقامی کنونشنز بھی موجود ہیں۔ جبکہ ہماری طرف ایسا کوئی میکانزم نہیں۔ یہی وجہ ہے شاید کہ آج ہمارے ملک میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 15 ہو گئی ہے اور متاثرین کی تعداد 2000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

دیکھا جائے تو ایرانی اور افغانی بارڈر سے آنے والے وہ لوگ جوکسی با رسوخ آدمی کی کال کروا کر بغیر قرنطینہ سنٹر میں رکے اپنے گھر آ گئے ہیں یا وہ لوگ جو ایئر پورٹس اور ہسپتالوں سے بھاگے ہیں یا وہ لوگ جو حکومتی جزوی لاک ڈاؤن اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کر رہے ہیں وہ سب ان دفعات کی زد میں آ سکتے ہیں۔ خیر پنجاب کا متعدی ووبائی بیماری آرڈینینس تو بعد کی کہانی ہے اور پورے ملک میں لاگو بھی نہیں جیسا کہ تعزیراتِ پاکستان ہے۔

حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اموات اور متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جومتاثرہ لوگوں کی تعداد بتائی جارہی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں ابھی وہ لوگ یقینا رہتے ہیں جن کے ٹیسٹ ہوئے ہی نہیں یا جن کے ٹیسٹکے نتائج کا ابھی انتظار ہے۔ یہاں یاد رہے کہ ضروری نہیں جن کے نتائج منفی آئے ہیں ان میں واقع کرونا کا وائرس نہیں ہے۔ ٹیسٹ کا وقت اور آلات کی صحت اس ضمن میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چین میں بھی 3 فیصد نیگیٹو آنے والے ٹیسٹ اصل میں پوزیٹو تھے۔

پورے ملک میں لاک ڈاؤن کی صورتحال نہ تین میں ہے نہ تیرہ میں۔ ایک کھیل جاری ہے نہ قانون کی بالادستی نظر آتی ہے اور نہ ہی کہیں حکومت کی رِٹ نظر آتی ہے۔ بظاہر جس دیہاڑی دار مزدور کو وجہ قرار دے کر لاک ڈاؤن میں نرمی رکھی گئی ہے در حقیقت ووہی زیادہ بھوکا مر رہا ہے کہیں پولیس اور رینجرز باہر نکلنے نہیں دیتے۔ کہیں کورونا کے ڈر سے کوئی کام نہیں دیتا۔ انڈسٹرئیل کام میں حفاظتی تدابیر کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے چشم پوشی حکمران کو زیب نہیں دیتی۔ ہنگامی حالات میں آیئنِ پاکستان حکومت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کچھ بنیادی حقوق سلب کر سکتی ہے جن میں نقل و حرکت کی آزادی بھی شامل ہے۔ حکومت کے پاس اپنی بری، بحری اور فضائی سرحدوں پر آمدورفت اور نقل وحرکت کو کنٹرول کرنے کا بھی پورا اختیار ہے اور تو اور لمبے عرصے تک کی خوراک کا ذخیرہ بھی موجود ہے پھر کیا وجہ ہے کہ بارڈر سے زائیرین قرنطینہ کے دن پورے کیے بغیر گھروں کو واپس آنا چاہتے ہیں یا بھاگ جاتے ہیں یا سفارش سے آ جاتے ہیں اور پورے ملک مہں پھیل جاتے ہیں۔ ملک کے اندر نقل وحرکت پر پابندی کے باوجود نقل و حرکت جاری رہتی ہے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھی آزاد کرنے کے احکامات جاری کر دیے جاتے ہیں۔ گراں فروشی آسمان کو چھوتی ہے اور آٹا مارکیٹوں سے نایاب ہو جاتا ہے۔

چین میں کورونا کا پہلا کیس غالباً 25 دسمبر 2019 کو رپورٹ ہوا تھا۔ یہ چین کی مہربانی کہ اسنے کسی کو وہاں سے پاکستان نہ آنے کا مشورہ دیا ورنہ ہم نے تو پورا زور لگا دینا تھا۔ باقی کسی بھی ملک سے آنے والے لوگوں کی آمد کہ ہم ریگولرائز نہ کر پائے۔ اگر فروری سے ہی ہمارے ہر ہوائی اڈے، بارڈر کی چیک پوسٹ اور بحری اڈے پر قرنطینہ سینٹر قائم کردیئے جاتے اور سختی سے محض ایک مہینے تک ان کی دیکھ بھال کی جاتی متاثرہ افراد کو علاج کیا جاتا تو یقینا آج اموات اور متاثرین کی شرح حیرت انگیز طور پر کم ہوتی۔

یہ فخر کی بات ہرگز نہیں کہ ہمارے ہاں متاثرین کی شرح دیگر بڑے ممالک کے مقابلے میں کم ہے ہمارے لئے ہر جان قیمتی ہے۔ پیارا تو کسی کا بھی ہو سکتا ہے اوراسکا کل جہان ہوسکتا ہے۔ کیا حکومت اس خطرے کو بھانپ نہی پائی یا ابھی تک اس سے نبٹنے کے لئے موۤثر اقدامات وضع نہیں کر پا رہی۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔ مکمل لاک ڈاؤن کرکے اس عفریت کا مقابلے اب بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایسے بہت سے آپشنز ہیں کہ باقاعدہ لاک ڈاؤن ک بعد محدود بجٹ میں بھی کوئی بھوکا نہیں سوئے گا اور بہت زیادہ حد تک معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے گا۔ اگر حکومت مفروضوں سے نکل آئے تو۔

مصنفہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور قانونی معاملات اور حالاتِ حاضرہ پر لکھتی ہیں۔

Facebook Comments HS

3 thoughts on “ابھی بھی وقت ہے

  • 03/04/2020 at 2:16 شام
    Permalink

    Well written

  • 03/04/2020 at 2:18 شام
    Permalink

    MashAllah boht umda tehreer…

  • 03/04/2020 at 2:36 شام
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر ہے اور تجاویز سے میں مکمل اتفاق کرتا ہوں حکومت کو غور کرنا چاہیے

Comments are closed.