کرونا کے مریض کی خصوصی اجازت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کا وہ مریض جانتا تھا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو نہ چھو سکتا ہے نہ قریب سے دیکھ سکتا ہے، پھر بھی وہ انہیں آخری دفعہ دور سے ہی سہی مگر دیکھنا چاہتا تھا۔ اسے احساس تھا کہ وہ اس دنیا میں اب کچھ ہی گھنٹوں کا مہمان ہے۔

بیس سال پہلے جب وہ دنیا کے اس ترقی یافتہ ملک میں آیا تھا تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک پسماندہ ملک سے ترقی یافتہ ملک میں ہجرت کرنے کے باوجود اس کی موت اتنی ہی لاوارث اور بے یارومددگار ہو گی جتنی کے اس کے اپنے ملک میں ہو سکتی تھی۔ برسوں کا یہ سفر اور ترقی کا یہ راستہ کتنا بے معنی تھا۔ جس دنیا کو ٹیکنالوجی نے جوڑ کر ایک گاؤں بنا دیا تھا، اسی دنیا کو ایک ننھے سے جرثومے نے پھر سے بکھری ہو ئی دنیا بنا ڈالا تھا۔ دلوں کے فاصلے، جسمانی فاصلوں میں بدل چکے تھے۔

” خدیا ا! تو کیا تیرا قہر اس جرثومے کی صورت ہم پر برس رہا ہے۔ لیکن میں نے تو آج تک کوئی ایسا گناہ نہیں کیا جس کی ایسی سزا مجھے ملے کہ آخری سانسیں اپنے پیاروں سے دور لوں؟ “

”خدا کرے تم ایسی موت مرو کہ تم پینے کو پانی مانگو اور کوئی اپنا تمھیں پانی نہ پلا سکے۔ تم نے جس“ زندگی ”کی خاطر مجھے ٹھکرایا ہے وہی“ زندگی ”تم پر عذاب بن کر ٹوٹے! “ سنسناتی ہوئی یہ آوازیک دم اس کے ماضی کے دریچوں سے نمودار ہوئی اور اس کے کان کے پردوں کو پھاڑتی گئی۔ اس نے بے اختیار کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔

”کیا کانوں میں بھی درد شروع ہو گیا ہے؟ “ نرس سیفٹی لباس میں منہ پر ماسک پہنے اس کی طرف متوجہ ہو ئی۔

وہ اسے کیا بتاتا کہ ایک غریب، بے بس اور معصوم روح کو استعمال کر کے راستہ بدلنے کی سزا خدا نے سنانی ہی سنانی تھی۔

”مجھے میرے بیوی بچوں سے ملوا دو۔ خدا کا واسطہ۔ میری آخری خواہش ہے۔ انسانیت کی خاطر۔ خدا کے واسطے میں صرف دور سے دیکھوں گا۔ “ اس کے بجائے وہ بولا اور پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رو نے لگا۔

نرس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ یہ مریض درد کی شدت اور سانس بند ہو نے کی تکلیف سے کم چلاتا تھا، اپنے پیاروں سے ملنے کو زیادہ تڑپتا تھا۔ سب جانتے تھے یہ کسی بھی لمحے مر سکتا ہے۔ اس مریض کے لئے کورنا وائرس کا حملہ جان لیوا ثابت ہو رہا تھا۔

مریض کی کل کمائی اس کے بیوی بچے ہی تھے، اس کی سب محبتیں اپنے گھروندے کے لئے محدود تھیں۔ وہ محبتوں کی ساری شدتوں کو گھر کی چار دیواری میں قید رکھتا تھا۔ وہ بچوں کو ”میری زندگی“ اورخود کو سب سے برتر سمجھنے کا فلسفہ گھول گھول کے پلایا کرتا تھا۔ اس نے دن رات محنت کر کے اتنی دولت اکٹھی کر لی تھی کہ دنیا کو رشک اور حسد میں مبتلا کر سکے۔ نئی نئی گاڑیاں، بڑا سا محل نما گھر اور اعلی تعلیم یافتہ بچے، ہر سال دنیا کے کسی بھی ملک کا ایک ٹرپ۔ ایسی زندگی جس کی خواہش میں کروڑوں لوگ مر جائیں۔ وہ ایسی ہی زندگی جی رہا تھا۔

یہ سب کچھ اچانک یورپ کے ٹرپ سے واپسی پر ہی ہو گیا تھا۔ اسے پتہ ہی نہ چلا کہ کب وہ کرونا پوزیٹو ہو گیا۔ وہ اس کرونا کے قرنطینہ کوبھی زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہا تھا۔ اسے کینڈا کے ہیلتھ کے نظام پر مکمل بھروسا تھا۔ اب بھی مرتے دم تک اسے یقین تھا کہ کم از کم وہ اس کی فیملی کو اس سے ضرور ملا دیں گے۔ اسی انسانیت کی خاطر تو اس نے اپنا ملک چھوڑا تھا، جہاں انسان کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا۔

آخر کارڈاکٹروں نرسوں نے اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اس وبائی مرض میں انہوں نے اسے اس کے خاندان سے ملوانے کا وعدہ کر لیا۔ ہسپتال والوں نے دن رات ایک کر کے صفائی ستھرائی کی اور وزیٹرز کی سیفٹی کو مکمل طور پر یقینی بنانے کے بعد اس کے گھر فو ن کیا گیا۔ مریض کی بیوی نے فون اٹھایا۔ نرس نے مریض کی آخری خواہش بتائی اور ساتھ میں اس کی تسلی کی خاطر ساتھ میں ہسپتال کے تمام خصوصی انتظامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ فون سپیکر پر تھا، بچے بھی سن رہے تھے، سب نے زور سے نفی میں سر ہلایا۔ بچوں کا وہ انکار نرس تک پہنچا دیا۔ یہ سن کر نرس بہت حیران ہو ئی اور اس نے ایک بار پھر تمام حفاظتی انتظامات کی یقین دہانی کروائی پر ماں کا انکار اٹل رہا۔

” ماں بن کے نہ کہہ رہی ہیں۔ بیوی بن کر سوچیں، بچے نہ سہی آپ ہی آجائیں۔ “ نرس نے اسے سمجھانا چاہا۔

” میری طرف سے بھی انکار ہے۔ جب وہ یو رپ کے ٹرپ پر جا رہے تھے تو ہم نے بہت منع کیا تھا۔ شکر ہے مرض کی علامتیں جہاز میں ہی شروع ہو گئیں اور وہ سیدھے ہسپتال چلے گئے ورنہ ان کے فیصلے کی سزا ہم سب بھگتتے۔ ہم ان کے لئے یہیں سے دعا کر دیں گے۔ “

نرس کی آنکھیں ہی نہیں دل بھی بھر آیا۔ اس نے فون رکھنے سے پہلے دل میں دعا کی ”اے اللہ! جب میں اس مریض کے کمرے میں جاؤں تو اس کی کی منتظر آنکھیں، جو کل سے“ خصوصی اجازت نامہ ”ملنے کے بعد چمک رہی تھیں، بند ہو چکی ہوں۔ “
اس کے اندر مریض کو ”موت سے زیادہ مردہ“ خبر سنانے کی ہمت نہیں تھی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *