یہ نئی دنیا پاگل کرنے والی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوزف براڈ سکی نے لکھا۔
”جب آپ ٹائی کی ناٹ باندھتے ہیں۔
لوگ مر رہے ہیں ۔
جب آپ اپنے گلاسوں میں اسکاچ انڈیلتے ہیں
لوگ مر رہے ہیں
جب آپ نئے خداوں کے آگے سجدہ کرتے ہیں
لوگ مر رہے ہیں۔ ”

ایک بھیانک دنیا۔ کچھ عجیب سے سچ۔ اور تماشا دیکھنے والے ہم۔ سماجی آئین سے الگ ایک نئی اخلاقیات سامنے آچکی ہے۔ آسٹریلیا کے حوالے سے ایک خبر آئی کہ ایک شیرنی، ایک چھوٹی سی بلی کی محافظ بن گئی۔ انگلینڈ کے ایک جنگل میں کتے اور بھالو ساتھ ساتھ کھیلتے پائے گئے۔ دنیا کے سب سے چھوٹے ماں باپ 51 سال کے بچے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی سائبر ورلڈ، ایک تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اور پگھلتے ہوئے گلیشیرس۔ نیوزی لینڈ کی عورت نے اپنے گھر سے دو بھوت پکڑے۔ ایک بوتل میں بند کیا اور آن لائن خریدار مل گئے۔ ہم ایک ایسے عہد میں ہیں جہاں کچھ بھی فروخت ہوسکتا ہے۔ در اصل ہمیں انفرادی و اجتماعی طور پر حیوان بنانے کی تیاری چل رہی ہے ۔ نئی قدریں تشکیل پا رہی ہیں۔

سپر مارکیٹ، انڈیا شائننگ اور 2050 تک انڈیا کو سب سے بڑی طاقت کے طور پر پیشن گوئی کرنے والے بھی نہیں جانتے کہ وہ اس انڈیا کو کہاں لے آئے ہیں۔ کمرشل ٹی وی شوز سیکس کی آزادی کا پیغام لے کر آ رہے ہیں اور تہذیب بلاسٹ کر چکی ہے۔ اور دوسری طرف ڈی این اے، جینوم، کرومو سوم اور جین کے اس عہد میں تہذیب و تمدن کی نئے سرے سے شناخت ہو رہی ہے کہ سب سے قدیم انڈین کون تھے۔ دراوڑ یا انڈمان جزائر میں رہنے والے۔ یا پھر منگولیائی۔ جہاں ایک طرف کینسر، ایڈز، ڈائبٹیز اور ہارٹ اٹیک پر فتح پانے کے لیے میڈیکل سائنس کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ اور یہیں کامن ویلتھ گیمس کے لیے ایک بڑی آبادی بھوکوں مار دی جاتی ہے۔ یہاں آئی پی ایل کے بلّے چمکتے ہیں۔ اور نندی گرام میں کسانوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔

موجودہ عالمی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے اس بھیانک دنیا کا تذکرہ ضروری ہے۔ لیکن ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ اس بد سے بدتر ہوتی دنیا کا مکروہ چہرہ کیا ہماری کہانیوں میں نظر آ رہا ہے۔ یا صرف ہمارے فنکار اشارے اور گواہیوں سے کام چلا کر آج بھی سرسری طور پر ان واقعات سے آنکھیں چراتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو مجھے کہنے دیجئے یہ فن کے ساتھ کوئی ایماندارانہ رویہ نہیں ہے۔ موجودہ عالمی سماج کے اہم مسائل بھوک، پانی، آلودگی، اور دہشت پسندی کے تناظر میں جو دنیا ہمیں ہاتھ لگتی ہے وہ جنگوں سے برآمد شدہ دنیا ہے۔ لیکن صرف اتنا کہنا کافی نہیں ہے۔

کہانی کار کے طور پر ہمیں اس کا تجزیہ بھی کرنا ہے۔ وحشت، بربریت، دہشت اور انتہاپسندی کی بھیانک داستانیں ہیرو شیما اور ناگاساکی کی تباہی کے بعد آج بھی رقم کی جا رہی ہیں۔ اب نئے اندیشے اور خطرات ہیں۔ عراق اسی طرح تباہ ہوا جیسے ایک زمانے میں امریکہ نے یوگوسلاویہ کو تباہ و برباد کیا تھا۔ 11 / 9 کے بعد افغانستان کی بربادی بھی سامنے ہے۔ ایران کو تہہ تیغ کرنے کی دھمکیاں بھی سنائی جا چکی ہیں۔ روسی قیادت دوبارہ سپر پاور بننے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ چین اپنی سیاست کر رہا ہے۔ عراق اور افغانی جنگ نے امریکہ کو اقتصادی طور پر کھوکھلا کر دیا ہے۔ ساری دنیا بھوک مری کا شکار ہے۔ امن خطرے میں ہے۔ نئے صارف کلچر میں جنس پرستی کو فروغ دیا گیا ہے۔ آزادی آزادی کی رٹ لگانے والوں کے لیے 9 / 11 کے بعد آزادی صرف ایک کھوکھلی حقیقت ثابت ہوئی ہے ۔

کیا اردو کا ادیب عالمی مسائل کی روشنی میں ان دور رس بھیانک نتائج سے آگاہ ہے؟ ڈپٹی نذیر احمد سے شمس الرحمن فاروقی کے ناول تک ایک تہذیبی ناستلجیا تو دیکھنے کو مل جاتا ہے لیکن اس پر آشوب عہد کی آگاہی و عکاسی کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ ہاں، پاکستانی فنکاروں میں سچ کا سامنا کرنے والی تحریریں بڑی تعداد میں مل جائیں گی۔ اسد محمد خاں سے لے کر آصف فرخی، طاہرہ اقبال، مبین مرزا اور حمید شاہد تک عالمی مسائل پر لکھی جانے والی تحریروں کی کوئی کمی نہیں۔

حمید شاہد کے سورگ میں سور جیسے افسانے کے بارے میں احمد طفیل کی رائے ہے کہ یہ افسانہ عالمی معاصر صورتحال کے خلاف احتجاج ہے۔ زیادہ تر نقادوں نے اس مجموعے کے افسانے کو 9 / 11 کے بعد کے حالات سے جوڑ کر دیکھا ہے۔ سید مظہرجمیل کے مطابق ان کی کہانی مرگ زار ایک ایسی کہانی ہے جو افغانستان کے چٹیل اور سخت کوش معاشرے میں گزشتہ تین عشروں سے جاری وحشت و بربریت کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ نسیم بن آسی گیلارڈ ہوٹل کے بہانے اسی خوف و تشکیک کی فضا کو سامنے رکھتے ہیں ۔

تاریخ کی طرح ارتقاءکے نئے سفر کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اور شاید اسی لیے فہمیدہ ریاض اپنے افسانہ ’قافلے پرندوں کے‘ کے ساتھ نئی دنیا کا جواز بھی تلاش کر لیتی ہیں۔

دھرتی کے دونوں نصف حصے ایک دوسرے میں دوبارہ پیوست ہو گئے۔ زمین پھر سے سالم ہوگئی اور اس نے سمندروں اور سبزہ زاروں کی نیلمی اور زمردی قبا اوڑھ لی۔
پرندوں نے اطمینان کا سانس لیا۔
”یہ کیا تھا؟ “ پرندوں نے پوچھا۔
”کوئلہ“ ہد ہد نے کہا، ”کوئلہ، گیس اور تیل۔ اور اب ہمارے سفر کا دراصل آغاز ہوگا۔ تم تھک تو نہیں گئے؟ “

اردو افسانہ تھکا نہیں ہے۔ لوگ کم ہیں۔ لیکن آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آصف فرخی، اسد محمد خان، زاہدہ حنا سے مبین مرزا اور حمید شاہد تک عالمی مسائل کے پس پردہ کہانیاں لکھنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ بزرگ اور تھکے ہوئے نقادوں کے گزر جانے کے بعد ہی ان کہانیوں کا صحیح تجزیہ ممکن ہے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *