وبا زدہ نیویارک میں مقیم بیٹی کا خط: ویڈیو کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اماں!

فضا میں موت رقص کر رہی ہے، چہرے پہ مکروہ ہنسی سجائے، دانت نکوسے زندگی پر جھپٹنے کی کمینی خوشی موت کے بھیانک ہیولے میں چھپائے نہیں چھپتی۔ جان لیوا موسیقی کی آواز تیز ہوتی ہے، وہ گھومتی ہے تیز اور تیز، چاروں طرف۔ سرد ہوائیں چلتی ہیں، انسان پتھر کا ہو رہا ہے، تنہائی جان لیوا ہے۔

آسمان کا رنگ بدل سا گیا ہے۔ میرے کمرے کی چھوٹی سی کھڑکی سے آسمان کا ایک ٹکڑا جھانکتا ہے۔ نیلاہٹ مٹیالے پن میں بدل چکی ہے۔ پرندے بھی دور دور تک نظر نہیں آتے، شاید سہم کے گھونسلوں سے نکلتے ہی نہیں ہوں گے۔ معلوم نہیں دانا دنکا بھی پاس ہو گا کہ نہیں؟ کیا پیاس بجھانے تالاب پہ جاتے ہوں گے؟ یا وہ بھی انسان پہ آئی اس ابتلا کے غم میں اپنے آپ پہ جبری تنہائی طاری کیے بیٹھے ہوں گے۔

ٹیکسٹ کالم: وبا زدہ نیویارک میں مقیم بیٹی کا خط

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *