ڈینئل پرل کے فیصلے نے پاکستان کو کس پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مغربی صحافت ہمارے ملک کی طرح نہیں کہ میڈیا مالکان فیلڈ رپورٹرز کی محنت کے بل بوتے پہ اربوں روپے کمائیں اور فیلڈ رپورٹرز بنا تنخواہ سیاستدانوں کی کوریج کی مٹھائیوں محکمانہ اشتہارات یا بلیک میلنگ سے گزارہ کریں۔ مغربی ادارے نہ صرف تنخواہیں دیتے ہیں بلکہ دنیا بھر کے ڈیسک بنا کر ٹیمیں بناتے ہیں جرنلسٹ فیلڈ میں جاتا ہے تو ان کے سفر قیام و طعام کا خرچہ ادارے کے ذمے ہوتا ہے۔ دوسرا مغرب میں معلومات تک رسائی بہت آسان ہے جبکہ پاکستان میں قانون تو موجود ہے مگر مجال ہے کہ آپ تحصیل کے ہسپتال کے کینٹین ٹھیکے کے ٹینڈر کی ہی معلومات لے سکیں بجٹ تو بہت دور کی بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی میڈیا کی رپورٹس عموماً غیر جانبدار اور حقائق پہ مبنی ہوتی ہیں۔

نائن الیون کا واقعہ ہوا تو وال سٹریٹ جنرل نے اپنے ایشیائی ڈیسک کو اس پہ تحقیقاتی سٹوری کرنے کا ٹاسک دیا انڈیا سے تعلق رکھنے والی مسلمان خاتون جرنلسٹ عذرا اور اس کا یہودی ساتھی ڈینئیل پرل سٹوری پہ کام کرنے کا آغاز کرتے ہیں اور القاعدہ کی قیادت کا کھرا نکالتے نکالتے وہ پاکستان پہنچتے ہیں۔ خالد شیخ محمد سے ملاقات کا بہانہ کر کے ان کو کراچی بلایا جاتا ہے اور یہاں ڈینئل پرل کا اغوا ہوتا ہے اور دو ماہ بعد ان کی لاش کراچی کے مضافات سے برآمد ہوتی ہے اس سے قبل دنیا ڈینئیل کے قتل کی وہ ویڈیو دیکھ چکی ہوتی ہے جو القاعدہ نے ریلیز کی تھی۔

گوانتاناموبے میں قید خالد شیخ محمد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے پرل کا گلا کاٹا تھا؟ سٹوری کی تلاش میں خود سٹوری بن جانے والے پرل کی سٹوری پہ کام شروع ہوا اور تحقیاتی رپورٹس سے پتا چلا کہ ان کے قاتل کون تھے اغوا کرنے والے کون تھے دوسرا گروہ کون سا تھا اور قتل کرنے والے اور فوٹیج بنانے والے کون تھے۔ پرل کیس کے مرکزی ملزم شیخ عمر پاکستانی نژاد یورپی تھے۔ جن کو آرم ریسلنگ کا شوق تھا ان کی آرم ریسلنگ کی ویڈیوز انٹرنیٹ پہ موجود ہیں۔

مغربی میڈیا نے ان کی یورپی بارز میں موجودگی کی ویڈیوز، ان کا سکول، ان کے ٹیچرز، ان کے ریڈیکلائز ہونے کی وجوہات سمیت سارا کچا چٹھا کھول کے رکھ دیا۔ اب پاکستانی عدالت نے اسی شیخ عمر کی سزا میں نرمی کا فیصلہ سنا دیا۔ ان کے ساتھیوں کو باعزت بری اور ان کی عمر قید کی سزا کو سات سال قید میں تبدیل کر دیا۔ اس کیس کے متعلق تمام معلومات انٹرنیٹ پہ موجود ہیں لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حالیہ فیصلے نے پاکستان کو کس پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔

کیا اب بھی مغرب آپ کو امداد کے لیے رقم دینا پسند کرے گا۔ کیا اب بھی آپ کو آئی ایم ایف ریلیف پیکج دینا پسند کرے گا۔ کیا اب بھی آپ قرضوں میں نرمی کی درخواست پہ عمل کروا پائیں گے۔ کیا اب بھی آپ کو گرے لسٹ سے نکالا جائے گا۔ یہ نہ ہو کہیں آپ کے یہ فیصلے آپ کو بلیک لسٹ میں لا کھڑا کریں۔ اس فیصلے کے بعد شدید امریکی ردعمل سامنے آیا اور حکومت پاکستان کو بری ہونے والے ملزمان کو آخر کار تین مہینے کے لیے بند کرنا پڑا۔

خدارا اپنی پالیسی بدلیں آج دنیا میں پاکستان کو دہشت گرد ممالک میں گنا جاتا ہے۔ گرین پاسپورٹ ہولڈر کو گھنٹوں تلاشیاں دینا پڑتی ہیں۔ کئی ممالک جو یوگنڈا جیسے ممالک کو بھی ویزا آن ارائیول کی سہولت دیتے ہیں لیکن آپ کی مہینوں پہلے گئی ویزے کی درخواست کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔ چین جیسا ملک جس نے اپنے ائیر پورٹس پہ انڈین کے لیے تو خصوصی لائین بنا دی ہے پاکستانیوں کو ائیر پورٹ سے باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔

افغانستان بنگلہ دیشن نیپال حتٰی کے بھوٹان جیسا ملک بھی آپ کا بائیکاٹ کرتا ہے۔ آپ عالمی تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ پھر کہتے ہیں ہم معصوم ہیں دنیا ہی ہمارے خلاف ہے۔ میں مایوسی نہیں پھیلا رہا نہ ہی میں غدار ہوں کیونکہ آپ آئینہ دکھانے والوں کو یہی کچھ کہتے ہیں۔ میں مزید کچھ نہیں کہتا بس آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *