محبت کرنے اور اپنی نمائش لگانے میں فرق ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افسانے کی حقیقی لڑکی قسط 4۔
تحریر ابصار فاطمہ۔

گھر پہ شادی کی بات نکلتی تو وہ الجھنے لگتی۔ ایک دو دفعہ تو اس نے کہہ بھی دیا کہ امی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی آپ لوگوں کے پاس رہنا ہے آپ کا اور ابو کا خیال رکھنا ہے۔

دوسری طرف اسکول جاتی تو جان بوجھ کر اسلم کے سامنے جاتی وہ اب چاہنے لگی تھی کہ اسلم اس سے کچھ کہے کسی طرح اسے اس ذہنی اذیت سے نکال لے۔ اس ماحول سے دور لے جائے۔ کبھی کبھی وہ سوچتی اسلم نہیں تو ارمغان ہی سہی۔ مگر زبردستی کی شادی نا ہو۔ پھر خود ہی خیال جھٹک دیتی، اتنی عام سی صورت والے بندے کے ساتھ پوری زندگی گزارنا اسے بہت مشکل لگتا تھا۔

جیسے جیسے سال ختم ہورہا تھا اس کی ٹینشن بڑھتی جارہی تھی اسلم کچھ کہتا نہیں تھا جبکہ اس کے انداز سے ہی ظاہر تھا کہ وہ بھی بسمہ کو پسند کرتا ہے۔ دوسری طرف گھر میں دولہا ڈھنڈائی کی مہم زور پکڑتی جارہی تھی۔ ایک دو دفعہ اس نے آگے پڑھنے کا بہانہ بھی کیا جسے سختی سے رد کردیا گیا۔ بقول دادی جب اگلے گھر جاکر چولہا چوکی کرنی ہے تو پیسا ضائع کرنے کا کیا فائدہ۔ ویسے بھی باپ بیچارا تین تین دفعہ جہیز جمع کرکے آدھا ہوگیا۔ وہ کہتیں، تجھے کیا پتا بے بیاہی بیٹی کیسے سل جیسی ہوتی ہے ماں باپ کے سینے پہ۔ ساتھ ہی یہ طعنہ بھی ملتا کہ دماغ آسمان پہ پہنچ گئے ہیں تعلیم حاصل کر کے۔

اسے کبھی بھی اس طعنے کی وجہ سمجھ نہیں آتی تھی۔ اسے دن میں کئی بار دادی ابو امی بڑے بھیا سے یہ طعنہ یا اس سے ملتا جلتا طعنہ سننے کو ملتا ہی رہتا کہ وہ سست ہے، فضول خرچ ہے، بڑوں کا ادب لحاظ نہیں ہے یا اس کا دماغ آسمان پہ ہے وغیرہ اور وہ ہر دفعہ ہر طعنے کے بعد خود کو اور محدود کر لیتی۔ کپڑے عموماً امی کی پسند سے آتے تھے روز کا جیب خرچ بیس روپے ملتا تھا جو کہ اسد کو 100 روپے ملتا تھا اور فرمائش پہ ہفتے میں دو تین بار زیادہ بھی مل جاتا کیونکہ وہ تو لڑکا ہے اور دوستوں کے ساتھ ادھر ادھر جاتا ہے تو خرچہ کرنا ہی پڑتا ہے۔

امی ہر تقریب میں بسمہ کے لیے چمکیلے سوٹ کے ساتھ سیل سے چمکیلی فینسی سینڈل لے آتی تھیں مگر اسکول کے جوتے کب کے خراب ہورہے تھے وہ اگر کہتی بھی تھی کہ تلا گھس گیا ہے اور پیر میں تکلیف کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی دماغ آسمان پہ ہونے کا تاریخی جملہ بول دیتا اور وہ چپ ہو جاتی۔ بھیا کے پرانے جوتوں میں سے اندر کا تلا نکال کر کئی بار بدل چکی تھی۔

جنوری شروع ہوتے ہی فائنل ایگزامز اور فئیرویل کی تیاریاں ایک ساتھ شروع ہوگئیں۔ فائزہ کو تو کوئی ٹینشن نہیں تھی اس کا کہنا تھا کہ اس کے پاس کافی کپڑے پڑے ہیں اور بسمہ کو پتا تھا کہ ہمیشہ کی طرح اس کے کپڑے سادہ مگر جاذب نظر ہوں گے بسمہ کو اپنے کپڑوں کی فکر تھی۔ جو چمکیلے کپڑے وہ نجی تقاریب میں پہن کر جاتی تھی اگر وہ اسکول میں پہن کر آجاتی تو دوسری لڑکیاں بہت مذاق اڑاتیں۔ اور اسلم کیا سوچتا کہ اسے کوئی ڈریسنگ سینس ہی نہیں۔

اس نے عید پہ ملی ہوئی عیدی بھی بچا کے رکھی تاکہ اپنی پسند کے کپڑے لے سکے۔ اب بس ساری ٹینشن امی سے اجازت لینے کی تھی۔ بہت سوچ سمجھ کر اس نے آہستہ آہستہ فئیرویل کی تیاریوں کا تذکرہ امی کے سامنے کرنا شروع کردیا۔ اسے پتا تھا امی زیادہ غور سے نہیں سنیں گی اس لیے بار بار ایک جیسی باتیں دہراتی کہ کوئی بات تو ذہن میں رہ جائے گی۔ ایک دفعہ تو امی نے چڑ کر کہہ دیا کہ بسمہ آج کل تم بہت دماغ کھانے لگی ہو لڑکیوں کی ہر وقت کی چیں چیں اچھی نہیں لگتی۔ کبھی وہ بتاتی کے آج ٹیچرز کے لیے ٹائٹل نکالے کبھی یہ کہ کلاس کی دوسری لڑکیاں اپنے کپڑے دکھانے لائی تھیں اور کبھی بتاتی کہ لڑکوں نے اتنا شور مچایا کہ کوئی تیاری ہی نہیں کرنے دی۔ پھر ایک دن باتوں باتوں میں بات کو بہت سرسری سا بنا کر کہا

”امی آج ٹیچر کہہ رہی تھیں کہ آپ سب گھر کے کپڑوں میں آئیے گا۔ کلاس کی لڑکیاں بھی پوچھ رہی تھیں تم کیا پہنو گی۔ “ پھر خود ہی کہنے لگی

”امی میں سوچ رہی ہوں آپ نئے سیزن کے لئے جو کپڑے بنوائیں گی میں اس میں سے ایک رکھ لوں گی۔ ایک بار فئیر ویل میں پہن کر گھر میں استعمال ہوجائے گا۔ اب فضول میں خرچہ کرنے کا کیا فائدہ؟ “

امی حسب عادت جواب دیے بغیر کام میں لگی رہیں۔
”امی بتائیں نا یہ ٹھیک رہے گا؟ “ اس نے اپنی عادت کے برخلاف اصرار کیا۔
”اف! ہاں بھئی جو مرضی آئے کرو میرا دماغ نا کھاو“
وہ ایک دم ایکسائٹڈ ہوگئی۔

”امی میں ایک سوٹ فائزہ سے منگا لیتی ہوں وہ کوئی سادہ سا سوٹ لا دے گی کاٹن کا اوور نا لگے نا اسکول کے فنکشن میں۔ میں اسے کہوں گی سیل سے لے لے تھوڑے سے پیسے پڑے ہیں میرے پاس۔ “

امی نے بے دھیانی میں سر ہلا دیا اور بسمہ خوشی خوشی اٹھ گئی۔
اگلے دن اسکول میں اس نے فائزہ کو پیسے دیے اور پہلے سے سوچے ہوئے رنگ بھی بتا دیے۔ اسے پتا تھا کہ اس کی اُجلی رنگت پہ لال اور کالا رنگ بہت کھلتا ہے اور کالا رنگ دادی اور امی کو بہت دبتا ہوا اور سوگوار لگتا ہے تو انہیں کپڑے فینسی بھی نہیں لگیں گے۔ اس نے ساڑھے تین ہزار نکال کے فائزہ کو دیے۔ فائزہ اتنے سارے پیسے دیکھ کر حیران سی ہوگئی۔

”بسمہ اتنے مہنگے کپڑے منگائے گی تو؟ میرے جیسے کپڑے بنوانے ہیں تو، وہ تو آرام سے ہزار پندرہ سو میں بن جائیں گے اور سستے بھی نہیں لگیں گے۔ “

”نہیں فائزہ سستا سوٹ سستا ہی ہوتا ہے تو بس اچھا سا سوٹ لے آنا میرے لیے۔ پہلی بار تو اپنی پسند کے کپڑے منگوا رہی ہوں“

”بسمہ تو ہزار بار اپنی پسند کے کپڑے پہن مگر مجھے پتا ہے کہ تو اتنا خرچہ کیوں کر رہی ہے؟ “
”کیا مطلب تجھے پتا ہے؟ سب ہی لڑکیاں کر رہی ہیں خرچہ میں کوئی انوکھی تو نہیں ہوں؟ “

”ہاں اور وہ سب لڑکوں کو متاثر کرنے کی کوشش میں ہیں۔ تو ایسی کب سے ہوگئی۔ تجھے کیا لگتا ہے مجھے پتا نہیں چلے گا کہ تو بات مجھ سے کر رہی ہوتی ہے مگر تیری نظریں اور دھیان کہیں اور ہوتا ہے۔ اسلم کے اردگرد آتے ہی تو اوور ری ایکٹ کرنا شروع کردیتی ہے۔ دیکھ بسمہ کسی کو پسند کرنا بری بات نہیں مگر جو طریقہ تو استعمال کرنا چاہ رہی ہے یہ غلط ہے۔ تونے بھی اس کی صرف شکل کو اہمیت دی اور اسے بھی صرف اپنی شکل کی بنیاد پہ متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ کوئی دل کا رشتہ تو نا ہوا“

”فائزہ یار بور نہیں کر، سوٹ لانا ہے تو بتا نہیں تو میں امبرین یا مریم سے کہہ دیتی ہوں“
”بھاڑ میں جا تو لانے سے کس نے منع کیا ہے مگر بسمہ خدا کے لیے خود کو نمائش کی چیز نہیں بنا۔ “
”یعنی تیرے علاوہ سب لڑکیاں اپنی نمائش لگاتی ہیں۔ بس تو بڑی خودار کی بچی ہے“
فائزہ کے چہرے کا رنگ ایک لمحے کے لئے بدلا تو بسمہ کو احساس ہوا کہ وہ جذبات میں بات غلط طریقے سے کہہ گئی۔

”اگر تو سچ سننا چاہتی ہے تو ہاں بالکل یہی بات ہے کسی لڑکی کے اچھے کپڑے پہننا بری بات نہیں مگر کسی اور کے لیے اپنی پسند اور اصولوں کے خلاف جاکر خود کو سجانا یا چھپانا تاکہ وہ آپ کو پسند کرسکے یہ اپنی ہی بے عزتی ہے۔ بسمہ تو قابل احترام ہے کیونکہ تو اچھی ہے تیرے کپڑے نہیں۔ تو جو پہنے گی بسمہ ہی رہے گی ذہین، ہمدرد اور حساس بسمہ اگر تو صرف شکل کو اہمیت دینے والی ہوتی تو ہم دوست نا ہوتے۔ بسمہ اپنے گھر والوں کے بنائے سطحی معیار سے نکل“

”یہی تو کرنے کی کوشش کر رہی ہوں فائزہ مجھے خوف آنے لگا ہے اپنے گھر کی گھٹن سے میری ماں نے ویسے ہی میری نمائش لگائی ہوئی ہے ایک بار بس ایک بار میں یہ سب اپنی مرضی سے اپنے لئے کرنا چاہتی ہوں مجھے زبردستی کی شادی نہیں کرنی اور اس کے لیے میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ “

جذبات سے بسمہ کی آنکھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا۔
”ٹھیک ہے لا دوں گی مگر جو کر سوچ سمجھ کے کر“

فائزہ نے پیسے بیگ میں رکھ لیے۔ دو دن بعد اس کی پسند کا ریڈ اور بلیک ڈزائنر اسٹائل کا سوٹ اس کے پاس تھا۔

فئیرویل والے دن وہ صبح سے بے چین تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ صبح 6 بجے ہی تیار ہو کر اسکول پہنچ جائے مگر فئیرویل کی وجہ سے اسکول جانے کا ٹائم 11 بجے دوپہر کا تھا۔ وہ کوئی بدمزگی نہیں چاہتی تھی اسی لیے سب کچھ بیگ میں ڈال لیا تھا۔ اس کے باوجود دادی سے منہ ماری ہوگئی۔ اس نے خود کو تسلی بھی دی مگر موڈ خراب ہی رہا اسکول پہنچنے تک۔ اسکول پہنچ کے وہ اور فائزہ فوراً اپنی کلاس میں آگئیں جہاں عموماً لڑکیاں اپنی تیاری مکمل کر رہی تھیں۔

بسمہ نے کھلے بالوں پہ برش پھیرا اور لپ شائنر اور پروفیوم لگا کر اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دیا۔ اسے یقین تھا کہ ایک تو آج اس کی تیاری کی وجہ سے اور موقع ایسا تھا کہ اسلم ضرور اظہار کردے گا۔ اب اسے انتظار تھا کہ اسلم کب آئے۔ وہ فائزہ کے ساتھ اسکول کے آڈیٹوریم میں آگئی جہاں فئیرویل کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ ڈراموں اور مختلف پرفارمنس میں حصہ لینے والوں کو اسٹیج کے پیچھے بلایا جارہا تھا۔

فائزہ اور بسمہ آگے جانے لگیں رستے میں اسے اسلم دوستوں کے ساتھ کھڑا نظر آیا اس کی توجہ دوسری طرف کھڑی لڑکیوں کی طرف تھی۔ بسمہ کو عجیب بھی لگا اور برا بھی جیسے اسلم اس کی ملکیت ہو۔ پاس سے گزرنے پہ اسلم کی توجہ بسمہ کی طرف ہوئی تو بسمہ نے بھی اسے بھرپور نظروں سے دیکھا آج اس نے نظریں چرانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ فائزہ اور اپنی باقی دوستوں کے ساتھ تھوڑی سی آگے والی قطار کی نشستوں پہ بیٹھ گئی۔

انہیں بیٹھے پانچ منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ آٹھویں کلاس کی عمارہ ان کے پاس آئی
”بسمہ باجی ٹیچر اسد کو بلوا رہی ہیں آپ نے دیکھا ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے یہیں تھا؟ “
”نہیں تو میں نے تو نہیں دیکھا مجھ سے پہلے ہی آیا تھا، اسکول آنے کے بعد میں نے نہیں دیکھا۔ کیوں کیا ہوا؟ “

”اس کے پاس حمزہ کا نمبر ہے۔ حمزہ نہیں آیا ابھی تک اور شروع کی کمپئیرنگ اسی نے کرنی ہے ٹیچرنے کہا ہے اسد سے کہو اسے کال کر کے پوچھے کہ کتنی دیر میں آئے گا۔ “

”حمزہ کون سا ؟ گل بانو کا کزن؟ “ عمارہ نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ ”چلو مجھے نظر آیا اسد تو ٹیچر کے پاس بھیج دیتی ہوں۔ “

عمارہ کے جانے کے بعد وہ سب پھر اپنی باتوں میں لگ گئیں بسمہ کو رہ رہ کر یہ خیال آرہا تھا کہ اگر وہ ایسے ہی دوستوں کے ساتھ بیٹھی رہی تو اسلم سے بات کیسے ہوگی۔ بہت سوچنے کے بعد وہ پانی پینے کے بہانے سے اٹھی۔ آڈیٹوریم کے دونوں اطراف میں باہر کی طرف برآمدے میں دو دو الیکٹرک کولر لگے ہوئے تھے۔ بسمہ جان بوجھ کے اسلم کے پاس سے ہوکر اس کولر کی طرف گئی جو دور ہونے کی وجہ سے خالی ہوتا تھا۔

آڈیٹوریم سے نکلتے ہوئے اس نے دیکھا کہ اسلم بھی دوستوں سے الگ ہو کر اسی سمت آنے لگا۔ بسمہ کولر کے پاس جاکر پانی نکالنے لگی جیسے اس نے نوٹ ہی نہیں کیا کہ اسلم پیچھے آیا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ پانی پینے لگی اسلم نے بھی آکر پانی نکالا مگر اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ کچھ کہنا چاہ رہا ہے۔ ایک گھونٹ پی کر رک گیا۔ پھر کہا۔

”بسمہ آپ برا نا مانیں تو ایک بات کہوں؟ “
”جی بولیں“
”آپ پلیز برا نہیں مانیے گا مگر۔ “ وہ کچھ رکا آپ پلیز دوپٹہ سرپہ اوڑھ لیں ”
”جی کیا مطلب“
بسمہ کچھ غیر متوقع بات پہ حیران ہوگئی۔

”وہ اصل میں آپ کے بال بہت خوبصورت ہیں لڑکے انہیں دیکھ رہے ہیں مجھے اچھا نہیں لگ رہا“
بسمہ کو اس کا کئیر کرنا بہت اچھا لگا وہ بلاوجہ ہی شوخ ہوگئی۔
”آپ کیا سب لڑکیوں کو دوپٹے پہنواتے پھرتے ہیں۔ “

”سب کو نہیں بس کسی اسپیشل کو۔ “ اسلم نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا اس کا ڈمپل دیکھ کر بسمہ کا دل پھر بے قابو ہونے لگا۔ اسلم اپنا گلاس رکھ کر آگے بڑھ گیا پھر کچھ آگے جاکر رکا اور مڑ کے بولا۔

”اگر ممکن ہو تو پروگرام شروع ہونے کے بعد کلاس میں آیئے گا اپنی، آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔ “ یہ کہہ کر تیزی سے اندر آڈیٹوریم میں چلا گیا۔

بسمہ بھی جلدی سے گلاس رکھ کے واپس دوستوں کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ فئیرویل شروع ہونے کا ٹائم تو ہوگیا تھا مگر شروع نہیں ہوا تھا پتا نہیں کیا مسئلہ تھا۔ خیر کوئی آدھا پون گھنٹہ گزرنے کے بعد پروگرام اسٹارٹ ہوا مگر عمارہ کے کہنے کے برعکس حمزہ کی بجائے کوئی اور لڑکا کمپئیرنگ کے لئے آیا تھا۔ بسمہ کو یاد تو آیا کہ عمارہ نے حمزہ کا بتایا تھا مگر زیادہ دھیان نہیں دیا اس کا دھیان صرف اس بات پہ تھا کہ کب اسے موقع ملے اور وہ کلاس میں جائے۔

آخر حمد نعت گزرنے کے بعد پہلا اسکٹ شروع ہوا اور سب کے توجہ مکمل اسٹیج کی طرف ہوگئی اس نے نوٹ کیا کہ پیچھے کی نشستوں سے اسلم اٹھ کر جان بوجھ کے اس کے سامنے کے دروازے سے باہر نکل گیا۔ بسمہ نے دو منٹ صبر کیا پھر فائزہ کے کان میں بتایا کہ اسے باتھ روم جانا ہے فائزہ نے ساتھ چلنے کا کہا مگر وہ اسے تسلی دے کر اٹھ گئی کہ وہ خود ہو کر آجائے گی۔

وہ بہت محتاط ہوکر کلاس کی طرف چل پڑی سارا اسکول سنسان پڑا تھا کلاس میں پہنچی تو اسلم وہاں پہلے سے موجود تھا۔ اسے دیکھ کے وہ ایک دم اس کی طرف آیا۔

”تھینک یو سو مچ بسمہ مجھے یقین تھا تم ضرور آو گی۔ اتنی طاقت تو ہے میرے جذبوں میں“
بسمہ کا دل پہلے ہی بہت تیز دھڑک رہا تھا اس کے اتنے اچانک جذبات کے اظہار پہ دھڑکن اور بڑھ گئی۔ اسلم نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

بسمہ کو اسلم کا اتنی نرمی سے ہاتھ پکڑنا بہت اچھا لگا اس کے مضبوط ہاتھ کی گرفت بہت نرم تھی۔
بسمہ کی طرف سے کوئی خاص ردعمل نا پاکر وہ تھوڑا قریب آیا۔
”بسمہ تم بہت خوبصورت ہو کسی مقدس دیوی کی طرح“ بسمہ کے گرد سحر سا طاری ہونے لگا اسلم اتنا رومانوی ہوگا اس نے صرف سوچا ہی تھا۔ یہ سب کچھ حقیقت میں ہوتا دیکھ کر اسے یقین نہیں آرہا تھا اسے لگ رہا تھا یہ بھی کوئی تصور ہے اور ابھی آکر کوئی اسے اس تصور سے نکال لے گا۔

بسمہ خفیف سا مسکرائی مگر خاموش رہی۔ اسلم کی ہمت اور بڑھ گئی۔
”پتا ہے سب مجھے ڈراتے تھے کہ تم بہت غصے والی ہو مغرور ہو، یہ ہو، وہ ہو، مگر یقین مانو مجھے کبھی یقین نہیں تھا ان سب کا، مجھے پتا تھا کہ اس مغرور چہرے والی کا دل بہت نازک جذبات سے لبریز ہوگا۔ “

وہ کچھ لحظہ رکا پھر بولا
”بسمہ تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں گھٹاؤں جیسے۔ “ اس نے آہستہ سے بسمہ کا دوپٹہ کھینچا جو اسلم ہی کی فرمائش پہ اس نے سر پہ اوڑھ لیا تھا۔ اتنی دیر میں پہلی بار بسمہ کو احساس ہوا کہ سب کچھ اتنا بھی اچھا نہیں جتنا لگ رہا تھا۔ اس نے دوپٹہ سختی سے پکڑ لیا۔

”ابھی تم نے ہی تو اوڑھنے کے لیے کہا تھا“ بسمہ کی آواز میں خفیف سے لرزش تھی۔
وہ ہلکے سے ہنسا۔
”وہ تو دوسروں کے لیے نا، محبت کرنے والوں کے درمیان یہ تکلّفات نہیں ہوتے۔ “

بسمہ اتنی سمجھ دار تو تھی کہ یہ سمجھ سکے کہ اب جو کچھ ہونے والا تھا وہ رومینس ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اسے زبردستی کہا جاسکتا ہے اور اس لفظ ”زبردستی“ نے اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا اسی سے بچنے کے لیے تو وہ سب کرنے کے لئے تیار تھی مگر اس سب میں یہ بھی ہوگا اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ وہ گھبرا کر مڑی

”فائزہ والے میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ “
اسلم نے کلائی سختی سے پکڑ لی
”اتنی جلدی کیا ہے جس کام سے آئی ہو وہ تو پورا کرلیں۔ “
جاری ہے۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 67 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *