کورونا کے خاتمے کی مدت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مائیکل ہیماٹی وائرولوجی میں پی ایچ ڈی ہیں۔ وائرس کی ہر نسل کا مطالعہ اور تجزیہ کرنا ان کا پیشہ ہے۔ انہوں نے سینما آرٹس میں الگ سے ماسٹر کر رکھا ہے۔ وہ جانوروں، وباؤں اور فنون لطیفہ پر ڈاکو منٹریز بنا کر اپنے پیشے اور شوق کو ساتھ ساتھ وقت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 وائرس (کورونا) اگلے تین ماہ میں ختم ہو جائے گا۔ کرونا وائرس کی نسل انسانوں کے لئے نئی ہے لیکن جو لوگ ویٹرنری میڈیسن پڑھے ہیں ان کے لئے اس وائرس کا خاندان جانا پہچانا ہے، ماہرین پچاس سال سے کورونا خاندان کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

یہ خاندان Corona viridae کہلاتا ہے۔ اس خاندان کے دو بدصورت بچے ہیں۔ ایک جو کم مضر ہے اسے ٹورو وائرس کہتے ہیں جبکہ دوسرا نہایت وحشی اور اشتعال دلانے والا کورونا وائرس کہلاتا ہے۔ یہ والا وائرس گھر کے پالتو جانوروں سے لے کر مویشیوں کے فارم تک دکھائی دیتا ہے۔ انسان کو چمٹ جائے تو اسی طرح نظام تنفس کو نشانہ بناتا ہے جیسے جانوروں کے۔ بہت سے کتے، بلیاں، خرگوش، بھینسیں اور بچھڑے اس کے ہاتھوں مارے گئے۔

مائیکل ہیماٹی کی تحقیق بتاتی ہے کہ کورونا وائرس کے متاثرین کی شرح اموات میں موسم اور درجہ حرارت بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ موسم گرما میں جب درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے تو اس وائرس کے اثرات ختم ہونے لگتے ہیں۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ کوروناوائرس درجہ حرارت سے بھاگتا ہے۔ کووڈ 19 کو کنٹرول کرنے کا فارمولا اگر بدحواسی کی حالت میں ترتیب نہ دیا جائے تو بہت سادہ کہا جا سکتا ہے۔ سارے ملک میں لاک ڈاؤن کر دیا جائے۔

مریضوں اور مرض کو پھیلانے والوں کو باقی لوگوں سے الگ کر دیا جائے۔ لوگوں کے درمیان میل ملاقات کو سختی سے روک دیا جائے۔ جس علاقے میں مرض کی اطلاع ملے اسے باقی علاقوں سے الگ تھلگ کر دیا جائے جیسے رائیونڈ سٹی کو الگ کیا گیا۔ کورونا وائرس منتقلی کے بعد افزائش کرتا ہے۔ اس افزائش کے لئے اسے ایک خاص مدت درکار ہوتی ہے۔ اسی دوران متاثرہ فرد صحت یاب ہو جاتا ہے یا مر جاتا ہے۔ لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کے پروٹوکول پر عمل کریں تو یہ وبا تین ماہ میں ختم ہو سکتی ہے۔

متاثرہ علاقوں اور مریضوں کو الگ تھلگ کرنا آسان نہیں۔ یہ طریقہ 90 فیصد کامیابی دے سکتا ہے مگر اس کے لئے سختی بلکہ تھوڑی سی سنگدلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ چین نے اگر گھروں سے نکلنے پر بضد افراد پر تشدد نہ کیا ہوتا تو وہاں حالات قابو میں نہ آتے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جانوروں کو باڑے میں بند رکھا جا سکتا ہے، انسانوں کو نہیں۔ چین نے ٹرین کے مسافروں کو ہربار نہیں نکلنے دیا۔ جو جس جگہ تھا وہیں روک دیا گیا۔

یہ بات پیش نظر رہے کہ کوروناوائرس ختم نہیں ہو گا۔ یہ پہلے سے موجود تھا اور رہے گا۔ انسانی کوششیں اس کا توڑ ڈھونڈ نکالیں گی اور یہ ہلاکت خیز نہیں رہے گا۔ بالکل ایسے ہی جیسے 1918 ء میں ہسپانوی فلو کی وبا پھیلی، ہزاروں مارے گئے۔ پھر علاج دریافت ہوا۔ یہ وائرس آج بھی موجود ہے مگر خطرناک نہیں رہا۔ اس وقت دنیا کی 50 بڑی فارما سیوٹیکل کمپنیاں کوروناوائرس کی ویکسین تلاش کر رہی ہیں۔ ان میں سے کئی کمپنیوں کا بجٹ پاکستان کے سالانہ بجٹ سے بڑا ہے۔

دنیا اب صرف امریکی ٹیکنالوجی کی اسیر نہیں رہی۔ ہر ملک کے پاس تحقیق کے بنیادی اصولوں کا علم موجود ہے۔ امریکہ تو اپنی دفاعی ٹیکنالوجی کو بھی برتر نہیں رکھ سکا، اسی لئے کئی چھوٹے ملکوں کے ہتھیار اور دفاعی ٹیکنالوجی عالمی منڈی میں پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔ امریکہ نے کئی عشروں تک کیوبا کو سوشلسٹ ہونے کے جرم میں پابندیوں کا شکار رکھا۔ کورونا وائرس کے خلاف امریکہ نے کیوبا کے ڈاکٹروں سے مدد طلب کر لی ہے۔

میں نے مائیکل ہیماٹی سے پوچھا کہ درجہ حرارت والی بات کو سچ مان لیا جائے تو پھر عرب ممالک میں کورونا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مائیکل نے بتایا کہ وہ حتمی پیشگوئی نہیں کر سکتے مگر مشرق وسطیٰ کے لگ بھگ تمام علاقوں میں باہر کا ٹمپریچر کام کرنے والی جگہوں، سب ویز، پبلک ٹرانسپورٹ اور ہوٹلوں سے زیادہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں مختلف طرح کے درجہ حرارت ملتے ہیں۔ کام کرنے والی اور اجتماع والی جگہوں کا ٹمپریچر 20 سے 25 سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں ہوتا۔

لوگ سارا وقت اسی ٹمپریچر میں رہتے ہیں جو مرض کی وجہ بن رہا ہے۔ ہیماٹی کی گفتگو سہمے ہوئے لوگوں کے لئے حوصلہ پیدا کر رہی ہے۔ سب کو اس اچھے دن کا انتظار ہے۔ جب ہم پہلے جیسے ہو جائیں گے۔ عزیز دوست جمیل احمد عدیل کی نظم پڑھیں :

کاسمک ڈسٹ چھانتے ہوئے
شنید ہے
گیارہ ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار
اور چالیس برس سے رواں دواں
وائجر *
کہیں بین النجوم ہی ڈول رہا ہے

ایلفا سینتوری، یعنی
ستاروں کے جھرمٹ تک رسائی
ستر ہزار سال کا تاوان مانگتی ہے
کہ، پینتالیس کھرب میل کی رسی
بیچ میں تنی ہوئی ہے

ہم بھی کیا کریں
وبا خود تو دفان ہوگئی، مگر
اپنی نشانی چھوڑ گئی
گردنوں کے پٹھے فطری لچک کھو بیٹھے
خیر، اسٹیل کے پائپ ڈال کر کام چلایا جا رہا ہے
گردن بسہولت گھوم تو جاتی ہے، لیکن
رخ اوپر کی جانب نہیں ہو پاتا

تاہم سب متفق ہیں
گرد و پیش اور بلندیوں میں کوئی جوہری فرق نہیں
گویا متضاد فیصلوں کو بھی سماوی توثیق حاصل ہے
جیسے ماضی میں
دھاتی راڈ کا موجد بن فرینکلن
اول اول رد ہوا تھا

اور، جادو گروں، سے زمین پاک ہوئی تھی
کہ، اونچے میناروں پر آسمانی بجلی کا گرنا
انہی شیطانوں کی کارستانی قرار پائی تھی
ماورا سے القائی رابطوں کا شعبہ
اب بھی فعال ہے

حساس پردوں پر خفگی اور نشاط کے گراف بن رہے ہیں
تسبیح گزار پرندوں کے گلوں کو
چھری کی تیز دھار تکبیر پلا رہی ہے

کیا عجب
یہ گفتگو ہی خارج از نصاب ٹھیرے
بسیط پہنائیوں میں رازوں کی مچھلیاں تیر رہی ہیں
یا فضائے مکانی ایک بیکراں اجاڑ ہے
بشکریہ روزنامہ 92

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *