کیا غریبوں کو دیکھ کر آپ اجتماعی احساسِ گناہ کا شکار ہو جاتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالدہ نسیم کا خط

ڈیر ڈاکٹر خالد،

آج کیون کارٹر کی وہ یادگار تصویر میری نظر سے گزری جس کو پولٹزر پرائز ملا تھا اور جو کیون کی شہرت کی وجہ بنی۔ کیون کارٹر ایک سفید فام ساؤتھ افریکن فوٹو جرنلسٹ تھا۔ جو جوہانس برگ میں پیدا ہوا۔ وہ سفید فام لوگوں کے درمیان بڑا ہوا۔ لیکن وہ ہمیشہ سیاہ فام لوگوں پر ظلم ہوتے دیکھ کر بے چین ہو جاتا تھا۔

مارچ 1993 میں کارٹر کو سوڈان میں قحط سے متاثرہ علاقے آیود میں یو این کے ایک گروپ، جو کہ قحط زدہ علاقے میں خوراک پہنچانے کی مہم پر جا رہاتھا، کے ساتھ جانے کا اور وہاں کے حالات کو فوٹوگرافی کے ذریعے ریکارڈ کرنے کا موقع ملا۔ وہاں ایک قحط زدہ علاقے سے گزرتے ہوئے اسے ایک چھوٹا بچہ نظر آیا جو بھوک کے مارے نا چل سکنے کی وجہ سے زمین پر منہ کے بل سر رکھ کر گرا پڑا تھا اور قریب میں ہی ایک گدھ کچھ فاصلے پر بیٹھا اس بچے کے مرنے اور اس پر حملہ آور ہونے کے موقع کے انتظار میں تھا۔

کیون نے اس منظر کی تصویر لی۔ جو ”گدھ اور چھوٹی بچی“ کے نام سے مشہور ہوئی اور جس کو بعد میں پولٹزر پرائز ملا۔ اور کیون کو کافی شہرت ملی۔ کیون کو یو این گروپ کے اصولوں کے مطابق بچے کے نزدیک جانے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن اس نے گدھ کو وہاں سے بھگا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت اس بچے کی جان بچی لیکن کچھ سال بعد کسی اور بیماری کی وجہ سے وہ بچہ چل بسا۔

کیون کی تصویر کی شہرت کے جواب میں کسی نے کیون کو لکھا۔ ”اس تصویر میں ایک نہیں بلکہ دو گدھ ہیں۔ ایک وہ جو تصویر میں ہے۔ اور دوسرا وہ جس نے یہ تصویر لی ہے“ ۔ کچھ ہی عرصے بعد 1994 میں کیون نے 33 سال کی عمر میں خودکشی کر لی۔ اور اپنے خودکشی کے نوٹ میں کیون نے لکھا، ”مجھے بہت افسوس ہے۔ بہت افسوس ہے۔ زندگی کا درد اس کی خوشی پر اتنا حاوی ہے کہ خوشی کی موجودگی کا پتہ نہیں چلتا۔ بھوکے اور زخمی بچوں کا شدت پسند لوگوں، پولیس اور قاتلوں کے ہاتھوں قتل، لاشیں، غصہ اور درد کی یادداشتیں مجھے ستاتی ہیں“ ۔ اور اس طرح اس نے اپنی جان لی۔

آج دوپہر کے قریب بھوک اور بوریت کے احساس سے باورچی خانے میں گئی۔ کھانے کی میز پر کچھ پھل رکھے تھے۔ میں نے ایک مالٹا اٹھایا اور کھا لیا۔ پھر کیلا اٹھایا اور کھا لیا۔ پیٹ کی آگ کچھ کم نہیں ہو رہی تھی تو پینٹری (کھانے کی اشیاء رکھنے کی الماری) کا رخ کیا۔ مونگ پھلی جو میری پسندیدہ خوراک میں سے ہے، نظر آئی۔ کچھ اٹھائی اور کچن کاؤنٹر پر بیٹھ کر چھیلنے لگی۔ اور پھر جیسے کسی نے میرے منہ میں کڑوا زہر انڈیل دیا ہو۔

مونگ پھلی منہ میں ڈالنے سے پہلے ہی ایک کڑواہٹ نے آن لیا۔ بالکل ایسا احساس جیسے میں یہ سب کھانے پینے کی اشیاء کسی سے چوری کر کے لائی ہوں۔ کتنے لوگ اس وقت سادہ روٹی بھی آسانی سے نہیں پوری کر سکتے۔ ایک گناہ کے احساس نے گھیر لیا۔ اس احساس کو کم کرنے کے لئے میں نے پاکستان میں ایک دوست کو کچھ رقم بھجوا کر کچھ ضرورت مند ساتھیوں کو اپنے ساتھ کھانے پینے میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اور یوں کچھ سکون کا احساس ہوا۔

لیکن اس سے کہیں زیادہ اس حقیقت نے متاثر کیا کہ ہمارے یہ دوست اپنے کچھ ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر ایک۔ راشن ڈرائیو چلا رہے ہیں۔ اور کافی سارے ضرورت مندوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ میں بخوبی جانتی ہوں کہ ان دوستوں کا کاروبار بھی پچھلے کئی دنوں سے بند پڑا ہے۔ آج کل کے وبا کے دنوں میں، جبکہ زندگی کا کاروبار پر ایک سکوت آ چکا ہے۔

وہ لوگ جو روزمرہ کی دیہاڑی پر کام کرکے رات تک دو پیسے کما لیتے تھے اور اسی کمائی سے دو وقت کی روٹی گھر لے کر جاتے تھے۔ ان کی یہ کمائی بھی اس سکوت کا شکار ہو چکی ہے۔ اور وہ اپنی ضروریات اور بھوک سے خوفزدہ ہیں۔ ایک خاتون جو اپنے لئے کھانے پینے کا سامان خرید کر گھر جاتے ہوئے غریب مزدوروں کو راستے میں کچھ دینا چاہ رہی تھیں۔ ان کو فٹ پاتھ پر دو مزدور نظر آئے۔ انھوں نے گاڑی روک کر اپنے بٹوے سے پیسے نکالنے کے لئے بٹوے میں جیسے ہی ہاتھ ڈالا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بھوک کے مارے لوگوں کا ایک ہجوم گاڑی کے ارد گرد اکٹھا ہو گیا اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی تگ و دو میں کچھ نے ہاتھ گاڑی کی کھڑکی کے اندر ڈالے۔

کچھ ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے گاڑی پر زور ڈالنے لگے۔ جس سے ان خاتون کو لگا جیسے یہ گاڑی کو الٹ دیں گے۔ اور اس ہجوم کو کنٹرول نا کر سکنے کے خوف سے ان کو وہاں سے نکل جانا پڑا۔ لیکن ان غریبوں کی آنکھوں میں نظر آنے والی بھوک نے ان خاتون کو جس طرح متآثر کیا تھا، اس کی وجہ سے ان کی نفسیاتی اور ذہنی کیفیت قابل دید تھی۔ پھر مجھے ایک وڈیو دیکھنے کو ملی جس میں چند نوجوان لڑکوں نے بہت سارے غریب لوگوں کے شناختی کارڈ اور ٹیلیفون نمبر جمع کیے تھے اور ان سب کے لئے ٹوکن بنائے تھے اور ایک دکان کا پتہ لکھ دیا تھا۔

کہ وہاں یہ ٹوکن دکھا کر اپنے لئے راشن اٹھا لیں۔ دکاندار کو راشن کی قیمت پہلے سے ہی ادا کر دی گئی تھی۔ ایک اور منظر میں دیکھا کہ ایک گاڑی گلیوں میں سے گزر رہی ہے اور راشن کا ایک ایک تھیلا ہر دروازے پر اور جہاں کوئی مزدور، غریب نظر آیا اس کے پاس چھوڑ رہی تھی۔ ان سب مناظر نے مجھے اس سوچ میں ڈالا کہ جہاں دنیا کی آدھی سے زیادہ دولت ایک فیصد لوگوں کے پاس ہو کر رہ گئی ہے اور باقی کے 99 فیصد لوگ زندگی کی بنیادی ضروریات اور بھوک کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں اور کئی آج کل کی صورت حال جیسے حالات میں موت کے منہ میں چلے جانے کے خطرے سے دو چار ہیں وہاں دنیا میں حساس لوگوں کی کمی نہیں۔ یہ حساس لوگ انہی 99 فیصد لوگوں میں شامل ہیں جو ایسے مشکل وقت میں آگے بڑھ کر انسانیت کے بچاؤ کے لئے اپنا دل کھول دیتے ہیں۔

میری نظر میں انسان پیدائشی طور پر ایک پاک اور حساس روح لے کر اس دنیا میں آتا ہے۔ یہی روح انسان کو ایسے اوقات میں بے چین رکھتی ہے اور انسانیت کی خدمت میں اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اور اگر کبھی کہیں ایسا کوئی موقع نظر انداز ہو جائے تو کچھ حساس لوگوں پر کیون کارٹر کی طرح اپنی زندگی بوجھ بھی بن جاتی ہے۔ کچھ ایسے لوگ ضرور ہوتے ہیں جن کی روح کی خوبصورتی اپنے حالات، مادہ پرستی اور طاقت کے حصول جیسے نفسانی خواہشات کے نیچے دب جاتی ہے۔ لیکن دنیا میں اچھے اور حساس لوگ ان سے کہیں زیادہ ہیں۔ اور جب تک انسانیت کا وجود ہے۔ تب تک یہ دنیا اچھے لوگوں کی بدولت قائم و دائم رہے گی۔ اور انسانیت فروغ پاتی رہے گی۔

جیسے اقبال نے کہا تھا

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔

میری نظر میں یہ شعر پوری انسانیت کے لئے ہے۔ میرا آج بڑا دل کر رہا تھا کہ اپنی ذہنی کیفیت آپ سے شئر کروں۔ آپ کی ان خیالات کے بارے میں کیا رائے ہے؟

آپ کی ادبی دوست خالدہ ۔ ۔ ۔

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب ۔ ۔

ڈیر ڈاکٹر خالدہ!

آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے تجربات اور مشاہدات، نظریات اور احساسات میرے ساتھ شیر کیے۔

آپکے خط کے کئی پہلو ہیں جن پر میں اپنی رائے رقم کر سکتا ہوں لیکن اس خط میں صرف چند ایک پر رائے زنی کروں گا۔ آپ کے خط کے پہلے حصے اور کیون کارٹر کی درد بھری کہانی کا تعلق collective guilt سے ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ انسانی تاریخ بہت سی نا انصافیوں اور محرومیوں سے بھری پڑی ہے۔ ہر دور اور ہرملک میں صاحبِ ثروت اور اصحابِ بست و کشاد نے ایسے نظام اور قوانین بنائے جن کی وجہ سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے چلے گئے۔

امیروں نے غریبوں پر مردوں نے عورتوں پر اور گوروں نے کالوں پر بہت سے ظلم ڈھائے اور اب بھی ڈھا رہے ہیں۔ جو لوگ کیون کارٹر کی طرح حساس اور ہمدرد ہوتے ہیں وہ جہاں بھی ظلم اور نا انصافی دیکھتے ہیں وہ دکھی ہو جاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ حالات کو دو طرح سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر۔ جو لوگ ہمدرد ہوتے ہیں وہ غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں انہیں کپڑے دیتے ہیں ان کے علاج کے لیے دوائیاں دیتے ہیں۔ یہ نیک لوگ وولنٹیر ورک کرتے ہیں اور انسانیت کی بے لوث خدمت کرتے ہیں۔

ڈیر ڈاکٹر خالدہ!
دوسرا طریقہ اجتماعی طریقہ ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ اگر آپ بھوکے کو کھانے کے لیے مچھلی دیں تو اس کی ایک وقت کی بھوک مٹ جاتی ہے لیکن اگر آپ اسے مچھلی پکڑنا سکھا دیں تو وہ اس کی ساری عمر کی بھوک مٹ سکتی ہے۔ اس کی ایک عمدہ مثال بنگلہ دیش کے نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات محمد یونس کا فلسفہ ہے۔ انہوں نے گرامین بینک سے لاکھوں عورتوں کو قرضے دیے جن سے وہ نہ صرف غربت کے چکر سے باہر نکلیں بلکہ باعزت زندگی گزارنے کے قابل بھی ہوئیں۔ محمد یونس کا تجربہ اب تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اپنایا جا رہا ہے۔

میں نظریاتی طور پر ایک سوشلسٹ ہوں میرا نظریہ یہ ہے کہ ہمیں ایسا نظام بنانا چاہیے جس میں ملک “قوم اور معاشرے کا ہر بچہ زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم نہ ہو

اس کے پیٹ میں کھانا ہو
اس کے سر پر چھت ہو
اس کو ضرورت پڑے تو اس کا علاج ہو
اسے تعلیم حاصل کرنے کا پوراموقع ہو

اگر آپ ناروے ڈنمارک سویڈن اور کسی حد تک کینیڈا کا نظام دیکھیں تو حکومت یہ کوشش کرتی ہے کہ قوم کے سب غریبوں، محروموں، مظلوموں اور بیماروں کا خیال رکھا جائے۔ اسی لیے یہاں ایک ویلفیر سسٹم بھی نافذ کیا گیا ہے اور انسانی حقوق کے احترام کے قوانین بھی بنائے گئے ہیں۔ میں امریکہ کی بجائے کینیڈا میں اس لیے رہائش پذیر ہوں کیونکہ یہاں کا نظام سوشلسٹ ہے۔ اس کی ایک مثال سب کینیڈینز کا مفت علاج ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ میں ایک مالدار ملک ہونے کے باوجود، لاکھوں ایسے مرد عورتیں اور بچے ہیں جن کے پاس نہ تو علاج کی سہولتیں ہیں نہ ہی انشورنس ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کینیڈا سوشلزم اور امریکہ کیپیٹلزم کے قریب ہے۔

کرونا وبا نے ہم پر یہ بات آشکار کر دی ہے کہ غریب اور امیر سب ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔ اگر انسانیت کی کشتی ڈوبے گی تو ہم سب اس میں ڈوبیں گے۔

کیون کارٹر کی کہانی میں جس بات سے میں سب سے زیادہ دکھی ہوا وہ کسی اجنبی کا یہ کہنا کہ بچے کے پاس دو گدھ تھے۔ اس نے کیون کارٹر کو بھی گدھ کہا۔ کیون کارٹر ایک سفید فام انسان ہونے کے ناتے پہلے سے ہی اجتماعی احساسِ گناہ کا شکار تھا اس لیے وہ اتنا دکھی ہوا کہ اس نے خود کشی کر لی۔

ڈیر ڈاکٹر خالدہ!

میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر اس انسان کو جو پوری انسانیت کی بارے میں فکرمند رہتا ہے حقیقت پسند بن کر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس قدر انسانیت کی خدمت کر سکتا ہے۔ کیون کارٹر کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے تھا کہ اس نے ایک باضمیر فنکار بن کر ایک تصویر سے۔ جو ہزاروں الفاظ سے زیادہ طاقتور تھی۔ ساری دنیا کو غریبوں کے مسائل سے آگاہ کیا اور سماجی شعور کو بڑھاوا دیا۔ اس کے بس میں جو ہو سکتا تھا اس نے کیا۔

اگر ہم کیون کارٹر کے نقشِ قدم پر چلیں اور اجتماعی احساسِ گناہ کا شکار ہوجائیں تو سب امیر، سب مرد اور سب گورے خود کشی کر لیں۔ میں خودکشی کو کسی مسئلے کا حقیقت پسندانہ حل نہیں سمجھتا۔ بدقسمتی سے کیون کارٹر کا حل جارحانہ اور شدت پسندانہ حل تھا۔

میری نگاہ میں ہر ہمدرد انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کس طرح انسانیت کی خدمت کر سکتا ہے۔

ڈیر ڈاکٹر خالدہ!
آپ ایک ہمدرد انسان ہیں۔ آپ نے پاکستان غریبوں کے لیے محبت بھرا تحفہ بھیجا جوکارِخیر ہے۔ آپ ایک ڈاکٹر اور پتھالوجسٹ ہونے کے ناتے سینکڑوں مریضوں کے کینسر کی تشخیص کرتی ہیں اور وہ اپنا علاج کر کے صحتمند ہو جاتے ہیں۔

آپ کو احساسِ گناہ اور احساسِ ندامت کی بجائے اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ ایک پٹھان خاتون اور ایک روایتی معاشرے کی دختر ہونے کے باوجود آپ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اب اپنی ذہانت اور قابلیت سے نہ صرف کامیاب زندگی گزار رہی ہیں بلکہ بہت سی پاکستانی لڑکیوں اور پٹھان عورتوں کے لیے ایک اعلیٰ رول ماڈل بھی بن گئی ہیں۔

آپ کی انسانیت کے نام خدمات دیکھ کر مجھے آپ کی دوستی پر فخر ہے۔
آپکا ادیب اور طبیب دوست
خالد سہیل

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *