اسلام آباد میں خودکشی اور پولیس کا رویہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موت برحق ہے لیکن اس کے باوجود ہر شخص موت سے خوف زدہ ہوتا ہے۔
ناجانے کب ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں موت کو گلے لگانے کے بارے میں سوچنے لگتاہے۔ شاید ایسے شخص کا دماغ اسے کسی بند اندھیرے گلی میں پہنچا دیتا ہے جہاں سے نا تو آگے بڑھا جاسکتا ہے نا پیچھے۔

آج فیصل نے خودسوزی کرلی۔ سڑک پہ آگ لگانے کے بعد موت کی دہلیز پار کرنے تک کا دورانیہ کس قدر اذیت ناک ہوگا یہ صرف وہ ہی جانتا ہے۔ لیکن شاید یہ اذیت اس کم لگی ہوگی جبھی خود سوزی کے لئے تیار ہوا۔

اس نے مرنے سے پہلے ایک خط بھی لکھا تھا حکومت وقت کے نام جس میں اپنے ساتھ ہونے والی پولیس کی زیادتی کا ذکر تھا۔ وہ کئی دنوں سے وزیراعظم ہاؤس کے آگے اپنی فریاد لے کے حاضر ہوا تھا۔ کوئی شنوائی نہ ہوئی تو اس کی اپنی من پسند حکومت سے اعتباراٹھ گیا اور آخری امید بھی دم توڑ گئی۔

وہ ایک شخص جل کر راکھ ہوگیا لیکن اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گیا۔
اسے پولیس سے شکائیت تھی۔ اس پہ جھوٹا کیس ڈالا جارہا تھا۔ فیصل پہ ایک لڑکی سے زیادتی کا کیس بنا تھا اس سے پہلے بھی وہ کسی کیس میں نامزد تھا اور اشتہاری تھا۔ وہ اپنی فریاد وزیراعظم کوسنانا چاہتا تھا کہ اس پہ مسلسل پولیس کی جانب سے جھوٹے کیس بنائے جارہے ہیں۔

جھوٹا کیس۔ اس جھوٹے کیس کی شکار تو کتنی بے شمار فیملیز ہیں۔ کہیں پیسہ کھلا کر اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹے کیس بنادیے جاتے ہیں کہیں تعلقات کی وجہ سے کمزور خاندانوں کو تھانے کچہری میں خوار کروایا جاتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ کراچی کی ہائی کورٹ میں پیش آیا تھا جب ایک شخص عدالت میں اپنی صفائی دیتے دیتے تھک گیا اور عدالت کی عمارت سے کود کر اپنی جان دے دی۔

پولیس ایک ایسی فورس ہے جو ہر طبقے کی پہنچ پہ ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ صرف کام ان کے ہی آتے ہیں جو ان کی جیب گرم کردیں یا اوپر سے فون کروادیں۔

کون سدھارے کا اس پولیس کو۔ کب تک ان کے حصے کے کاموں کے لئے شہروں کو رینجرز کے حوالے کیا جاتا رہے گا۔

تھانوں کی حالت اور وہاں کا ماحول کبھی صحیح ہوگا یا نہی۔
ایک بچہ اپنے دوستوں کی جھگڑے میں حوالات کی ہوا کھا لیتا ہے تو وہ رات اس پر قہر بن کے گزرتی ہے۔ وہ واہیات حرکتیں تھانوں میں کی جاتی ہیں کہ لڑکے باہر آکر بدلے کی آگ میں سلگتے رہتے ہیں پھر ایک گینگ تیار ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ یونہی چلتارہتا ہے۔

لڑکیاں اپنی پسند سے شادی کرلیتی ہیں تو شوہروں پہ اغواء کے مقدمے درج ہوجاتے ہیں۔
خدارا اس سسٹم پہ توجہ دیں۔ یہ سسٹم صحیح ہونا چاہیے۔ ایک اس سسٹم کے صحیح ہوجانے سے اس ملک کے کئی معاملات سدھرسکتے ہیں اور آج جو یہ ملک بے شمار مسائل کا شکار ہے اس میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ کم از کم کوئی اس سسٹم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں موت کو گلے نہی لگا سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *