روٹی بھی ضروری ہے اور انٹرنیٹ بھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


انسان جدوجہد کے معاملے میں تقسیم در تقسیم ہے وہ بیک وقت اپنے وجود کو کئی محازوں پر برسر پیکار پاتا ہے۔ ایک جنگ انسان کی اپنے باطن کے ساتھ ہوا کرتی ہے، یعنی منازل کے حصول تک کی جستجو، اس چنگاری کو لپکتے رہنا چاہیے، شکیب جلالی نے کہا تھا۔

یہ کائنات ہے، میری ہی خاک کا ذرہ
میں اپنے دشت سے گزرا تو بھلا پائے بہت

ساٹھ کی دہائی میں ایوب خان کا شخصیت پرست دور اختتام کو پہنچا تو امیر و غریب کے درمیان معاشی فرق حد نگاہ س کہیں آگے بڑھ چکا تھا، یہ ملک اور جمہوریت کے لئے بدقسمتی کا باعث تھا کہ اقتدار کی زمام جن کے حوالے کرنی چاہیے تھی، نہیں کی گئی تھی۔ اس سیاسی افراتفری نے عوام کو معاشی طور پر پیس کر رکھ دیا تھا، ہماری معیشت پر قابض جن دو درجن کے قریب امیر ترین خاندانوں کا ذکر کیا جاتا ہے درحقیقت یہ اعداد و شمار ایوب خان کے اپنے پلاننگ کمیشن کے جاری کردہ تھے، اب اس بات سے کون انکار کرے کہ یہ شماریات درست نہ تھے، دوسری طرف مشرقی اور مغربی بازوؤں میں خط تقسیم کھینچ دیا تھا۔

عوام اور خصوصاً نوجوان دونوں مشتعل تھے کہ کیوں ہمارے ملک کے ساتھ انصاف نہیں ہوا، ان حالات میں ایوب خان کے ”بلیو آئیڈ“ کے لئے اقتدار میں رہنا مشکل ہوگیا تو فیصلہ یہ ہوا کہ اب بادل نخواستہ اقتدار کو مغربی اکثریتی پارٹی کے سربراہ کے حوالے کرنا پڑے گا، ڈھاکہ اس واقعہ سے پہلے سرنگوں ہوچکا تھا، اقتدار کی رسہ کشی کا معاملہ تو بڑے لوگوں کا تھا، عام عوام تو دو وقت کی روٹی اور سر چھپانے کے لئے چھت ڈھونڈنے کی تلاش میں ہے۔ ”روٹی، کپڑا اور مکان“ تھی تو حالات کی پکار مگر اس کو سیاسی نعرے کی شکل بھٹو نے نہایت عقلمندی سے دے ڈالی۔

ساٹھ کی دہائی کے آخر میں ان تین لفظوں کی شکل میں ظاہر ہونا گویا معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھنے کے مترادف تھا۔ اسی نعرے نے پی پی پی کو تین دفعہ مرکزی حکومت تک پہنچایا ہے، سات دہائیوں تک اس کی گھن گرج سنائی دیتی رہی ہے مگر موجودہ دور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے۔

ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں گوگل کے ایک ذیلی ادارے کی سابق سربراہ نے ”ڈیجیٹل پاکستان“ کی تعریف میں اسی نعرے کا سہارا لیتے ہوئے انٹرنیٹ کی سہولت کو شامل کیا ہے یعنی روٹی، کپڑا، مکان اور انٹرنیٹ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس آگے بڑھتے ہوئے دور میں ہمیں اس کی دستیابی کو مکمل بنانے کے لئے تگ و دو کرنی چاہیے۔ پی پی پی کے اکابرین اگر چاہتے تو یہ ضروری ترمیم کرسکتے تھے مگر شاید قدرت کو یہی منظور تھا کہ اس میں اضافہ کسی غیر سیاسی شخصیت کو کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے یہاں سیاسی لوگوں کے اچھے مشوروں کو بھی حکمران طبقہ کم ہی اہمیت دیتا ہے۔

گوگل کی سابق سربراہ تانیہ ایدروس کی بات ہمارے لئے پیغام ہے کہ کرونا کی عالمی وبا کے پیش نظر تعلیمی اداروں سمیت کئی دوسرے اداروں کو تالے لگ چکے ہیں چنانچہ حالات کی نزاکت کا تقاضا یہی ہے کہ انٹرنیٹ کی بروقت اور آسان ترسیل کو ممکن بنایا جائے، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق تعلیمی اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ طلباء گھروں میں محدود رہتے ہوئے یونیورسٹیوں کی آن لائن کلاسوں میں شامل ہوسکتے ہیں لیکن ان آن لائن کلاسوں تک رسائی بھی ”اک آگ کا دریا ہے“ والا معاملہ ہے، ایک طرف انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں اور دوسری طرف استاد نے لیکچر کو طلباء تک کیسے پہنچانا ہے اس کا طریقہ کار بھی واضح نہیں۔

اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان کے شکایات سیل اور ایچ ای سی کو شکایات کے انبار موصول ہوئے ہیں، طلباء کا موقف اس لئے بھی درست ہے کہ ہماری یہاں انٹرنیٹ کی معیاری اور سستی ترسیل موجود نہیں، اس کے علاوہ طلباء جن کا دور دراز کے علاقوں مثلاً گلگت بلتستان، آزاد کشمیر فاٹا وغیرہ سے تعلق ہے ان علاقوں میں سوشل میڈیا کی رسائی کی سہولت ناپید ہے، عالمی وبا کے باعث تعلیمی میدان میں شکست و ریخت سے بچنے کے لئے گھروں کی دہلیز تک روٹی کے اسباب کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ تک بھی رسائی دینا ہوگی۔

ایچ۔ ای۔ سی جو کہ ڈیجیٹل میڈیا اور ان پروگراموں کی دیکھ بال میں مصروف ہے، کو چاہیے کہ حکومت کے ساتھ ملکر طلباء کی رہنمائی کرے، اس معاملے میں آسانی کے لیے آن لائن پورٹل بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے، مزیر براں آن لائن لیکچر مہیا کرنے والے اساتذہ کے لیے بھی یہ درس و تدریش کا جدید طریقہ کار سمجھانے اور سکھانے کا اہتمام کرنا بہت اہم ہے

تعلیمی میدان میں عالمی وبا کو شکست دینے کے لیے ان دو باتوں کو مدنظر رکھے بغیر بقول منیر نیازی ”یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *