کورونا وائرس کی وبا اور 50 لاکھ گھر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


عمران خان نے 22 سال کی جدوجہد کے بعد حکومت تو حاصل کرلی لیکن ملک میں جاری بحرانوں سے نمٹنا ان کے لئے بڑا چیلنج تھا۔ حکومت ملی تو عمران خان اور ان کی کابینہ کو سمجھ آیا کہ کرکٹ کے میدان اور سیاسی میدان کے دنگل میں بڑا فرق ہے۔ ملک قرضوں میں ڈوبہ ہوا ہے، مہنگائی اور کرپشن کا جن بے قابو تھا اور اپوزیشن عمران خان کی کابینہ کی طرح اس میدان میں نئی نہیں تھی، عمران خان کی حکومت کو مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان جیسے تجربہ کارسیاسی برجوں کی مخالفت کا سامنا تھا۔

ابھی عمران خان اس صورتحال سے نہیں نکلے تھے کہ ملک کو کورونا وائرس کی وبا نے گھیر لیا۔ کورونا وائرس سے جنگ لڑنے میں وفاق اور صوبوں کی حکمت عملی الگ الگ نظر آئی۔ سندھ حکومت مکمل لاک ڈاؤن کی حامی تھی جبکہ وفاق کا کہنا تھا کہ ملک مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ بہرحال ملک میں ہر طرف جزوی لاک ڈاؤن کردیا گیا۔ لاک ڈاؤن کے باعث ملک کے غریب عوام اور درمیانی طبقے کے کاروباری حضرات شدید مشکلات میں گھر گئے۔ عمران خان اور ان کی حکومت پر ہر طرف سے تنقید کے نشتر چلائے جارہے تھے۔ ایسے میں عمران خان اور ان کی ٹیم ایک ایسا پیکج لے کر آئی جو ملکی تاریخ میں گیم چینجر تصور کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا تعمیرات کے شعبے کے لئے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تعمیراتی شعبے میں فکسڈ ٹیکس کا نظام لا رہے ہیں۔ تعمیراتی سیکٹر میں پیسے لگانے والوں سے آمدن کے ذرائع نہیں پوچھے جائیں گے۔ ہم کنسٹرکشن کو صنعت کا درجہ دے رہے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبوں سے مل کر سیلز ٹیکس میں کمی لا رہے ہیں۔ جو خاندان گھر فروخت کرنا چاہتے ہیں، اس پر سیلز ٹیکس نہیں لگے گا۔ اس کے علاوہ نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے لئے 30 ارب کی سبسڈی دے رہے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ تعمیراتی سیکٹر کھلنے سے معیشت کا پہیہ چل سکتا ہے۔ تعمیراتی سیکٹر 14 اپریل سے کھلے گا۔ اس کے علاوہ گڈز ٹرانسپورٹ کو بھی کھلا رکھا گیا ہے۔ عمران خان نے بتایا کہ کورونا ریلیف فنڈ کے لئے 10 ملین لوگ ایس ایم ایس کر چکے ہیں۔ 40 لاکھ افراد کو چند روز میں چیک ملنا شروع ہو جائیں گے۔ ہم یہ فنڈ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے لوگوں کو اشیائے خورونوش پہنچانی ہیں۔ احساس پروگرام کے تحت بہت جلدی لوگوں کو ریلیف ملے گا۔ ہم کرائے کے گھروں میں رہنے والوں کے لیے بھی پالیسی لا رہے ہیں۔ خوراک کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے اس کی قلت نہیں ہونے دی جائے گی۔ ذخیرہ اندوزوں اور سمگلروں کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔

عمران خان کے اعلان کردہ پیکج کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ اب ایک کروڑ نوکریاں یا 50 لاکھ گھر اب زیادہ مشکل نہ ہوگا۔ حال ہی میں حکوت کی جانب سے بنائی جانے والی پیچیدہ پالیسیوں کے بعد تعمیراتی شعبے میں خرید و فروخت اور ترقیاتی کام انتہائی متاثر ہوا تھا۔ اس پیکج کے بعد ملک میں کوئی بھی کہیں بھی زمین خرید سکے گا اس سے پوچھا نہیں جائے گا اس کا پیسہ کہاں سے آیا اس متعلق تحقیقات نہیں کی جائیں گی۔ اس پیکج کا ایک منفی پہلو تو یہ ہے کہ ملک میں جس کے پاس بھی کالا دھند ہے وہ اسے تعمیراتی شعبے میں لگا کر سفید کر سکتا ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ماضی میں بھی امنسٹی اسیکیمیں آتی رہی ہیں۔ اس پیکج کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ملک میں تعمیراتی شعبے میں انقلاب آئے گا۔ زمین یا مکان کی خریدو فروخت بڑھے گی جس سے رئیل اسٹیٹ کا شعبہ ایک بار پھر مستحکم ہوگا۔ تعمیراتی کام شروع ہوگا تو یقینی طور پر عوام کو مزدوری ملے گی۔ تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے مال کی طلب بڑھے گی۔ لہذا اس مال کو بنانے والوں کا کاروبار مستحکم ہوگا۔ وزیراعظم کے اس پیکج کے بعد نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم بھی تیزی سے آگے بڑھے گی۔ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے لیکن وزیراعظم کے اس پیکج پر تنقید بنتی نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اب ملک میں تعمیراتی شعبے میں کئی ملازمتیں آئیں گی اور گھر بھی بنیں گے۔

اہم بات یہ ہے کہ کیا ایسے پیکج کا اعلان صرف اسی شعبے کے لئے ضروری تھا کیا وزیراعظم کو دوسرے شعبوں پر نظر کرم کرنے کی ضرورت نہیں؟ ملک میں کئی ایسے شعبے ہیں جو اس لاک ڈاؤن کے بعد تباہ ہوں گے۔ ان شعبے سے کئی لوگ وابستہ ہیں۔ تعمیراتی شعبے میں پیکج کے بعد دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کی نظریں بھی وزیراعظم عمران خان پر لگی ہیں ان شعبوں میں بھی پلاننگ کی ضروت ہے۔ ڈیری فارمنگ کا شعبہ اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔

وزیراعظم کو اس پر بھی نظر ڈالنا ہوگی، پیکج نہ دیا جائے لیکن ایسی پلاننگ کی جائے جس سے یہ شعبہ تباہ ہونے سے بچ جائے۔ مثال کہ طور پر دکان پر دو سے زیادہ افراد ایک وقت میں کام نہ کریں دکان کھولنے کا دورانیہ بڑھایا جائے لیکن دکانداروں کو حفاظتی تدابیر اپنانے کا پابند کیا جائے۔ اسی طرح چھوٹے درجے کے پرائیویٹ اسکولز اس وقت فیس نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہیں حکومت کم از کم کرایہ کی بلڈنگ میں چلنے والے اداروں کو بلا سود قرض فراہم کرے۔ ملک میں نوجوانوں کو زمینیں سالانہ ٹھیکے پر دی جائیں اور انہیں کاشکاری کی تربیت فراہم کی جائے۔ دالیں ہمیں اب تک باہر سے خریدنا پڑتی ہیں پاکستان میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو ان کی کاشت کی جانب متوجہ کیا جائے۔

وزیراعظم عمران خان کو دیگر شعبوں پر بھی تعمیراتی شعبے کی طرح توجہ دینا ہوگی۔ اگر وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم اس وبا کہ بعد ملک کو بحران سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے تو بلاشبہ عمران خان کو پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا لیڈر تصور کیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *