آخری رسومات کی ادائیگی کے بغیر اپنے پیاروں کی تدفین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 جنازہ کے بغیر تدفین، محبت کرنے والوں سے گلے لگے بغیر بچھڑنے والے کا دور رہ کر دکھ بانٹنا، کورونا وائرس کی اس وبا نے اپنے پیاروں کو دائمی الوداع کہنے کا رواج تک تبدیل کر رکھا ہے۔

یہ ضروری نہیں ہے کہ اس وبا میں مبتلا ہو کر بچھڑنے والا شخص کسی پچھتاوے کو ساتھ لے کر فوت ہوا ہو، لیکن بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی جانے والا تنہائی کی کیفیت میں نہیں مرنا چاہتا، آخری ہچکی آنے تک کسی نہ کسی محبت کرنے والے کا ہاتھ تھام کر موت کو گلے لگانا ضرور چاہتا ہے، لیکن، اس کے باوجود جبکہ آپ جانتے ہوں کہ آپ کا پیارا ہسپتال یا گھر کے کس کمرے میں موجود اپنی زندگی کی آخری گھڑیاں گن رہا ہے اس کی زندگی کے ان آخری لمحات میں آپ اس کا ہاتھ تھامنے اس کے سرہانے نہیں پہنچ سکتے، آج کے وبائی حالات میں ہمارا پیارا بے حد چاہے جانے کے باوجود اپنے کسی کی موجودگی کی بجائے تنہائی کو رفیق بنا کر موت کے ہاتھ چوم لیتا ہے۔

دنیا بھر میں اس وبا سے اب تک 59 ہزار افراد لقمئہ اجل بن چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد اٹلی، اسپین، امریکہ اور فرانس کے مریضوں کی ہے اندازوں کے مطابق صرف امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد 10000 سے 24000 تک پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں، پاکستان میں متاثرین کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور کئی درجن افراد لقمئہ اجل بن چکے ہیں، موت سے ہمکنار ہو جانے والوں کی اتنی بڑی تعداد ان کے رفقاء کی بے بسی اور اذیت سے گزرنے والے لمحات کی کیفیت محسوس کی جاسکتی ہے۔

اس وبائی بیماری سے ہونے والی ہر موت کو ہر معاشرے میں معمول کی آخری رسومات کی ضرورت ہے اور جب تک وبا سے ہلاکتیں جاری رہتی ہیں یہ ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی رہے گی لیکن افسوس معمول کے مطابق رسومات کی ادائیگی نہیں ہو پائے گی۔

ہم سب لوگوں کے لئے تدفین درحقیقت ایک دائمی نقصان اور رخصت ہونے والے سے ہمارے تعلق کے اظہار کی ایک رسم ہے جس میں ہم ہمیشہ کے لئے بچھڑنے والوں سے اپنے تعلق کو یاد کرتے ہیں اور ان کے قریب ترین عزیزوں کی غم کو جھیلنے کے لئے ہمت بندھاتے ہیں، لیکن، افسوس، کورونا وائرس کی وبا نے اس رسم کو تبدیل کردیا ہے، ہمارے الوداع کے انداز کو بدل دیا ہے، کچھ اس انداز سے کہ بچھڑنے کا ناقابل تلافی نقصان تو اپنی جگہ ہے، لیکن، بچھڑنے کے اطوار بدل گئے ہیں۔

چلے جانے والوں کے جنازوں میں زیادہ سے زیادہ 5 یا 7 افراد کو جمع ہونے کی اجازت نے بڑے اجتماعات کی روایت کو فی الحال ختم کردیا ہے، جبکہ مغرب میں دنیا کے معمول پر آ جانے تک تاکہ حالات قابو میں آجانے پر بڑی تعداد میں جمع ہوا جا سکے تدفین کی رسومات کو موخر کردیا گیا ہے۔

سماجی طور پر ایک دوسرے سے دوری اختیار رکھنا گو کہ انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہے لیکن جب تک انسان اس وبا سے مکمل چھٹکارے کا کوئی مستقل حل تلاش نہیں کر لیتا ماہرین کے بتائے اصولوں کی پاسداری ہی اس وبا کا موثر ترین علاج ہے جب کہ ان اصولوں سے انحراف آفت کو خود گلے لگانے کے مترادف ہو گا، ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ دنیا اس وبا کا کامیاب علاج دریافت کرنے میں جس طرح دن رات ایک کیے ہوئے ہے، کسی خوشخبری کا اعلان جلد اس تکلیف دہ صورتحال سے نجات کا پیغام لئے دنیا کے سامنے ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *