کیا ہندوستان کے باشندوں کو زبردستی مسلمان بنایا گیا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


چند روز پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر سوامی صاحب کا ایک بیان سامنے آیا کہ جس ملک میں مسلمانوں کی تعداد بڑھے وہاں مسائل پیدا ہوتے ہیں اور جہاں مسلمانوں کی تعداد تیس فیصد سے زائد ہوجائے وہ ملک خطرے میں ہے۔ اور یہ تو میری مہربانی ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں آنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ اور انہوں نے بڑے اعتماد سے کہا کہ سب لوگ برابر نہیں ہوتے۔ ایک انٹرویو میں دھڑلے سے ان خیالات کا اظہار صرف ہندوستان کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس بیان کے پیچھے کارفرما عوامل کا جائزہ لینا ہوگا۔ جب آپ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کسی گروہ اور اس گروہ کی تاریخ کے بارے میں منفی باتیں سنیں تو آخر کار یہ سوچ جنم لیتی ہے۔

مثال کے طور پرہندوستان سے ایک نعرہ ہمیشہ بلند ہوتا رہا ہے اور وہ نعرہ یہ ہے کہ مسلمان بادشاہوں نے زبردستی ہندوستان کے ہندوؤں کو مسلمان بنایا اور تلوار کے زور سے ان کا مذہب تبدیل کیا۔ ظاہر ہے کہ جن کو زبردستی مسلمان بنایا گیا تھا، انہیں جبر کے ذریعہ ہی اس حالت پر قائم رکھا گیا ہوگا۔ ہندوستان میں اس نعرے کو بلند کرنے میں سب نمایاں آر ایسی ایس رہی ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں مختلف مطالبات بھی سامنے آنے لگتے ہیں۔

تین سال قبل ایک وزیر سمرتی ایرانی صاحبہ کے ایک بیان کے بعد ٹویٹر پر یہ مطالبہ سب سے زیادہ مقبول ہو گیا کہ مغل بادشاہوں کی تاریخ کو تاریخ کے نصاب کی کتب سے باہر نکال دینا چاہیے۔ کئی جذباتی لوگوں نے انہیں پرانے زمانے کا داعش قرار دیا۔ ان عقلبندوں [یہ سہو کتابت نہیں ہے] کایہ خیال ہے کہ تاریخ کی نصابی کتب تبدیل کرنے سے تاریخ بدل جاتی ہے۔ جارج اورول کے مشہور ناول ’1984‘ میں ایسی حکومت کا نقشہ یوں کھینچا گیا تھا کہ ایک سرکاری افسر فرما رہے تھے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ لغت میں سے برائی کا لفظ خارج کر دیا جائے۔

اس طرح لوگوں کو علم نہیں ہو گا کہ برائی کیا ہوتی ہے اور برائی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ 1920 کی دہائی میں سوامی شردھانند صاحب نے شدھی تحریک چلائی تھی تاکہ ہندوستان کے مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنایا جا سکے۔ اور اب ہندوستان میں خاص طور پر بی جی پی کے حامیوں کی طرف سے ’گھر واپسی‘ کی تحریک چلائی جا رہی جس کے تحت عیسائیوں اور مسلمانوں کو ہندو بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ چند سال قبل بی جی پی کے لیڈر راجیشور سنگھ صاحب نے اعلان کیا تھا کہ 31 دسمبر 2021 تک بھارت میں عیسائیت اور اسلام کو ختم کر دیا جائے گا۔

تاریخ کے حوالے سے اس قسم کے الزامات لگانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں۔ اس کالم میں مسلمان بادشاہوں کے دور کی تاریخ بیان کرنے کی بجائے، ذرا مختلف انداز میں تجزیہ پیش کیا جائے گا۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ مسلمان بادشاہ شروع سے لے کر آخر تک ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بناتے رہے تو آخر ایک دن تو یہ بادشاہت ختم ہو گئی۔ ہندوستان پر انگریز حکمران ہو گئے۔ کم از کم شروع میں تو مسلمان معتوب تھے۔ اقتصادی طور پر، سرکاری نوکریوں کے اعتبار سے، سیاسی تنظیم اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے ہندو مسلمانوں سے بہت آگے نکل گئے۔ سوال یہ ہے کہ پھر کیا ہوا؟ عقل تو یہی تجویز کرتی ہے کہ جن کو زبردستی مسلمان بنایا گیا تھا وہ فوری طور پر واپس ہندو ہو گئَے ہوں گے۔ اور والہانہ انداز میں اپنے ان رشتہ داروں جو اپنے مذہب پر قائم رہ گئے تھے ملے ہوں گے۔ اور ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کی شرح تیزی سے نیچے آ ئی ہوگی۔

سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ جب ہندوستان میں مسلمانوں کے اقتدار نے دم توڑا اس وقت یہاں پر کتنے فیصد آبادی مسلمان تھی۔ اس بارے میں ایک معتبر گواہی مسیحی پادری بشپ ہیبر کی ہے۔ اس کے مطابق 1826 میں ہندوستان میں ہر چھ میں سے صرف ایک شخص مسلمان تھا۔ یعنی 16 فیصد آبادی مسلمان تھی۔ اور 1854 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے گزٹ میں جو اعداد و شمار شائع کیے اس کی رو سے بھی اس وقت کم و بیش ہندوستان کی 16 فیصد آبادی مسلمان تھی۔

یعنی مسلمانوں نے ہندوستان میں چھ سو سال حکومت کی اور آر ایس ایس اور ان کے ہمنوا حضرات کے بقول دن رات جبر کر کے ہندوؤں کو مسلمان بھی بناتے رہے اور ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی صفر سے بڑھ کر بمشکل 16 فیصد تک پہنچ سکی۔ ان سولہ فیصد میں دوسرے ممالک سے آکر آباد ہونے والے بھی شامل تھے۔ اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ انگریزوں کے دور میں کیا ہوا؟ جب 1931 میں مردم شماری ہوئی تو ہندوستان کی 22.1 فیصد آبادی مسلمان تھی۔

اور جب 1941 کی مردم شماری ہوئی تو 23.8 فیصد آبادی مسلمان تھی۔ میں ایک کم علم انسان ہوں۔ اور اس عاجز کو بی جی پی کے لیڈروں کی طرح ہر علم میں ماہر ہونے کا دعوی بھی نہیں۔ لیکن ان اعداد و شمار کی رو سے تو جب ہندوستان میں مسلمانوں کی بادشاہت ختم ہو گئی تو اس کے بعد یہاں پر مسلمانوں کی تعداد میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ ان حقائق کی موجودگی میں عقل اس مفروضے کو رد کر دیتی ہے کہ ہندوستان میں مسلمان بادشاہوں نے بڑے پیمانے پر جبر کر کے لوگوں کو مسلمان بنایا تھا۔

]Red Fort: Remembering the Magnificent Mughals By Debasish Das[
انگریز حکمران حساب کتاب کا پورا تھا۔ پورے ہندوستان میں 1881 سے 1941 تک سات مرتبہ یعنی ہر دس سال کے بعد مردم شماری ہوئی۔ غور فرمائیں کہ ہر مردم شماری میں گزشتہ مردم شماری کی نسبت مسلمانوں کی شرح بڑھی اور ہندو احباب کی شرح کم ہوئی۔ ان کی رپورٹیں انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ 1931 کی رپورٹ کی جلد 1 کے صفحہ 387 اور 1941 کی رپورٹ کی جلد 1 کے صفحہ 102 پر یہ موازنہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اورتو اور 1931 سے 1941 تک مسلمانوں کی آبادی 22.1 فیصد سے بڑھ کر 23.8 فیصد اور ہندو احباب کی آبادی 68.2 فیصد سے کم ہو کر 65.9 فیصد ہو گئی۔

میرے حساب کتاب کے مطابق تو آر ایس ایس اور بی جی پی والوں کو مسلمان بادشاہوں کی قبروں پر چادر یں چڑھانی چاہییں کیونکہ ان کے رخصت ہونے کے بعد معاملہ بالکل ہی بگڑ گیا تھا۔ بہر حال بڑے پیمانے پر زبردستی مسلمان بنانے کا الزام تو بالکل غلط ثابت ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ اس کی مختلف وجوہات بیان فرمائیں گے لیکن 1931 کی رپورٹ کی اس جلد کے صفحہ 388 پر اس کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اور وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ہندو مت میں جن اقوام کو نیچ سمجھا جاتا ہے ان کے بہت سے افراد مسلمان یا مسیحی ہو گئے ہیں۔ اور یہ بھی لکھا ہے جو بہت سے لوگ روایتی ہندو مذہب چھوڑ کر آریہ سماج میں شامل ہوئے ہیں اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ آریہ سماج میں ذات پات کی اتنی اہمیت نہیں ہے۔

اپنے عقائد کا پرچار کرنا تو ہر ایک کا حق ہے لیکن بھارت میں ’گھر واپسی‘ پروگرام چلانے والوں کو یاد دلانا مناسب ہوگا کہ جب شدھی کی تحریک چلی تھی تو اس سے اگلی مردم شماری میں مسلمانوں کی شرح میں اضافہ ہو گیا تھا۔ آگے آپ کی مرضی۔ اور اہل پاکستان سے یہ عرض ہے کہ اس کا رد عمل یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان میں ہندو ہم وطنوں سے ایسا اچھا سلوک کیا جائے کہ یہ الزام ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے کہ پاکستان میں انہیں برابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا اور انہیں ان کے حقوق نہیں دیے جاتے۔ یہ سب سے حسین انتقام ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *