اردو ہندی اخبارات کی دنیا اور تقسیم کا منظرنامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک زمانہ تھا جب فرنگیوں نے ہندو اور مسلمانوں کو دو حصوں کو تقسیم کردیا تھا۔ یہ فرنگی سیاست تھی جس کی بنیاد ہی تقسیم کر و اور حکومت کرو کی بنیاد پر رکھی گئی تھی۔ اور آخر کار وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے۔ آزادی اپنے ساتھ لہو لہان تقسیم کے الیہ کو ساتھ لے کر آئی تھی۔ مگر غور کیجئے تو آزادی کی جنگ میں ہندستان سے نکلنے والے تمام اخبارات ایک سر میں انگریزوں کی مخالفت کررہے تھے۔ اردو، ہندی کے علاوہ علاقائی زبانوں سے نکلنے والے اخبارات کا لہجہ اور مقصد ایک ہی تھا۔

سب آزادی کی جنگ میں یکساں طور پر شریک تھے۔ اور مخالفت کے گیت گارہے تھے۔ مگر آج ایسا نہیں ہے۔ اردو اور غیر اردو اخبارات کی دنیا نہ صرف بدل چکی ہے۔ بلکہ غور کیا جائے تو یہ الگ الگ دنیائیں تقسیم سے زیادہ خوفناک ماحول کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ میرے ایک قریبی دوست نے اس المیہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، اردو اخبارات کا مطالعہ کیجئے تو ایسا لگتا ہے مسلمانوں سے زیادہ مظلوم قوم اس دنیا میں کوئی نہیں۔ ہندی اخبارات کو پڑھیے تو اصل فساد کی جڑ مسلمان نظر آتا ہے۔ غور کیجئے تو ہندی ہی نہیں، زیادہ تر غیر اردو اخبارات کا مزاج آج بدلا بدلا نظر آتا ہے۔

کیاہم ایک بار پھر لاشعوری طور پر تقسیم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ سچ نہیں ہو تب بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو اور غیر اردو اخبارات کی الگ الگ فضا نے تقسیم جیسا ماحول تو پیدا کر ہی دیا ہے۔ ایک عام سا سوال ہے کہ کیا ہندی اخبارات کو مسلمانوں کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے؟ کیا مسلمانوں کی خبریں ان اخباروں میں سرخیاں تب ہی بنتی ہیں، جب کوئی مسلمان انہیں شک کے گھیرے میں نظر آتا ہے۔ جسٹس کاٹجو بھی میڈیا سے بار بار یہ درخواست کرچکے ہیں کہ جب تک سچائی سامنے نہ آئے آپ فرضی تحریکوں اور نام کا سہارانہ لیں لیکن ایسا لگتا ہے غیر اردو اخبارات اور میڈیا ایماندارنہ صحافت کا راستہ بھول کر مسلم دشمنی کا ثبوت دے رہے ہوں۔

اردو صحافت کا چہرہ

اردو صحافت کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ دو سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ملک کے گوشے گوشے سے اردو اخبارات نکلتے رہے۔ زیادہ تر اردو اخبارات نے اپنا دائرہ مسلمانوں تک محدود رکھا۔ اس میں شک نہیں کہ تقسیم ملک کے بعد، آزادی کے بہتر برسوں میں مسلمانوں پر جو گزری، اسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔ اب اس بات کو آزادی کے بہتر برس بعد بار بار بتانے کی ضرورت بھی نہیں ہے کہ اردو اخبارات اور قومی یکجہتی کا کیا رشتہ رہا ہے۔ ہندستان کی تاریخ مسلمانوں کی قربانیوں اور خدمات سے اچھی طرح واقف ہے۔ لیکن ہم مسلسل آزادی کے بعد 56 برسوں میں اس تاریخ کو دہراتے ہوئے کہیں نہ کہیں اپنے عہد سے دور ہوتے جارہے ہیں۔

اور شاید اسی لیے مسلمانوں پر مین اسٹریم سے الگ ہونے کا الزام بھی عاید ہوتا رہا۔ زیادہ تر اردو اخبارات اردو اخبارات کا فوکس مسلم مسائل پر ہوتا ہے۔ یہ بری بات نہیں ہے۔ کیونکہ اگر اردو اخبارات بھی مسلم مسائل کو ترجیح نہ دیں تو کون دے گا۔ غیر اردو اخبارات کا مسخ شدہ چہرہ تو پہلے ہی سامنے آچکا ہے۔ لیکن اس رویے نے نہ صرف اردو اخبارات کے سیکولر ڈھانچے پر سوالیہ نشان لگائے بلکہ مسلمانوں کا وہ طبقہ پید کیا، جو احساس کمتری کا شکار ہے۔

آزمائشیں ہیں لیکن مسلمانوں کی قیادت کرنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس ملک میں ان کی آبادی پچیس کروڑ سے کم نہیں ہے۔ اور اب تو بھاجپا جیسی پارٹیاں بھی مسلمانوں کو پچیس کروڑ بتانے لگی ہیں۔ یہ بھاجپا جیسی پارٹیوں کی سازش تھی کہ بہانا کوئی بھی ہو، مسلمانوں کو سیکولر کردار سے الگ رکھا جائے اور ہندستانی مسلمانوں کا مذہبی اور غیر سیکولر چہرہ ہی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔

ہم کل بھی کردار کے غازی تھے اور آج بھی ہیں۔ ہم کل بھی سیکولر تھے اور آج بھی ہیں۔ اردو اخبارات اس پس پردہ سازش کو نہیں سمجھ سکے۔ زیادہ تر اخبارات مسلمانوں کے مسائل کے درپردہ جذباتیت کا شکار ہوتے رہے۔ ہماری جنگ اسی لیے کمزور ہوئی کہ ہم روتے اور گڑگڑاتے رہے۔ اور ایوان سیاست میں خاموشی رہی۔ ہم خود کے اقلیت ہونے پر خوش تھے اور اخباروں میں ہم مسلمانوں کا خوفزدہ چہرہ دکھاکر مطمئن ہوجاتے تھے۔

تقسیم جیسا ماحول

ہم اس بات سے واقف ہیں کہ فسادات اور دہشت گردی کے پس پردہ ہندستانی میڈیا کہیں نہ کہیں عام مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کررہا ہے۔ فرضی انکاؤنٹرس کے واقعات پر غیر اردو اخبارات اور میڈیا کی خاموشی ہمیں پاگل کرتی ہے۔ ابھی حال میں انڈیا ٹوڈے نے ایک سروے میں بتایا کہ ہندستانی مسلمان گھروں میں کم اور جیلوں میں زیادہ ہیں۔ اتر پردیش میں پچھلے دنوں مسلسل فسادات میں مسلمانوں کا خون ہوتا رہا۔ لیکن غیر اردو اخبارات خاموش رہے۔

حکومت بے قصور مسلمان نوجوانوں کو حراست میں لیے جانے کے باوجود اپنی گھناؤنی سیاست میں مصروف رہی۔ صرف اردو اخبارات تھے جو ان خبروں کو نمایاں طور پر شائع کررہے تھے۔ لیکن اگر ان آوازوں کی گونج ایوان سیاست میں نہیں ہوئی تو یہ لمحہ فکریہ ہے اور اس کے بارے میں غور بھی کرنا ہے۔ پچھلے چھ برسوں میں ماحول ملک میں نفرت کی کھیتی ہوئی۔ اردو اور ہندی دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق نظر آیا۔

لاک ڈاؤن کی فضا میں بھی نفرت کے بارود اپنا کام کر رہے ہیں۔ اور اردو اخبارات کے پاس آنسو بہانے کے سوا کویی راستہ نہیں۔

غیر اردو اخبارات اور میڈیا کا رول شروع سے مسلم مخالفت کا رہا ہے۔ میڈیا نے شاہین باغ کو غلط ثابت کیا۔ تبلیغی جماعت والوں کو دہشت گرد ٹھہرایا۔ افسوس کا مقام ہے کہ میڈیا گنہگاروں کو بے قصور اور بے قصور کو گہنگار ثابت کرنے کا کام فراخدلی سے کررہا ہے۔
ہندستان کے اس نئے منظرنامے میں میڈیا اور غیر اردو پریس نے ایک بار پھر تقسیم جیسی صورتحال پیش کردی ہے۔ کیا اس کے انجام کی حکومت کو فکر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “اردو ہندی اخبارات کی دنیا اور تقسیم کا منظرنامہ

  • 08/04/2020 at 3:36 am
    Permalink

    What a great writing full script of the runing time in which we thegeneration passing seventy years of life.This script when point tabliqi lead.to full story ofcold waryet runing on ground after leaque of national converted in to unitednation theory.When the war created to disintegrate the world into civilization concept.Peace destructed for innocent human living on earth.Innocent human forget their character and return into inteligence rule of concipresies in civilization war.Fullwar destroyed Aferica continent and Asia.Their political rule control springs and religion fighting and war area converted toward these continent and the partner to Europe get peace and human rights implementation through Inteligence agency rule by C.I.A and N.A.T.Panda M.Iand hide agencies to demolish the K.G.B to control wealth of World known as Capitilism and Force to farm G8Concept.This I under standing World where Russia crushed to use coldway of inteligence rule.First making king and dictatorship many picture on scene Sadam Fiasal Kazfi only to make distribution as BinLanden and and sobatage Iranian Clearic selling weapons to disturbed peace of innocent human where their wealth looted killing of innocent childern and women.Their dead bodies are lying without buried so the now Lockdown the whole world effected by virus fear whole ecnomic of world down.Universe is created by Allah and full control of power moreover love creature and mercey for innocent human all world order and cold war conspricies failure front of Supper power Allah.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *