کورونا کے بحران کے دوران ہر ذہن میں اُٹھنے والے چند بنیادی سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر ذہن میں ہر حوالے سے کئی سوالات ابھرتے رہتے ہیں، سوال منطقی ہو یا بے تکا، اس کو ابھرنے دیا جانا، شعور کی افزائش کے لیے بیحد ضروری ہوتا ہے۔ اتفاق سے ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں سوال اٹھانے کو گناہ تصوّر کیا جاتا ہے، اس لیے ہم بچپن سے بچّے کو سوال کرنے سے روکتے ہوئے، اس کی ذہنی پرورش میں رکاوٹیں حائل کرتے ہیں، نتیجتاً ان کے ذہنوں میں عمر بھر کئی سوالات پیدا ہونے کے باوجود، وہ ان کا اظہار کرنے کی ہمّت نہیں کر پاتا اور یوں وہ زندگی کی بنیادی ترین الجھنوں کو بھی دور نہیں کر پاتا۔ بالآخر ایک منزل وہ بھی آتی ہے، کہ وہ اپنے ذہن میں کسی بھی اٹھنے والے سوال پر دل ہی دل میں یہ کہہ کر اپنی دلشکنی کرنے لگتا ہے، کہ یہ سوال ہی غلط ہوگا۔

اگر دنیا میں سوالات نہ ابھرتے تو آج دنیا نت نئی دریافتوں اور ایجادات سے محروم ہوتی۔

آج پوری دنیا جب کورونا کے بحران میں مبتلا ہے، تب مندرجہ ذیل سوالات ہم میں سے بہت سارے ذہنوں میں ابھر رہے ہیں، مگر ان میں سے کئی لوگ یہ سوالات کرنے سے کترا رہے ہیں اور کئی لوگ ان سوالوں کے جوابات کے لیے موزوں فورم ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ سوالات انتہائی سادہ اور بنیادی نوعیت کے ہیں، اس لیے ان میں سے کچھ سوالات شاید آپ کے آس پاس رہنے والے ہر عام آدمی کے ذہن میں بھی اٹھتے ہوں :

1۔ وہ 18 ممالک، جو ابھی تک کورونا کے حملے سے محفوظ ہیں، جن میں کوموروس، کریباتی، لیسوتھو، مارشل جزیروں کا مجموعہ، مکرونیشیا، نؤرو، شمالی کوریا، پالو، سموئا، سولومن جزیرے، شمالی سوڈان، تاجکستان، ٹونگا، ترکمانستان، طوالو، ونوئاٹو، یمن، ساؤ ٹوم اور پنسیپی شامل ہیں، ان تمام ممالک نے ایسا کیا کیا ہے کہ ان ممالک میں کورونا کا ایک کیس بھی ظاہر نہیں ہوا؟ کیا ایسے ممالک سے اس حکمت عملی کے بارے میں دریافت کر کے، اس پر ہم سمیت دیگر ممالک کی جانب سے عمل نہیں کیا جا سکتا؟

2۔ کیا واقعی کورونا کے پھیلاؤ کے اسباب ”طبّی“ ہونے سے زیادہ ”سیاسی“ اور ”عسکری“ ہیں؟ اگر ایسا ہے تو حملہ آور کون ہے؟ اور ”نشانہ“ والا کون؟

3۔ جس ملک سے یہ وبا شروع ہوئی، یعنی چین، اس کے پاس ایسی کون سی ”گیدڑ سنگھی“ ہے، کہ وہ پوری دنیا کو اس آزار میں مبتلا کر کے خود آرام سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ہے، اور اب اس کے پاس نہ نئے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، نہ ہی اموات ہو رہی ہیں۔ (جو ایک اچھی بات ہے ) مگر چین وہ ”اصل ترکیب“ باقی دنیا کو کیوں نہیں بتا رہا کہ دنیا بھر کی انسان ذات بھی اس آزار سے کیسے بچ سکتی ہے۔

4۔ چین نے کورونا کے بچاؤ کے لیے جو خاص ہسپتال (بقول چین ہی کے ) 10 دنوں میں بنا لیا، کیا وہ واقعی منصوبہ بندی سے لیکر، تعمیر، رنگ روغن، طبّی سامان کی تنصیب اور تمام سہولیات کے آراستہ ہونے تک، 10 ہی روز میں بنا تھا؟ یا اس کی منصوبہ بندی کئی ماہ پہلے ہی ہو چکی تھی (کی گئی تھی) ؟ اور دنیا کو دکھانے کے لیے اس کو 10 دن میں فنشنگ کر کے کھڑا کر دیا گیا؟

5۔ وہ چین، جس نے ٹیکنالوجی کے معاملے میں تو ”ٹیمپرنگ“ کے حد کر دی ہے، مگر برسوں سے ہمیں انڈے اور سبزیاں تک نقلی بنا بنا کر کھلا رہا ہے، کیا اس چین سے درآمد ہونے والی ہر چیز کے ”دو نمبر“ ہونے کا یقین ہونے کے باوجود وہاں سے درآمد ہونے والے سامان (مثلاً: ٹیسٹنگ کٹس، ڈاکٹروں کے استعمال والے حفاظتی لباس، سینیٹائیزرس وغیرہ) پر آنکھیں بند کر کے یقین کیا جا سکتا ہے کہ؟ وہ، یہ تمام چیزیں ہمیں سو فیصد ”اصلی“ برآمد کرے گا؟

6۔ کیا ان ٹیسٹنگ کٹس کے امکانی طور پر ”دو نمبر“ ہونے کی طرح بذات خود ”کورونا“ بھی ”اصلی“ اور ”نقلی“ ہے؟ یا اس کی بھی ایک سے زاید اقسام ہیں؟

7۔ موجودہ لاک ڈاؤن کب تک جاری رہے گا؟ ایک مہینہ؟ دو مہینے؟ چھ ماہ؟ یا اور بھی طویل؟ اور یہ موجودہ صورتحال جاری رہنے کی صورت میں انتہائی اہم ضروریات زندگی کے بعد لوگوں کی دوسرے درجے پر آنے والی ضروریات کا ازالہ کیسے ہوگا؟ کیا اس سلسلے میں حکومت نے کوئی حکمت عملی بنائی ہے؟

8۔ کورونا میں مبتلا (کم از کم ہمارے مقامی) مریضوں کے ”علامات پر مشتمل و منحصر علاج“ (سمپٹمیٹک ٹریٹمینٹ) کرنے کے علاوہ دوسری کون سی دوا دی جا رہی ہے کہ وہ صحتمند ہوتے جا رہے ہیں؟

9۔ کیا کسی بھی شخص کے کورونا میں مبتلا ہو کر، دوبارہ صحتیاب ہو جانے کے بعد بھی اسے یہ خطرہ رہتا ہے کہ وہ دوبارہ کورونا میں مبتلا ہو سکتا ہے؟ (جیسے سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم، سعید غنی کی مثال سامنے ہے ) تو کیا سعید غنی کورونا سے صحتیاب ہو جانے کے بعد پھر وہی احتیاطی اقدامات کرتے رہیں گے؟ اور اس ڈر میں مبتلا رہیں گے کہ کورونا ان پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے؟

10۔ پاکستان میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی اصل تعداد کتنی ہے؟ اور حکومت، عوام سے یہ اصل اعداد و شمار کیوں چھپا رہی ہے؟

11۔ ہم میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے غیر ذمے دارانہ انداز میں سارا دن ”کورونا کورونا“ کر کر کے لوگوں کو جن ذہنی الجھنوں، ڈپریشن اور اضطراب (اینزائٹی) جیسی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیں، تو ایسا تو نہیں ہوگا کہ ایک ڈیڑھ ماہ بعد کورونا کا علاج تو منظر عام پر آ بھی جائے اور دنیا کورونا سے تو صحتیاب ہو بھی جائے، مگر ہم جیسے ممالک کے عوام کی اکثریت نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جائے، کیونکہ دنیا میں متعدی امراض کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں مثلاً امراض خون میں مہارت رکھنے والے طبیبوں کی تعداد پھر بھی زیادہ ہے، مگر عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کی آبادی کے ہر ایک لاکھ لوگوں کے لیے صرف ایک نفسیاتی ماہر دستیاب ہے اور اتنی بڑی تعداد میں نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جانے والی آبادی کے لیے یقیناً دنیا میں نفسیاتی ماہرین نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اتنے بڑے عالمی نفسیاتی طبّی بحران کی صورت میں دنیا کس جانب جائے گی؟ اور اس بحران میں مبتلا ہونے سے پہلے معلومات کی اس انداز میں پیشکش کو حکومت کی جانب سے ”ریگیولیٹ“ کیوں نہیں کیا جا رہا؟

12۔ پاکستان میں صاحبان استطاعت کی کوئی کمی نہیں ہے اور کافی سارے ادارے دھن والوں کی خیرات پر چل رہے ہیں۔ یہ کہنے میں کوئی بھی مبالغہ نہیں ہوگا کہ پاکستان کے کچھ فیصد سرمایہ دار ہی عام طور پر خیراتی اور فلاحی اداروں کو اتنا چندہ اور خیرات دیتے ہیں، کہ اگر وہ پاکستان کے 30 فیصد کے آس پاس ان غریبوں کو روزانہ دو وقت کا کھانا کھلانا چاہیں، جو شدید غربت میں زندگی گزارتے ہیں، تو پاکستان میں، کم از کم ”لاک ڈاؤن“ کسی گھر کے لیے بھوک اور فاقے کی وجہ نہیں بن سکتا۔

تو کیا ہماری وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کی حکومتوں میں اتنی بھی اہلیت نہیں ہے کہ وہ ایک منظّم نظام کے تحت ”نادرا“ کے ریکارڈ کی مدد سے دیہاڑی دار مزدوروں سمیت ان تمام ملازمین کے ریکارڈ کو اکٹھا کر سکیں، جن کے روزگاروں پر لاک ڈاؤن کی وجہ سے براہ راست اثر پڑا ہے، اور پھر ان اعداد و شمار اور تفصیلات کی مدد سے ان سرمایہ داروں سے خیراتی رقم یا راشن لے کر ان مستحقین کے گھروں تک پہنچا سکیں؟

سوال، کسی بھی مسئلے اور معاشرتی مرض کی تشخیص کا نقطہ آغاز اور شعور کا دروازہ ہوا کرتا ہے۔ منطقی سوال اٹھانے کے بعد ہی مقصدیت والے جواب کی تلاش ممکن ہو سکتی ہے اور سوال اٹھانا، دنیا کے ہر انفرادی اور اجتماعی وجود کا بنیادی حق ہے اور اس کا جواب دینا ہر اس فرد اور ادارے کا فرض، جس کے کندھوں پر خدمت خلق کی ذمہ داری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *