آئیے انگریزی بول کے مکئی بیچیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب میرے والد حیات تھے تو اس زمانے میں ہمارے گھر میں ادبی محافل ہوا کرتیں۔ جس میں شہر بھر سے ادیب، شاعر، ادب پرور ادب نواز خواتین و حضرات آیا کرتے۔ جب سوشل میڈیا موجود نہ تھا، ان محافل کی خاص بات یہ تھی کہ اکا دکا ادیب ٹائپ افراد ہوتے زیادہ تر جعلی ادیب اور جعلی شاعر تھے۔ ادبی محافل کو اگر دوسرے الفاظ میں اور حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو وہ انجمن ستائش باہمی کی محافل ہوتی ہیں۔ جس میں ٹولیاں ہوا کرتیں۔ ایک ٹولی والے دوسری ٹولی کے لتے لینا اپنا فرض عین سمجھتے۔

ابھی تک یہ ٹولیاں موجود ہیں، فرق صرف میڈیم کا ہے۔ یعنی آپ تمام نقلی ادیب اور شاعر سیکرٹ سپر اسٹار بن چکے ہیں۔ کسی کے گھر جائے بغیر ہی سوشل میڈیا پر گروپ بنا کے ایک دوسرے کی پیٹھ کھجاتے دکھائی دیتے ہیں۔ یا مل کے گالی دیتے ہیں۔ فرق محض زمانے کا ہے۔ مگر یہ تمام ادب پرور ادب سکھانے میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتے وہ اپنی دل بستگی اور اچھے ٹائم پاس کے لیے یہ سب کرتے ہیں۔ کسی کو کچھ سکھانا ان کا مقصد ہی نہیں۔

آج ہمارا موضوع جعلی ادیب، شاعر، نسائیت سے لب ریز شاعرات نہیں بلکہ آج ہمارا موضوع عہد حاضر کے وہ جھوٹے ہیں، جو معصوم عوام کو کامیابی کا مغالطہ دیتے ہیں۔ یہ بنگالی بابا، استخارہ سینٹر، کچی آبادیوں میں موجود عاملوں سے کہیں خطرناک ہیں، یہ سب تو معمولی سے پیسے لے کر امید بیچتے ہیں اور اسی فی صد تو چند بار جانے کے بعد یہ کہہ دیتے ہیں کہ بہت ہی خطرناک جادو ہے، بندش ہے اور جادو کروانے والا کوئی بہت ہی قریبی عزیز، یوں وہ رند کے رند رہتے ہیں۔

تو آتے ہیں اصل موضوع کی طرف، معزز دوستوں نام لکھوں گیم تو ان کے چاہنے والے میرے خلاف تحریک چلا دیں گے، اس لیے آج بنا نام ہی کے ہم کچھ کہنے کی جسارت کرتے ہیں۔ ہمارا آج کا موضوع ہے، موٹیوشل اسپیکر۔

آپ سب بہت ذہین ہیں سمجھ تو گئے ہوں گے، لیکن اس بار ان کی موٹیوشنل اسٹوری نہیں۔ یہ کوئی اور مجسمہ نیکی ہیں۔ یہ لوگوں کو انگریزی بول کے مکئی بیچنا سکھا رہے ہیں۔

آج تک آپ میں سے کسے نے بھی ”کے ایف سی“ کے علاوہ کبھی انگریزی میڈیم مکئی کھائی ہے؟
آپ تو اب اسکول کے اسٹوڈنٹ نہیں لیکن بڑے سے بڑے اور مہنگے سے مہنگے اسکول کے اس پاس کبھی کسی نے مکئی والے کے ”ہائی جین“ کی ٹینشن لی ہے؟

یا کبھی کسی مکئی والے کو سوٹ بوٹ میں دیکھا؟
کیا آپ پہ مکئی والے کی ڈریسنگ سے کوئی فرق پڑتا؟
یا کیا آج تک کسی مکئی والے نے آپ کی گاڑی کے شیشے سے اندر جھانک کے آپ سے کہا:

?Dear Sir would you like to have hygienic corn for your child

لیکن بڑے صاحب نے بتایا کہ ان کی موٹیوشنل اسپیچ سے ایک غریب بے روزگار نوجوان کی زندگی تبدیل ہو گئی۔ کیوں کہ اس نے انگریزی زبان اور Western dressing میں لوگوں کو مکئی بیچی اب وہ ایک چھوٹا تاجر ہے۔ اپنے حالات کا رونا نہ روئیں، کاروباری بنیں جیسے وہ لڑکا بن گیا، آپ بھی بنیں۔

دراصل یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے زندگی میں کبھی رسک نہیں لیے۔ یہ پہلے سے بھرے پیٹ والے ہیں اور حقیقی غربتی کو صرف ٹی وی پہ دیکھ کے لوگوں کو کامیابی کی ٹافی بیچنے پہ لگے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا کی برکت سے ہر شخص کی جیب تک پہنچ چکے ہیں۔

سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کے نوجوانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ ان نئے زمانے کر جادو گروں کے ہتھے چڑھ گیا ہے، جو یا تو کاروبار کے خواب کا شکار ہیں یا موٹیوشنل اسپیکر بن چکے ہیں۔ خالی کمرے میں آسمان کی طرف دیکھ دیکھ کے بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں، اس امید پہ کہ ایک روز آئے گا، جب ان کے بھی لاکھوں لائک ہوں گے اور وہ اپنی ناکامیوں کو بیچ دیں گے۔

عزیز قارئین!
آپ ہی بتائیں کہ کون زیادہ خطرناک ہے؟ عامل، جادوگر استخارہ والے یا موٹیوشنل اسپیکر؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply