ہم کیوں بند ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کی وبا نے پوری دنیا کو گھروں میں بند ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہر ملک اپنے شہریوں کی حفاظت کی غرض سے کوششوں میں مصروف ہے، کچھ افراد کو زبردستی اندر دھکیلا جا رہا ہے اور کچھ خوف کے باعث چھپے بیٹھے ہیں۔ ہر روز، ہر جگہ یہی سوال سامنے ہے کہ کس جگہ اور کتنے لوگ اس وبا کا شکار ہو رہے ہیں۔ خوف کے ساتھ ساتھ ایک سوال یہ بھی ہے اور میڈیا کے علاوہ مختلف گروپ بھی اس بحث میں مصروف ہیں کہ ہم کیوں اس کا شکار ہیں۔ اب تک سائنس، مذہب، طب، اور مختلف النوع زاویوں سے اس سوال کا جواب ڈھونڈا جا رہا ہے۔ آئیے، ایک اور زاویے سے اس نظر بندی کو دیکھا جائے۔ شاید یہ تمثیلی زاویہ ہماری کچھ مدد کر سکے۔

میں ایک ماں ہوں۔ زمانے کا دستور ہے کہ ہر آنے والی نسل پہلے سے ذہین، فطین اور کچھ زیادہ شرارتی ہوتی ہے۔ ہم خود بھی بچپن میں بہت شرارتیں کیا کرتے تھے لیکن اپنے بچوں کو یہی کہتے ہیں، کہ ہمارے ماں باپ ہم سے اتنے تنگ نہیں تھے، جتنا تنگ آپ لوگ ہمیں کرتے ہیں۔ (اس میں کچھ نہ کچھ حقیقت بھی ہے۔ ) قصہ مختصر بچوں کو پالنے اور جوان کرنے کے مراحل میں دو مواقع ایسے آتے ہیں، جہاں بچوں کو کہنا ماننے کے لیے کمرے میں بند کرنا پڑتا ہے۔

ایک تو باہر کسی ماؤں بلی یا ڈوگی کا ڈراوا، اسے اندر خاموشی سے بیٹھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ دوسرا، جب وہ کوئی ایسی غلطی کرے، جس کی اصلاح ضروری ہو تو والدیں اسے کمرے میں بند کر دیتے ہیں کہ اپنی اصلاح کر کے باہر آئے، توبہ کرے، اسے اپنی غلطی کا احساس ہو، تا کہ وہ آئندہ شکایت کا موقع نہ دے۔ ایسا ہر گز اس لیے نہیں ہوتا کہ والدین کی بچے سے کوئی دشمنی ہے بلکہ اس امر کے پس منظر میں اولاد کی بہتری انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں، ناسمجھی سے سمجھ کے مراحل طے کر لیتے ہیں تو بارہا اپنے والدین کو یاد کراتے ہیں، کہ آپ نے ہمیں سزا دی تھی، ہمیں یاد ہے۔ یا یہ کہ آپ ہمیں بچپن میں فلاں چیز سے ڈرایا کرتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچپن کے وہ اثرات دیرپا ثابت ہوتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے ان کی شخصیت کے ساتھ رہتے ہیں۔ اسی لیے نفسیات حد سے زیادہ، سزا یا خوف کے خلاف ہے۔ لیکن ایک حد تک بچوں کی اصلاح کے لیے کیے جانے والے اقدامات، مثبت ثابت ہوتے ہیں۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس خوف یا سزا کے مرحلے میں وہ کبھی اکیلے نہیں ہوتے۔ جب کسی خوف میں مبتلا ہوں تو والدین کی گود ان کی پناہ گاہ ہوتی ہے اور انہیں پورا یقین ہوتا ہے کہ وہی انہیں بیرونی بلا سے بچا سکتے ہیں۔ کسی غلطی کے نتیجے میں بند کیے جانے پر وہ جتنا بھی ڈریں، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ معافی مانگنے کے بعد ان کی جان چھوٹ جائے گی اور اس کے بعد انہیں اس غلطی سے توبہ کرنی ہو گی۔ جب وہ سزا بھگت رہے ہوتے ہیں تو جتنے آنسو ان کی آنکھوں سے گرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ ان کے والدین کے دل پر گرتے ہیں، اور جیسے ہی وہ اچھا بچہ بننے کا اعلان کرتے ہیں، والدین کی شفقت اور معذرت ان کانصیب بن جاتی ہے۔

کرونا کے خوف سے گھروں میں بند ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کے قہر کا نشانہ بننا، اس تمام تمثیل کو یاد کرانے کا باعث بنا۔ مجھے یاد ہے کہ جب بچوں کو سلانے کی غرض سے کمرے میں اندھیرا کر کے انہیں ڈرایا جاتا تو وہ ماں سے چپک کر لمحوں میں مزے کی نیند سو جاتے اور جاگنے کے بعد اس خوف کا نام و نشان بھی نہ ہوتا۔ اسی طرح کبھی سزا دینے کو اگر بچوں کو بند کیا، یا ان سے بات چیت بند کر دی جاتی تو جتنی تکلیف انہیں ہوتی، اس سے کہیں زیادہ تکلیف ماں باپ کو ہوتی۔ نتیجے کے طور پرمعذرت کے بعد ان کے پہلے سے زیادہ لاڈ اٹھائے جاتے۔

پھر آج ہم گھروں میں بند ہونے کے بعد اس خوف سے نکلنے کے لیے اس ذات پر بھروسا کیوں نہیں کرتے، جو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے؟
آج جن غلطیوں کی سزا کے طور پر ہم اندر بند کر دیے گئے ہیں، ان سے بچنے اور آئندہ نہ دہرانے کا پکا وعدہ کیوں نہیں کرتے، تا کہ ہمارے پہلے سے زیادہ لاڈ اٹھائے جائیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *