دنیا پاکستان کی طرف مت دیکھے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا نے گزشتہ سو سالوں میں بے پناہ ترقی کی ہے۔ گھوڑوں اور خچروں پر کیا
جانے والا سفر سائیکل اور کار سے ہوتا ہوا ہوائی جہاز تک جا پہنچا ہے۔ انسان نے چاند کو مسخر کرلیا جب کہ باقی مانندہ ستاروں پر بھی کمندیں ڈالنے کے لئے مضطرب ہے۔ جراحی کے شعبے میں اتنی ترقی کرلی کہ کہاں طبیب چھوٹے سے زخم پر پوراعضو کاٹ دیا کرتا تھا اور کہاں اب جراح قریب مرگ دلوں کو توانا، بیداد جگر کو تبدیل جب کہ ناکارہ گردوں کو کار آمد بنانے لگ گیا ہے۔ پیغام رسائی کا نظام کبوتر اور قاصد کو کب کا بھول چکا اور دور خط، ٹیلی فون، فیکس سے ہوتا ہوا ای میل، فیس ٹائم اور سکائپ تک پہنچ چکا ہے۔

کیا وہ دور تھا جب اتالیق برگد کے درخت کے نیچے کھڑے ہو کر، ب سے بکری پڑھایا کرتا تھا اور کیا زمانہ آگیا ہے کہ بچے اب یو ٹیوب پر علم حاصل کرنے لگ گئے ہیں۔ روشنی شمع، لالٹین، بلب، ٹیوب لائیٹ سے نکلتے ہوئے ایل ای ڈی، ایس ایم ڈی اور سی او بی سے پھوٹنے لگ گئی۔ اور تو اور ابلاغ سے جڑا صحافی بھی ریڈیو، اخبار اور ٹی وی سے ہوتا ہوا بالآخر فیس بک اور ٹویٹر پر بیٹھ گیا ہے اور یوں جو سچی جھوٹی خبر دنوں میں ملتی تھی اب سیکنڈوں میں نظروں کے سامنے ہوتی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ، اتنی ترقی کے باوجود دنیا کے اکثر بڑے ممالک میں یہ خامی ہے کہ ان پر جب بھی کوئی مصیبت پڑتی ہے وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو کر مملکت خداداد پاکستان کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے یہی سیکھا ہے کہ ہم اپنے پر پڑنے والی ملتجی نظروں کو کبھی خالی نہیں لوٹنے دیتے اور اپنے بوٹوں کے تسمے باندھ کرپل بھر میں مدد کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ ہم دنیا کی نبض پر ایسے ہاتھ رکھے ہوئے ہیں کہ بعض اوقات ضرورت مند کو خبر بھی نہیں ہوتی اور ہم اس کی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔

یوں اکثر ہمارے اپنے کام ایسے ہی ہونے سے رہ جاتے ہیں جیسے کسی محلے کا کونسلر دوسروں کی خدمت میں مصروف رہتا ہے اور اس کے اپنے بچے ویکسینیشن، تعلیم اور روزگار سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ اگر ہمیں نیکیوں کا اجر اس جہان میں نہ بھی ملا تو اگلے جہان ضرور ملے گا۔

ذرا تاریخ پر نظر دوڑائیں، جونہی یہ ملک دنیائے عالم کے نقشے پر ظہور پذیر ہوا اس وقت کے دونوں عالمی طاقتوں نے بچوں کی طرح اس سے دوستی کرنے کی ضند شروع کردی۔ ان دونوں کو معلوم تھا کہ ہم مستقبل میں کرہ ارض کے تمام ظاہری و پوشیدہ دفا عی و خارجی مسائل کے حل میں پیش پیش ہوں گے اس لئے انہوں نے دوستی کے لئے ہمارے پاؤں پکڑ لئے ۔ حالانکہ اردن، میانمار، سری لنکا وغیرہ بھی ہمارے آگے پیچھے ہی آزاد ہوئے تھے لیکن ان سے کسی نے جھوٹاسلام تک نہ لیا۔

ہم چونکہ محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں اس لئے ایک سے مصافحہ کر کے دوسرے سے پکی پکی کٹی کرلی۔ اس کے بعد امریکہ نے دنیا کی سلامتی کے لئے روس پر نظر رکھنی ہو تو ہم حاضر، عرب اسرائیل جنگ ہو تو ہمارا کندھا موجود، اسلامی دنیا کو کسی راہنما کی ضرورت پڑے تو پاکستان کے علاوہ کون سا ملک سجتا تھا؟ اس لئے 1974 میں سارے مسلمان بادشاہ ہمیں تاج شہنشاہی پہنانے لاہور پہنچ گئے۔

اس سے آگے سنیں، سرد جنگ میں دنیا پھر ہماری طرف دیکھنے لگ گئی اور ہم نے مسکرا کر پھر دنیا کی مدد کے لئے بندوق اٹھا لی۔ اس دوران ہم نے اپنی معاشیات اور سماجیات تباہ کرلی لیکن دنیا کو تنہا نہیں چھوڑا۔ سرد جنگ کے بعد ان مجاہدین کو جو تب تک دہشت گرد بن چکے تھے ان کو چن چن کر مارا اور اب جب دنیا ان سے صلح کرنا چاہتی ہے تو پھر ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ دل تو نہیں چاہ رہا لیکن جب ترقی یافتہ ممالک مجبوری اور بے بسی سے ہماری طرف دیکھتے ہیں تو ہم حساس دل لوگوں سے رہا نہیں جاتا۔

آج کل دنیا پر کرونا وائرس کی شکل میں ایک افتاد پڑی ہوئی ہے اور دنیا کو جلد یا بدیر ہماری ضرورت پڑنے والی ہے۔ جیسے ہر پاکستانی اینکر کا وہم ہے کہ اس کا پروگرام بائیس کروڑ میں سے کم از کم بیس کروڑ پاکستانی ضرور دیکھتے ہیں اسی طرح میرا بھی یہی خیال ہے کہ دنیا کی ساڑھے سات ارب میں سے چھ ارب افراد میرا یہ مضمون مختلف زبانوں میں ترجمہ کرکے ضرور پڑھیں گے۔ اس لئے سب سے گزارش ہے کہ یقیناً جب تم لوگ تھک جاؤ گے تو اس موذی وائرس کی ویکسین بنانے کے لئے ہماری طرف دیکھو گے۔

تم لوگوں کی یہ عادت بن چکی ہے کہ جب بھی تم لوگوں پر مصیبت پڑتی ہے پاکستان یاد آجاتا ہے اور جب ہم ویزے کے لئے تمہارے سفارت خانوں میں پاسپورٹ جمع کرائیں تو بغیر مہر لگائے کورا واپس کر دیتے ہو۔ تم لوگ جنگ لڑو تو ہمارا لہو بھی حاضر اور ہم کبھی ادھار مانگ لیں تو نظریں پھیر لیتے ہو۔ حالانکہ ہم نے اپنی زندگی میں قرضے کے علاوہ آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگا۔ اس لئے کو رونا وائرس کے علاج، اس کی ویکسین اور دوا کے لئے ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے اور اس سلسلے میں ہماری طرف سے صاف انکار ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی ہمارا تحقیق کرنے کا کوئی خاص موڈ نہیں ہورہا ہے اور دوسرا آپ کو اندر کی بات بتاؤں، تم لوگوں کی مدد کر کر کے اور فضول میں دنیا کا چاچا بن کر ہم ریسرچ کے قابل رہے بھی نہیں ہیں۔ اب شاباش ہماری طرف مت دیکھو اور کرونا کا حل خود نکالو۔ لیکن اس سے پہلے سب بولو، پاکستان۔ زندہ باد!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply