شوق کتب بینی اور محلہ لائبریری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب سے چند دہائیاں پہلے تک کراچی کے ہر محلے اور اکثر گلی کے نکڑ پر ایک دو لائبریری ضرور ہوا کرتی تھیں جہاں سے ہر موضوع پر چار آنے یا آٹھ آنے روز کرایہ پر عمدہ اور معلوماتی کتب آسانی سے دستیاب ہوجاتی تھیں۔ میرا بچپن ناظم آباد کے بلاک پانچ میں گزرا۔ ناظم آباد متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کی بستی تھی جہاں ہر گلی اور ہر محلے میں علم و ہنر سے متعلق بڑی قد آور شخصیات رہتی تھیں معاشرے میں کتاب اور لائبریری کی اپنی ایک اہمیت تھی۔

ناظم آباد کی ”معیز لائبریری“ اور ”رحمان لائبریری“ اب تک مجھے یاد ہیں۔ جہاں سے میرے مرحوم جاوید بھائی مختلف کہانی کتابیں لاتے کبھی ان کے ہاتھ میں عمرو عیار کی سرگزشت ہوتی۔ کبھی لیل و نہار اور کبھی تعلیم و تربیت۔ خود پڑھنے کے بعد مجھے پکڑا دیتے میں بے دلی سے ان کو پڑھتا ضرور لیکن کوئی خاص رغبت نہیں ہوتی۔

شاید سنہ پینسٹھ کے کسی مہینے میں ہم لوگ فیڈرل ایریا کی ایک نئی آبادی دستگیر سوسائٹی منتقل ہوگئے وہاں بھی ناظم آباد ہی کی طرح متوسط طبقے کے پڑھے لکھے اور تہذیب یافتہ افراد بستے تھے۔ کئی لائبریریز اور کتب خانے بھی تھے وہیں ایک بہت اچھی لائبریری ”مسرور لائبریری“ تھی۔ یہیں سے مجھے کتب بینی کا چسکا پڑا اور کتاب میری زندگی کا حصہ بنی۔ ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے ان کتب خانوں کا جن کی بدولت عوام میں کتابیں عام ہوئیں اور شوق کتب بینی کو فروغ ملا۔ جہاں سے مرد۔ خواتین اور بچوں کو آسانی سے ان کے ذوق کے مطابق کتابیں پڑھنے کو مل جاتیں۔

ان محلے اور گلی کے نکڑ پر قائم لائبریریوں اور یہاں سے حاصل کردہ کتابوں کا ایک بڑا احسان یہ ہوا کہ ان کی وجہ سے ہمیں اپنے معاشرے اور اقدار کو سمجھنے کا موقع ملا اور ہم اپنی تہذیب و تاریخ سے بڑی حد تک جڑے بھی رہے۔ ان لائبریریوں کے علاوہ بھی ان دنوں تقریباً ہر اوسط درجے کے گھانے میں کتابیں اور رسائل ضرور نظر آتے تھے اور کتاب ہر گھر کا ایک لازمی حصہ تھی۔

میرا تعلق بھی ایک ایسے ہی گھرانے سے تھا۔ جہاں علم و ادب سے گھر کے ہر فرد کو لگاؤ تھا۔ میں نے بچپن سے یہی دیکھا کہ گھر کے ہر فرد کے ہاتھ میں اس کی پسند اور دلچسپی کی کوئی نہ کوئی کتاب یا رسالہ ضرور ہوتا۔

والد مرحوم جماعت اسلامی کے بانی اراکین میں سے تھے لہذا ”ترجمان القرآن“ اور جماعت کے کئی دوسرے جریدے گھر پر پابندی سے آتے تھے۔ کلام اقبال پر ابا کو بہت دسترس تھی۔ وہ علامہ کے اردو اور فارسی کلام بہت لہک کر پڑھا کرتے تھے ”تیز ترک گامزن منزل ما دور نیست“ اور ”رازی ہو کہ رومی ہو عرفی ہو غزالی ہو۔ کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی“ ایک وجد کے عالم میں باآواز بلند پڑھتے۔ اور ہم سب کو اس کا مطلب بھی بتاتے۔

والد مرحوم اردو اور انگریزی کے علاوہ فارسی پر مکمل دسترس اور عبور رکھتے تھے۔ ان کی تحریر اکثر ”خط شکستہ“ میں ہوتی جو ایک زمانے میں اہل علم حضرات کی پہچان تھی۔ آجکی نسل تو یہ تحریر پڑھ ہی نہی پائے گی۔ پڑھے لکھے اور پرانی قدروں کے حامل گھرانوں میں زبان کا خاص خیال رکھا جاتا تھا اور بزرگ نظر رکھتے کہ بچے کیا پڑھ رہے ہیں اور کیسی زبان بولتے ہیں۔

اماں کے علمی ذوق کے کیا کہنے ان کو شاہنامہ اسلام کے علاوہ رضیہ بٹ، نسیم حجازی، اے آر خاتون، منٹو، عصمت چغتائی، مجاز، اور جذبی کو پڑھتے دیکھا۔ ابن صفی کی جاسوسی دنیا بھی شوق سے پڑھتیں۔ اس کے علاوہ گھر میں آنے والے اخبار کا بھی مطالعہ کرتیں۔ اماں نے محلے کی لائبریری کی تمام کتب پڑھ ڈالیں تھیں ہم روز ان کے لئے لائبریری سے کتابیں لاتے لیکن جو کتاب لاتے اماں کہتیں یہ تو ہم پڑھ چکے ہیں اور ہم پھر دوسری کتاب لینے چلے جاتے۔

اس طرح کئی چکر لگ جاتے۔ زچ آکر لائبریری والا اپنا رجسٹر ہی گھر بھجوا دیتا کہ اماں کو دکھا دو کہ خود دیکھ لیں کون سی کتاب نہیں پڑھی وہ منگوالیں۔ اماں مثنوی زہر عشق، مثنوی گل بکاؤلی اور نجانے کیا کیا یاد کیے ہوئے تھیں۔ مثنوی زہر عشق کا مشہور مصرعہ ”جس محلے میں تھا ہمارا گھر، وہیں رہتا تھا ایک سوداگر“ پہلی مرتبہ انہی کی زبانی سنا تھا۔ شعر بھی بے تحاشا یاد تھے اور ہر موقع پر کوئی نہ کوئی شعر جڑ دیتیں۔ اب سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ ادبی ذوق ان گھریلو خواتین کا تھا جنہوں نے بمشکل چند جماعتیں ہی پڑھی ہوں گی۔

بڑے بھائی مرحوم آفاق احمد صحافت سے منسلک تھے۔ وہ ریڈیو پر ڈرامے بھی کرتے لیکن ابا سے چھپ کر۔ ابا پرانی قدروں کے پاسدار اس قسم کے شوق ان کے نزدیک محض وقت کی بربادی تھے۔ اس زمانے میں ریڈیو پر اسٹوڈیو نمبر نو سے بہت اعلی کھیل پیش کئیے جاتے۔ بھائی صاحب اکثر ان کا حصہ ہوتے۔ مجھے آج بھی ان کا ایک ڈرامہ ”جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں“ ہلکا سا یاد جو شاید آغا ناصر مرحوم کا لکھا تھا۔ ان دنوں ڈرامے ڈائرکٹ آن ایر ہوتے اور کھیل کے آخر میں صدا کاروں کے نام بھی نشر ہوتے۔

جس دن ان کا ڈرامہ ہوتا ہم سب سنتے لیکن ہمیں ان کی یہ ہدایت تھی کہ ڈرامہ ختم ہوتے ہی ریڈیو کی آواز کم کر دیں یا اسے بند کردیا جائے کہ کہیں ابا ان کا نام نہ سن لیں۔ بھائی صاحب صحافی تھے۔ اخباری ملازمت کی وجہ سے ہمارے گھر ان کے اپنے اخبار کے علاوہ روزآنہ کئی اور اخبارات بھی آتے۔ اس کے علاوہ رات کو جب وہ واپس گھر آتے تو کئی ایوننگ پیپرز جیسے لیڈر۔ ڈیلی نیوز۔ اور اردو روزنامے بھی ساتھ لاتے۔ بھائی صاحب کا رجحان سوشلزم کی طرف تھا لہذا گھر میں اشتراکی ادب بھی دیکھا۔ کارل مارکس، چیخوف اور ٹالسٹائی کے علاوہ خلیل جبران وغیرہ کی تصانیف گھر میں نظر آتیں۔

دوسرے بھائی اقبال فیصل صاحب پروفیشنل آرٹسٹ تھے ان کی اپنی دنیا تھی ان کی وجہ سے صادقین، پکاسو، مائیکل انجیلو، چغتائی کے ناموں سے ہمارے کان آشنا ہوئے۔ بھائی صاحب کے پاس مختلف فنکاروں کی سوانح اور تصاویر کا ذخیرہ تھا اس کے علاوہ ان کی اپنی بنائی ہوئی پینٹنگ اور آئل کلر گھر میں جابجا بکھرے نظر آتے ان رنگوں کی بو اب تک ناک میں محسوس ہوتی ہے۔ بھائی صاحب کافی عرصہ عظیم آرٹسٹ صادقین کے ساتھ ان کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے رہے۔

آج بھی کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں صادقین صاحب کی بہت سی نادر پینٹنگز آویزاں ہیں جن کی تخلیق میں میرے مرحوم بھائی کی معاونت بھی شامل ہے۔ بھائی کو صادقین صاحب سے ایک عقیدت تھی ان کے ساتھ کام کرنے کو وہ ایک اعزاز سمجھتے۔ بھائی کے تجریدی آرٹ اور خطاطی میں صادقین مرحوم کا رنگ جھلکتا ہے۔ ان کی قرآنی آیات پر مشتمل کیلی گرافی اور تجریری آرٹ میں بنائی گئی نیم عریاں تصاویر بھی گھر میں جا بجا نظر آتیں جن کو وہ ابا سے چھپا کر بناتے اور رکھتے لیکن جب کبھی ابا کی نظر ان تصاویر پر پڑجاتی تو وہ نہایت ناگواری سے استغفراللہ کہ کر وہاں سے چلے جاتے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *