تحقیقاتی رپورٹ ایف آئی اے کے اُن لوگوں نے لکھی ہے جنہیں مارکیٹ کا پتا ہی نہیں: جہانگیر ترین


پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین نے کہا ہےکہ میرا نام میڈیا میں زیادہ فلیش ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے سارے لوگ میرے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ چینی کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ ان لوگوں نے لکھی ہے۔ جنہیں مارکیٹ کا پتا ہی نہیں ہے۔ اس رپورٹ کی کوئی چیز میرے اوپر نہیں آ رہی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر خان ترین نے کہا کہ ملک میں چینی سالانہ کھپت سے زیادہ تھی۔ ای سی سی نے ستمبر 2018 میں ایکسپورٹ کی اجازت دی اور پنجاب حکومت نے 3 ارب کی سبسڈی دی۔ 3 ارب کی سبسڈی کے بدلے کم از کم 20 کروڑ ڈالر کا زر مبادلہ پاکستان آیا۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کو پاکستان میں سالانہ 100 ارب کی سبسڈی دی جاتی ہے۔

جہانگیر خان ترین کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی رپورٹ لکھنے والے لوگ ایف آئی اے اور دیگر اداروں کے ہیں جنہیں مارکیٹ کا پتا ہی نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں اُنہوں نے ایک ٹیبل بناتے ہوئے صرف یہ لکھ دیا ہے کہ ان لوگوں نے سبسڈی حاصل کی ۔ میرا نام میڈیا میں زیادہ فلیش ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے سارے لوگ میرے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی کی رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ پچھلے پانچ سال میں چینی پر ربیٹ دیا گیا ۔ اس رپورٹ میں ن لیگ کی حکومت کا بھی ذکر ہے۔ ن لیگ کی حکومت میں بھی ربیٹ دیا گیا۔ میں نے ن لیگ کی حکومت میں ڈھائی ارب کا ربیٹ لیا جبکہ اپنی حکومت میں 56 کروڑ کا ربیٹ لیا۔ میں نے پچھلے پانچ سال میں صرف ٹیکس کی مد میں 23 ارب روپیہ حکومت پاکستان کو ٹیکس دیا ہے۔ جتنے میرے بزنس کا سائز ہے اور جتنا میں ٹیکس دیتا ہوں اُس حساب سے یہ کچھ نہیں ہے۔ یہ پرافٹ نہیں ہوتا کیونکہ باہر چینی سستی بیچنی پڑتی ہے کیونکہ اس زمانے میں دنیا کی مارکیٹ ڈاؤن تھی اور ڈالر 104 روپے میں رکا ہوا تھا ۔ تو ربیٹ دیا جاتا ہے کہ آپ کو ایکسپورٹ قیمت کو مقامی مارکیٹ میں میچ کر دیں اس میں کوئی ایکسٹرا پرافٹ نہیں ہوتا۔

انہوں نےکہا کہ ایف آئی اے نے نہ مجھ سے اور نہ ہی شوگر ملز ایسوسی ایشن سے کوئی موقف لیا۔ ‏چینی وہ واحد چیز نہیں جس پر حکومت سبسڈی دیتی ہے۔ نون لیگ کے دور میں گندم پر فی ٹن 150 ڈالر تک سبسڈی دی گئی۔ ماضی میں گنے کی زیادہ پیداوار ہونے کی وجہ سے ضرورت سے کئی گنا زیادہ چینی بنی جس کو ایکسپورٹ کرنے کے علاوہ چارہ نہیں تھا۔ اس لئے چینی پر سبسڈی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت آنے سے قبل کسان کو سوائے میری ملز اور شاہ تاج مل کے کوئی گنے کا پورا ریٹ نہیں دیتا تھا۔ پورا ریٹ دلانے کے لئے ضروری تھا کہ پرانا سٹاک ختم کیا جائے جس لئے ایکسپورٹ ضروری تھی

Facebook Comments HS