صندوقچی میں رکھے دکھ سکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب گئے دن کی بات لگتی تھی کہ بھرے پرے محلے میں سکھ چین سے زندگی گزرتی تھی۔ خوشی کے ہر تہوار میں رنگ جمتا تھا۔ شادی بیاہ میں سنگیت ایک آنگن سے سنائی دیتا تو لگتا ڈھولک کے تھاپ دوسرے گھر سے اٹھ رہی ہو۔ تہوار کسی بھی مذہب کا ہو خوشی کی چاشنی پورا محلہ محسوس کرتا۔ کسی کے گھر موت کے فرشتے کا گزر ہوتا تو سفید چادر پڑوسیوں کے گھر بچھ جاتی۔ ایک دوسرے کے گھروں کی خیر خبر سے زندگی سہل بنی رہتی۔ سارا محلہ ایک ہی خاندان لگتا۔ لڑکے بالے نگاہیں نیچے کر کے گزرتے۔ لڑکیوں کو عزت سے دیدی یا بہن کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔

پھر وقت نے ایک نئی کروٹ لی۔ پرانے رہائشیوں کی جگہ اب بہت سے پردیسی آن بسے تھے۔ حالات چند برسوں میں ہی پہلے جیسے نہ رہے تھے۔ نئے باسیوں نے نفرتوں کی بوائی بہت مہارت سے کی۔ کچھ ہی برس میں تناور درختوں کی شاخوں پر نفرت کے پھل نمودار ہو گئے۔ ذرا ذرا سی بات پر مذہب اور دھرم کے جھگڑے معمول بنتے جا رہے تھے۔ ایک دوسرے کو سلام اور رام رام کہنے والے ایک دوجے سے منہ پھیرے جاتے تھے۔ اب بچوں کے ہاتھ رنگ، پٹاخوں اور مٹھائی سے خالی دکھتے تھے۔ جوانوں کے دماغ مذہبی تنفر سے بھر گئے تھے۔

یہ کہانی ایک محلے کی نہیں، پورے ملک کی تھی۔ مذہب کے نام پر سیاست عروج پر تھی۔ دنگے فسادات گلی محلوں تک ان پہنچے تھے۔ نفرتوں کی آگ سے لوگ کے گھر جل رہے تھے۔ خون سے گلیاں دھو دی گئی تھیں۔ بھگوان اور اللہ کو ماننے والوں نے شیطان اور راون کا روپ دھار لیا تھا۔ ان کو دیکھ کر لگتا ہی نہ تھا کہ انسانیت کے لفظ سے بھی آگاہی رکھتے ہیں۔ لوٹ مار، جلاؤ گھیراؤ کے ساتھ ساتھ عورتوں کی چیخیں پر نہ زمین لرزتی تھی نہ آسماں پھٹتا تھا۔

کپیل بھی اسی محلے کا رہائشی تھا۔ دل کا بھلا مانس اور دکھنے میں خوبرو جوان، گئے دنوں میں کسی کے گھر کوئی آفت ان پڑے تو کپیل سب سے پہلا رضاکار ہوتا۔ اسے اب بھی ان عداوتوں سے کچھ لینا دینا نہ تھا۔ اپنے گھر میں سہما بیٹھا کپیل اب کسی کی آہ پر لبیک نہ کہتا۔ لیکن سہما بیٹھنے والوں کو بھی آگ معاف نہیں کرتی۔ ایک دن اسی آگ کا ایندھن اس کا گھر بھی بن گیا۔ گھر کے ساتھ ساتھ اس کے گھر والے بھی خاک ہو گئے۔

اسے اپنے ماتا، پتا کی ارتھیوں کو شمشان گھاٹ لے جانے کی ضرورت ہی نہ پڑی کیونکہ بلوائیوں نے انہیں زندہ جلا کر اس کے مذہبی فریضے کو بہت خوش اسلوبی سے انجام دے ڈالا تھا۔ گھر کے نام پر اب خاک سے لپٹی ہوئی دیواریں باقی بچیں تھیں۔ محلے بھر کا غمخوار گھنٹوں سکتے کے عالم میں بیٹھا رہتا۔ کبھی اپنے بال نوچتا، کبھی زور زور سے چیختا اور کبھی ہنستا ہی چلا جاتا۔ بس اس کی شریک غم یہی کرلاتی آوازیں اور ایک صندوقچی رہ گئی تھی۔ جس کو وہ اپنے سینے سے لگائے بیٹھا رہتا تھا۔

اس صندوقچی میں گھر کے جلنے کے بعد کی ایک داستان پڑی تھی۔ کپیل کے لیے خود بھی سمجھنا دشوار تھا کہ اس میں سے انتقام کے قہقہے سنائے دیتے ہیں یا دکھ کی سسکیاں۔ صندوقچی میں بیتے ہوئے لمحوں کی مٹھاس بھی تھی اور تلخ یادوں کی کڑواہٹ بھی۔ وہ دن میں کئی بار اس میں رکھی چیزوں کو دیکھتا۔ کبھی ہنستا، کبھی روتا اور پھر دیواروں سے سر ٹکرانے لگتا۔

صندوقچی میں ویسے کچھ زیادہ نہیں تھا۔ یہ سب چیزیں کسی ایک ہی ہستی سے جڑی تھیں۔ دائیں جانب رنگوں سے بھری راکھی پڑی تھی۔ اس سے ذرا آگے آسمانی رنگ کی چنری تھی۔ جس پر لگے ستاروں کا رنگ ماند پڑ چکا تھا۔ کٹی ہوئی چوٹی، اوربدن سے نوچی ہوئی قمیض کے چھتھڑے تھے۔ قمییض کے اوپر ٹوٹی ہوئی چوڑیاں خاموشی سے دھری تھیں۔ پھر مٹی سے اٹی وہ چپل تھی جس نے اس کی منہ بولی بہن کے ساتھ وفا نہیں کی تھی۔

ہر چیز کے ساتھ الگ الگ آوازوں کا ملاپ بھی اس صندوقچی کا حصہ تھا۔ راکھی کے ساتھ قہقہے اور دعائیں سنائیں دیتی تھیں۔ بالوں کے گچھوں کے ساتھ مدد کی پکار تھی۔ ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کے ساتھ جوڑے ہاتھوں کی التجایں رکھی تھیں۔ قمیض کے چیتھتڑوں میں سے نہ کر ویرا، نہ کر کپیل ویرا وے تینوں رب دی سوں مینوں چھڈ دے ویرا کی نہ رکنے والی آوازیں اور ان سب پر جمی انتقام کے شعلوں سے جنمی ایک نہ ختم ہونے والے دکھ کی راکھ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *