کراچی میں غیر مسلموں کو امداد دینے سے انکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بھوک اور دکھ کا کوئی رنگ نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ کسی کو دکھائے جاسکتے ہیں۔ لیکن وبائیں بہت کچھ کر گزرتی ہیں۔ اور لوگ اپنی بھوک اور دکھ دکھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ کورونا نے وبائی صورت اختیار کی اورسپر پاورز سمیت پوری دنیا پرخوف اور موت کے بادل چھا گئے۔ ایسے میں پاکستان جیسے غریب ترین ملکوں میں کچھ بھی کھونے کو نہیں۔ کیونکہ ایسے ملکوں میں بھوک اور دکھ برسوں سے نہیں، صدیوں سے اپنے پنجے گاڑے بیٹھے ہیں۔ بھوک اور دکھ جھیلنے والے روتے اور بلکتے ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ کچھ اچھا ہوتا ہی نہیں ہے۔ بھوک وہ ہے جو جنگل کے بادشاہ شیر کو سرکس کا شیر بنا دیتی ہے۔ جب شیر اشاروں پر ناچ سکتا ہے تو پھر انسان کیا شے ہے۔ لیو ٹالسٹائی نے 1828 میں اپنی کتاب WHAT THEN MUST WE DO میں بھوک پر تفصیل سے لکھا ہے کہ غذا یا کھانا وہ چیز ہے جس کے ذریعے انسان کو کیسے غلام بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ جب مصر میں قحط پڑا تو کیسے فرعون نے اپنے وزیر یوسف کے ذریعے صرف گندم کے عوض لوگوں کو اپنا غلام بنالیا۔ مصر کے لوگوں نے پہلے پیسوں، زیورات اور دیگر اشیا کے عوض گندم خریدی، پھر زمین بھی فرعون کو دے دی۔ اور اس کے بعد خود کو بھی فرعون کے حوالے کردیا۔

ٹالسٹائی کتاب میں لکھتا ہے کہ جب وہ گاؤں چھوڑ کر ماسکو میں رہنے آیا اور وہاں غربت دیکھی تو وہ دکھی ہوا۔ ایک مقامی باشندے سے جب اس نے اس بارے میں بات کی تو اسے جو جواب ملا وہ ملاحضہ کیجئے ”بڑے شہروں میں یہ ایک قدرتی بات ہے۔ تمہاری دیہی ذہنیت نے ہی تمہیں یہ دیکھنے پر مجبور کیا ہے۔ حالات ہمیشہ سے ایسے ہی رہے ہیں، آئندہ بھی یوں ہی رہیں گے اور ہمیشہ ایسے ہی رہنے بھی چاہئیں۔ ہماری تہذیب کی یہ نا بدلنے والے حالات ہیں۔ لندن میں تو اس سے بھی خراب حالات ہیں۔ اس لئے ان میں کوئی برائی نہیں ہے اور ان سے کسی کو بھی دکھی نہیں ہونا چاہیے۔ “

جب فرانس میں روٹی نہیں مل رہی تھی اور لوگ احتجاج کر رہے تھے تو فرانسیسی ملکہ میری انٹونیٹ نے ایک مشہور زمانہ جملہ ”اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک کھاؤ“ کہا تھا۔ وہ جملہ آج بھی لوگوں کی کانوں میں گونجتا ہے۔

ہمارے یہاں چونکہ ابھی وہ حالات نہیں لیکن کورونا وبا کے دوران ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے۔ جس کی وجہ سے پسے ہوئے طبقے کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں۔ ہر طرف بھوک ہی بھوک ہے۔ مایوسی ہی مایوسی ہے۔

پھر سونے پر سہاگا بھوک کو مذہب میں بھی بانٹ دیا گیا۔ کیا بھوک کا کوئی مذہب ہوتا ہے۔ کیا بھوک کا کوئی رنگ اور نسل بھی ہے، کیا بھوک کی کوئی جنس ہے۔ یا بھوک صرف انسانوں کو ہی لگتی باقی جانداروں کو نہیں۔

کچھ دن پہلے کی بات ہے جب لیاری کے باسی ہندو برادری کی خواتین راشن لینے سیلانی ویلفئر کے رضاکاروں کے پاس پہنچیں۔ وہ اپنے کپڑوں کے باعث دور ہی سے پہچانی گئیں۔ راشن کی تقسیم کے وقت رش لگا ہوا تھا۔ رضاکاروں نے گھگھرا چولی پہنے خواتین سے آتے ہی کہا کہ ”یہ راشن ہندوؤں کے لئے نہیں ہے۔ “ جس پر خواتین جو اپنے ہمراہ بچوں کو بھی لائی تھیں مایوس ہوکر لوٹ گئیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ کراچی کے علاقے کورنگی میں بھی پیش آیا جہاں ڈبلیو بائیس علاقہ کی رہائشی مسیحی برادری کو بھی سیلانی ویلفئر کی طرف سے راشن تقسیم کے دوران کچھ بھی دینے سے انکار کردیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ایک ایسی وڈیو بھی گردش کرتی دکھائی دی جس کے مطابق کراچی کے علاقے دہلی کالونی کے مکینوں نے احمدیوں کی امداد لینے سے انکار کرتے ہوئے انہیں واپس جانے پر مجبور کردیا۔

میں نے فیس بک پر لیاری کی ہندو برادری کو راشن نہ دینے پر پوسٹ ڈالی تو اس پر کمنٹ آنے لگے۔ اکثریت نے مذہب کی بنیاد پر راشن کی تقسیم کو غلط قرار دیا۔ کمنٹ کرنے والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کا کہنا تھا کہ ”راشن زکوۃ سے لیا گیا ہے اس لئے وہ صرف مسلمانوں کے لئے ہے، کسی غیر مسلم کو نہیں دیا جاسکتا۔ “

کچھ نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ ”جب جان پر بن آئے تو زندگیوں کو بچانا چاہیے۔ مذہب کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے۔ “

کچھ تبصرہ نگار ایسے بھی تھے جن کا کہنا تھا کہ ”کیا مسلمان امریکہ سمیت دیگر غیرمسلم ممالک سے ملنے والی امداد نہیں لیتے؟ “

ایک شخص نے یہاں تک لکھ دیا کہ ”میں سمجھتا ہوں اگر پاکستان کی ہندو برادری انڈیا میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتی تو آج ان کے بارے میں عوامی رائے کافی مختلف ہوسکتی تھی۔ لیکن انہوں نے خاموش رہ کر یہ تاثر دیا کہ جیسے وہ اس قانون سے خوش ہیں جس میں انہیں انڈیا کی حکومت نے واپس لینے کا قانون پاس کیا ہے۔ فیصلہ تو وہ خود کرچکے ہیں کسی اور کو الزام کیا دینا۔ “

سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی۔ ساتھ ہی مجھے موبائل فون پر کال اور میسجز بھی آنے لگے۔ جس میں کسی نے ثبوت مانگے۔ کسی نے لیاری کی ہندو برادری کے متعلقہ شخص کا فون نمبر مانگا۔ سوالات کے جواب دیے۔ ثبوت دیے اور متعلقہ شخص کا نمبر دیا۔ کچھ ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے بدتمیزی کی، گالیاں دیں۔ اور اسلام کے خلاف سازش کا الزام بھی عائد کیا۔ ۔ ”کافروں کو راشن نہیں دیا جاتا“ وغیرہ وغیرہ۔

یہاں ایک طرف اقلیتوں کو راشن دینے سے انکار کیا گیا وہیں جب امداد دی گئی تو عجیب بے حسی بھی نظر آئی۔ ایسے بدتمیز لوگ بھی ہیں جو ایک صابن، سینیٹائزر یا پھر ایک تھیلی چاول کی تھمانے کے بعد تصاویر بنوا کر سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں۔

مجھے میرے گاؤں کے دوستوں اور کراچی میں رہنے والی اپنی برادری کے افراد نے راشن کی دستیابی کے لئے کوششیں کرنے کو کہا۔ اس سلسلے میں بہت سوں کو فون کیے ، میسیجز کیے ۔ جس میں ادارے اور افراد شامل ہیں، کہیں کہیں سے امداد دینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ لیکن ابھی تک دلی ہنوز دور است۔

پھر سندھ حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں ہر ضلع کے متاثرین میں راشن فراہمی کی مد میں دو کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا گیا۔ اب ذرا غور کریں اتنی رقم سے کیسے، کتنا اور کتنے افراد میں راشن تقسیم ہو سکے گا۔ صرف ضلع ٹھٹھہ کو ہی لے لیجیے دوہزار سترہ کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی کل آبادی نو لاکھ نواسی ہزار آٹھ سو سترہ ہے۔ اب ان میں دو کروڑ روپے تقسیم کرکے دیکھیں تو فی کس بیس روپے کا ہی راشن میسر آسکے گا۔ اور اگر یہ روپیا چلتے چلتے گھستا گیا تو اندازہ کرلیں۔ لوگوں کو کیا ملنا ہے۔

ایک یونین کونسلر سے میری بات ہوئی، میں نے پوچھا سندھ حکومت کی طرف سے دی گئی رقم سے تم نے کتنے لوگوں کو راشن فراہم کیا ہے؟ جس پر انہوں نے کہا ”ضلعی انتظامیہ کی طرف سے انیس سو روپے دیے جارہے ہیں۔ وہ اس رقم سے کیا خرید سکتا ہے۔ “

جب میں اپنے ملک پاکستان کی صورتحال پر بات کرتا ہوں، تب میں پڑوسی ملک ایران اور ترکی سمیت دنیا کے کئی ممالک میں راشن تقسیم کرنے کی یوٹیوب پر چلنے والی وڈیوز بھی دیکھتا ہوں۔ جہاں سلیقے اور کسی کی خودداری کو ٹھیس پہنچائے بغیر راشن دیا جارہا ہے۔

وطن عزیز میں تو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لے کر احساس پروگرام یا ان سے پہلے کے فلاحی پروگرامز تک قوم کو صرف گداگر بنانا سکھایا ہے۔ اب موجودہ حالات میں جو خوددار بچ گئے ہیں انہیں بھی گداگری کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ لیکن صورتحال یہاں تک بس نہیں کرے گی، فرعون نے تو مصر کے لوگوں کو غلام بنالیا تھا۔ لیکن ہمیشہ ایسا ہو ضروری تو نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حالات انارکی کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔

جب خوف پر قابو پانا آجائے تو پھر انسان کچھ بھی کر گزرتا ہے۔ سب کو پتہ ہے روم بڑی سلطنت تھی ایسی سلطنت میں اسپارٹیکس نے جنم لیا اور غلاموں کی پہلی بغاوت کی قیادت کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *