یہ کرونا کیا چیز ہے؟
تب سے اس نے دنیا پر حملہ کیا ہے جیسے دنیا کی چلتی گاڑی کا پہیا رک سا گیا ہے۔ اور وہ کام جو ممکنات میں نہیں تھے اس نے بغیر چُٹکی بجاے کردیئے۔ ہم تبدیلی کے بارے میں پڑھا کرتے تھے۔ لیکن اس نے کوئی پیشگی اطلاع دیے بغیر دنیا کو تبدیل ہونے کا حکم سنا دیا۔ جہاں تک اس کو ماننے کی بات ہے ہماری رائے ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ کوئی اس سے ڈرنے کی بات کرتا ہے اور کوئی کہتا ہے کہ نہیں اس سے بچنے کے لئے احتیاطیں اپناؤ۔
ایک بڑی اکثریت ایسی ہے جو اس کو مانتے کے لئے تیار نہیں۔ کہتے ہیں آللہ تعالی جو چاہتے ہیں وہی ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیت اورسوشل میڈیا استعمال کرنے والے احتیاطیں اور خوف دونوں ایک ساتھ بیچ رہے ہیں۔ میڈیا کے پاس بہتر کرنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن سنسنی پھیلانے کے علاوہ کچھ اور مشغلہ ہمیں پسند ہی نہیں ہے۔ اس کو کس طرح روکا جاسکتا تھا اس کی ہمارے پاس کوئی حکمت تھی ہی نہیں۔
اس وائرس کے بارے میں بولتے ہیں کہ یہ ایک بے جان شے ہے اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے جب تک اس کو کوئی جاندار شے نہ ملے اپنی حیثیت منوانے کے لئے اور یہ پہلس وائرس نہیں ہے جو اس دنیا میں آیا ہے۔ اس سے پہلے بھی اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے دوسرے وائرس بھی اس زمین پر اپنی حاضریاں لگا چکے ہیں۔ جیسے سارس، مرس ایبولا وغیرہ۔
کوڈ۔ 19۔ جو کہ گزشتہ دسمبر کے وسط میں چین کے ایک شہر ووہان میں پہلی بار نمودار ہوا۔ شروع شروع میں اس کو نوول کرونا وائرس کہا جانے لگا، کوئی اس کو ووہان وائرس کہتا تھا اور کچھ اس کو سارس کو وی 2 بھی کہتے تھے۔ امریکی صدر نے اس کو چائنا وائرس تک کہہ دیا۔ بعد میں اس کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیش نے کوڈ 19 کا نام دیا یہ کرونا وائرس ڈسیز سے لیا گیا ہے۔ چونکہ سال 2019 تھا اس لیے اس کے ساتھ دوہزارانیس کا اضافہ کردیا گیا۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ کسی چمگاڈر سے ہی انسان میں منتقل ہوا ہے۔ لیکن اس کی طبیعت کے بارے میں بہت ساری ابہام پائے جاتے ہیں جیسے لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ جس طرح گرمی کی شدت بڑھ جائے گی تو اس کی شدت میں کمی آئے گی لیکن وہ اس بات کو پوری یقین سے کہنے سے قاصرہیں۔ کیونکہ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ امریکہ کی کچھ ریاستیں ایسی ہیں جو گرم ہیں یہ وہاں اپنی قدم جما چکا ہے یوں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مثالیں بھی موجود ہیں۔
لگتا ہے ان کی اس جیسی خصوصیات کو واضح ہونے میں وقت لگے گا کہ گرمی کا اثراس پر کتنا ہے۔ چونکہ یہ نیا وائرس ہے تو دنیا کے پاس اس کے اعداد شمار نہیں ہیں۔ اس کو سمجھنا مشکل ہے کیونکہ بظاہر تو اس کے کوئی علامات نہیں دکھتے لیکن انسان اس کو لئے گھومتا ہے۔ اگریہ پتا نہیں ہے تو کوارنٹین میں رکھنے کے اور آئسولیشن میں رکھنے کے ایک ہی آصول ہونے چاہیے کیونکہ ایسا نہ کیا گیا تو کسی ایک سے کتنے اوروں کو لگ سکتا ہے اس کا ہمیں اندازہ نہیں ہے۔ یا تو پھر اس کا ایک علاج ہے کہ ہرآدمی کے ٹیسٹ کیے جائیں۔
کیا یہ قدرتی شے ہے قدرت کی کسی بھی ایک نامعلوم مظہرکی وجہ سے یہ پیدا ہوا ہے یا یہ کسی کی سازش ہے۔ اگر نہیں تو یہ ایک انسانی ہاتھ اور دماغ کی ایجاد ہے اوراسکو لیبارٹری میں بنایا گیا ہے۔ یا ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ وائرسوں کے ماہر ویرالوجیسٹ اصل میں اس پر ریسرچ کررہے تھے ان سے کوئی ٖغلطی، بھول چوک ہوگئی ہوگی جس کی وجہ یہ وہاں سے بھاگا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ایسی باتیں بھی کی جارہی ہیں۔ جیسے امریکہ کہتا ہے کہ یہ چین نے بنایا ہے اوروہ چین کی زندہ جانوروں کی مارکیٹ کی بات کو رد کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ ووہان شہر میں موجود ایک بائیوسیفٹی لیبارٹری سے نکلا ہے اور انسانوں پر حملہ آور ہوا ہے۔ جبکہ چین کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ نے بنایا ہے سال 2018 میں امریکہ میں ایک انفلوانزا پھیلا ہے دراصل یہ یہی کروناوائرس ہی تھا جس کو اب چین لا کر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وہ یہ بھی بولتے ہیں کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ووہان شہرمیں ساتواں عالمی فوجی کھیلوں میں شرکت کرنے کے لئے 300 فوجی کھلاڑی آئے تھے یہ وہ اپنے ساتھ لائے ہوں گے ۔ اس کے علاوہ بھی کچھ اورباتین بھی کی جارہی ہیں کہ اس کو ایک بڑی سازش کے تحت بنایا گیا ہے۔ بہت سارے اداروں کی شراکت داری کا ذکر بھی ہے اور اس کی تفصیل بھی دی گی ہے کہ کس طرح اس کو چین لے جاکر چھور دیا گیا ہے۔
حقیقت کیا ہے اور کون سچ بول رہا ہے۔ اور کبھی اس کی سچ ہم تک پہنچ پائے گی۔ یا یہ سب فضول باتیں ہیں یونہی ہوتی رہیں گی اور ہم یوں اپنے اذہان میں خرافات بھرتے رہیں گے۔ کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی واقعہ شاید اب تک ہوا ہوگا اس کے بعد وہاں مختلف سازش اورالزامات کا سلسلہ شروع نہ ہوا ہو۔ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ دنیا کس طرف جائے گی سوشل میڈیا کھولو تو لوگ اپنی اپنی تھیوریاں پیش کرتے ہیں اور کوئی دنیا کی سرمایہ دارانہ نظام کی طرف انگلی اٹھاتا ہے اور کوئی اس کو عالمی طاقتوں کی آپس کی لڑائی اور کوئی اس کو کارپوریٹ دنیا کی چال اور کوئی اس کو اسرایل کا توسیع پسندانہ منصوبہ بتاتا ہے۔
اس حوالے سے کچھ مثبت باتیں بھی کی جاتی ہیں جن کو یقیناً ٖفطرت کی بقا پر کام کرنے والے اچھا سمجھتے ہیں۔ وائرس نے تمام سرحدوں کے قوانین کو یکسر رد کیا اور ان کو توڑ کر بین الاقوامی سیر سپاٹے کر رہا ہے۔ اس کی طبعیت کو لے کر بلوچی میں ایک کہاوت ہے۔ بولتے ہیں اگر کسی کو کوئی منع نہ کر سکے ادھراُدھر گھومنے سے تو کہتے ہیں کہ فلاں شخص، میر کی بکری کا بچہ ہے اس لئے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ یہ وائرس فطرت کی بکری کا بچہ ہے۔ اُسے کوئی منع نہیں کرسکا۔ اس کی دہشت تھی یا اس کا حکم کہ دنیا کے بہت ساری چیزیں بے معنی لگنے لگی ہیں۔ اگرکوئی اچھا کام ہوا ہے تو وہ یہ کہ زندگی کی مشین جو اس تیزی سے چل رہی تھی اس کے پاوں میں اس نے رسی باندھ دی۔ جیسے کوئی بکرا طبعیت کا تیز ہو اور اکثر گھر سے غائب ہو تو اس کے پاوں پر رسی باندھ دیتے ہیں۔ اس نے انسانوں کی زندگی کے پاوں پر رسی باندھ دی ہے۔ مشہور قلمکار وسعت اللہ خان صاحب بولتے ہیں کہ دنیا ضروری مرمت کے لئے بند کردی گئی ہے۔
کاش ایسا ہو کہ دنیا کی رسی کائنات کے اپنے ہاتھ میں ہو یہ جو لوگوں نے ہر چیز کے نام پر کاروبار لگا رکھا ہے یہ سب بند ہوں۔ اس بات کو اگر ہم اسی تناظرمیں مزید بیان کریں توانسانوں کے مقابلے میں جنگلی حیات، سمندری حیات اور پرندے پہلے سے کسی ملک کے ایمبیسی سے ویزا نہیں مانگتے تھے۔ وہ یوں ہی سرحدیں عبور کرتے تھے۔ لیکن اج وہ شکر ادا کررہے ہوں گے کہ کچھ وقت کے لئے انسانوں نے ان کو معاف کیا ہوا ہے۔ وہ شاید آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کررہے ہوں گے ۔ کہہ رہے ہوں گے کہ یہ جو ہمیں چھوڑتے نہیں تھے ہماری کھالوں کے لئے یہ ہمارا پیچھا کرتے تھے ہمیں مارتے تھے اور ہماری کھالوں سے یہ اپنے لئے خوبصورت پوشاک بنا کر مہنگے داموں فروخت کرتے تھے آج ان کو کیا ہوگیا ہے۔ یہ ہمیں مارنے کیوں نہیں آرہے ہیں پیچھا کیوں نہیں کررہے ہیں۔ فضا جو روز بہ روز کثیف ہورہی تھی آج وہ بھی زمین سے پوچھ رہی ہوگی کہ کیا ہوا ان دو پاوں والے اشرف المخلوق کا ان کی فیکٹیریاں کیوں بند ہیں۔ آج کل ان کی طرف سے دھواں کم آنے لگا ہے کیا ہوا ہوگا ان کو، ان کے کارخانے کیوں بند ہیں۔
کیا ہوگا کب تک اس کی مستیاں جاری رہیں گی۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے جس نے اس کو بنایا ہے اچانک اس کے دوائیاں اور ویکسین مارکیٹ میں دھوم مچا دیں۔ یا اگر یہ فطرت کی ہی ایجاد ہے تو کیا چاہتا ہے ہمارا خالق کہیں اس نے یہ محسوس تو نہیں کیا ہے کہ یہ جو کچھ ہماری زمین پر ہورہا تھا یہ سب اس کو پسند نہیں تھا۔ یا ہم جو جنگلی حیات کے ساتھ جو سلوک کررہے ہیں کہیں یہ کسی جانور کی فریاد تو نہیں جس پر فطرت نے ہاں کہہ دی ہو۔
دنیا کے ماہرین اور ڈاکٹر صاحبان یوں ہی اس سے لڑتے رہیں گے۔ کیا دنیا میں اب نیا نظام آنے والا تو نہیں ہے کیونکہ سیکورٹی کے لئے اب جنرلوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ جنرل وائرس کی زبان نہیں سمجھتا ہے لہذا جو دشمن کی زبان سمجھتا ہے ان میں سے نئے جنرل اور ان کی فوج بنائی جائے۔ ان جنرلوں کیا ہوگا کیا اب بھی لوگوں کو اسلحہ کی ضرورت ہوگی دوسروں کو زیر کرنے کے لئے یا دنیا کچھ نئے سبق سیکھ جائے گی۔


