آخری عورت نے اماں حوا بننے سے انکار کیوں کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بہت ترقی کر چکی تھی، وہی ترقی جس کے خواب وہ طاقتور لوگ دیکھتے رہے تھے جن کی دنیا تھی اور جنہوں نے دنیا پر حکومت کی اور کر رہے تھے اور شاید کرتے رہیں گے۔ دنیا بھر کی دولت، وسائل اور طاقت ان خاندانوں کے ہاتھ میں تھی جو نظر نہیں آتے تھے لیکن ہر طرف موجود تھے کسی نہ کسی شکل میں. ان کا وجود محسوس نہیں کیا جاسکتا تھا مگر ہر طرف، ہر عمل میں ان کا دخل تھا، وہی حکمران تھے۔ چند ہزار سیاستدانوں، دنیا بھر میں موجود فوجی جرنیلوں، ان کے اداروں اور لاکھوں سپاہیوں کی رجمنٹ اور بٹالین کے ذریعے سے ساری دنیا پر ان کی حکومت تھی۔ جو وہ سوچتے تھے وہ ہوتا تھا، جو وہ چاہتے تھے وہی ہو جاتا تھا، جو وہ کہتے تھے سنی جاتی تھی، اور جو وہ کرتے تھے وہی کرنا ہوتا تھا۔

ساری دنیا کے سارے ممالک میں جمہوریت تھی، عوام جمہوریت کی ڈگڈگی پر پرانے زمانے کے بندروں سے بھی اچھا ناچ کرتے، وقت پڑنے پر گلی کے کتوں سے بہتر بھونکتے اور ایک دوسرے کو بھنبھوڑ لیتے تھے۔ جمہوری حکومتوں اور ملکوں کے درمیان جنگیں بھی ہوتی رہتی تھیں اور انہی جمہوری ملکوں میں عوام کو اپنی مرضی سے اپنی حکومتیں منتخب کرنے کا اختیار بھی مل گیا تھا۔ انتخابات ہوتے تھے سیاستدانوں کی باریاں لگتی تھیں اور سب کچھ ایک منظم طریقے سے ہوتا تھا، غربت تھی مگر بھوک نہیں تھی۔

اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے ذریعے سے کچھ اس طرح کا انتظام ہوگیا تھا کہ غریب ترین ملکوں میں بھی فاقہ زدگی نہیں تھی۔ باعزت روزگار ہو نہ ہو مگر روٹی مل جاتی تھی۔ بھوک کا خاتمہ ہوچکا تھا حکمران اس کامیابی کو ہی سب سے بڑی کامیابی بنا کر پیش کرتے تھے اور اس کا ڈنکا بجایا جاتا تھا، وہ ذرائع ابلاغ کے تمام ذریعوں سے جو انسانوں کے ذہن بناتے تھے ان کی سوچ کو پابند کرتے اور ان کی آزادی کو قید کرلیتے تھے۔ انسانی تاریخ میں ایسا کبھی بھی نہیں ہوا تھا۔ وہ کہتے تھے دنیا اپنی تاریخ کے بام عروج پر پہنچی ہوئی ہے جہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا ہے، وظیفہ ہر ایک کو ملتا ہے، کھانا ہر ایک کھاتا ہے۔

انسان نے آسمانوں سے آگے کائنات کی ہر سمت میں اپنے فضائی خلائی جہاز بھیج دیے تھے، کئی جگہوں پر انسانوں کے بنائے ہوئے روبوٹ پہنچ کر نہ صرف یہ کہ معلومات جمع کر کے زمین پر پہنچا رہے تھے بلکہ ساتھ ساتھ وسائل کی بھی نشاندہی کر رہے تھے۔ حکمران کائنات پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہے تھے۔ کائنات کی وسعتوں میں انسانوں کے بنائے ہوئے روبوٹ غلاموں کی طرح انسانوں کے احکامات پر عمل کر رہے تھے۔

سب سے عجیب اوردلچسپ بات یہ ہوئی تھی کہ سائنسدانوں نے ایسے روبوٹ بنا لئے تھے جو عام انسانوں سے کہیں زیادہ ذہین تھے اور دنیا کے پیداواری کاموں میں بہت اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ وہ کارخانے چلاتے تھے، کھیت کھلیانوں میں کام کرتے تھے، مویشی سنبھالنا ان کی ذمہ داری تھی، دفتروں میں ان کا اہم کردار تھا، ایئرپورٹ، بندرگاہیں، مواصلاتی نظام، سڑک اور راستے، تعلیمی ادارے غرض یہ کہ تمام تر نظاموں میں روبوٹ ہر طرح سے مصروفِ عمل تھے۔ انسانوں نے اتنے ذہین روبوٹ بنالیے تھے کہ وہ سوچنے سمجھنے کے بعد مسئلوں کو حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے اور اکثر و بیشتر اپنے طور پر ان مسائل کو حل بھی کر لیتے تھے۔

مشینوں کے بے تحاشا استعمال سے انسانوں میں بے روزگاری بڑھی تھی، ساتھ ساتھ دنیا کی آلودگی میں زبردست اضافہ ہوا تھا۔ نت نئی بیماریاں آگئی تھیں، جن سے عام طور پر غریب لوگ ہی متاثر ہوئے تھے۔ انسانوں نے ہی نت نئے وائرس، بیکٹیریا اور پروٹوزوا قسم کی حیاتیاتی جراثیم بنا لیے تھے جو آئے دن دنیا میں بحرانی کیفیت پیدا کرتے رہتے تھے جن کی وجہ سے عوام کی توجہ بٹی رہتی تھی۔ سب سے افسوس کی بات یہ تھی کہ زندگی کے دوسرے نمائندے جنگل، دریا، پہاڑ، ندی، نالے، چشمے، آبشار، گھاس، پودے، پتے، کلیاں، مچھلی، مینڈک، چیونٹی، بھونرا، تتلی، تیتر، کوئل، بندر، بکری، کوا اور دیگر حشرات الارض آہستہ آہستہ ختم ہو رہے تھے۔

سمندر خود پیاسا ہوگیا تھا۔ چند سائنسدانوں کی توجہ دلانے کے باوجود حکومتوں نے سمندر اور سمندری حیات کو بچانے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا تھا، انہیں ایسے سائنسدان مل گئے تھے جنہوں نے عوام کو سمجہادیا تھا کہ دنیا بالکل صحیح چل رہی ہے، طوفان، سیلاب، گرمی، سردی، بارش اور برف سب ٹھیک ہے، دنیا میں یہ ہوتا رہا ہے، ہوتا رہے گا فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ چند ہزار پسماندہ لوگ اگر ہر سال مرتے بھی ہیں تو کیا بڑی بات ہے۔

پھر ایک عجیب بات ہوگئی، نہ جانے کیسے کیونکر ایک روبوٹ آئی کیو 409 میں انسانیت آ گئی۔ اب تک جتنے بھی روبوٹ بنائے گئے تھے ان میں انسانوں جیسی ساری صلاحیتی تھیں وہ سب کچھ کرلیتے تھے۔ سوچنا، سمجھنا، حساب کتاب، تجربے، تجزیہ، منصوبہ بندی وغیرہ وغیرہ مگر ان میں انسانیت کی کوئی بھی بِٹ، چِپ، نِب نہیں ڈالی گئی تھی، ان میں کوئی بھی انسانی جذبہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ افسردہ نہیں ہوتے تھے، انہیں صدمہ نہیں ہوتا تھا، وہ خوش نہیں ہوتے تھے، وہ اُداس نہیں ہوتے تھے، وہ مسکرا نہیں سکتے تھے کسی کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے آنسو نہیں نکلتے تھے نہ ہی خوش ہو کر ان کی آنکھیں چمکتی تھیں نہ چہرہ لال ہوتا تھا۔

وہ تتلی کو اُڑتا دیکھ کر بچے کی طرح ہنستے نہیں تھے اور کسی چڑیا کے یکایک مرجانے پر ان کی آنکھوں سے آنسو نہیں چھلکتے تھے۔ وہ درختوں کے مرجھانے کو اور گلاب کی پتیوں کے بکھر جانے کو بھی ایک میکانکی عمل سمجھتے تھے۔ ان کا دل نہیں دھڑکتا تھا، ان کے ہونٹ نہیں پھڑکتے تھے اور نہ ہی ان کے دماغ سُن ہوتے تھے۔ وہ ہر فیصلہ میکانکی طریقوں سے کرتے اور پھر اس پر عمل بھی ہو جاتا تھا۔

آئی کیو 409 میں نہ جانے کیسے انسانی جذبات ابھر آئے تھے وہ تتلیوں کو دیکھ کر خوش ہوتا، کھلے ہوئے پھولوں کو دیکھ کر مسکراتا اور ان کی خوشبو کو محسوس کرتا۔ اسے دریا کے بہنے کی آواز اچھی لگنی شروع ہوگئی تھی، وہ ابھرتے اور ڈوبتے ہوئے سورج کا انتظار کرنے لگا تھا۔ اسے چاند، چاندنی اور پورے چاند کی رات بپھرتا ہوا سمندر متوجہ کر لیتا تھا۔ آئی کیو 409 نے خود بھی یہ تبدیلی محسوس کی تھی اور خاموشی کے ساتھ اس تبدیلی کے نب کو اپنی سیریز کے 51 روبوٹ میں منتقل کر دیا تھا۔

اس منتقلی کے ساتھ اس نے سارے کے سارے اکیاون کے اکیاون روبوٹ کو ایک دوسرے سے منسلک کردیا تھا۔ یہ کام کچھ اس طرح سے ہوا کہ دنیا بھر کے مردوں، عورتوں، بچوں اور دنیا کے مالک خاندانوں اور ان خاندانوں کی حکمرانی برقرار رکھنے والے ان کے اہل کاروں، نمائندوں، سیاستدانوں، فوجیوں، سائنس دانوں اور اقوام متحدہ کے اداروں کو بھی نہیں پتہ چلا تھا کہ روبوٹ کی ایک نسل کے ایک سلسلے میں، ایک قسم میں انسانیت آگئی ہے۔ انسانیت جیسی بیماری جو بڑھانے سے بڑھتی اور کم کرنے سے کم ہوتی جاتی ہے۔

یہ سارے سپر روبوٹ دنیا بھر میں بہت حساس علاقوں میں تعینات تھے جو دنیا کو چلا رہے تھے۔ یہ چوبیس گھنٹے مصروف رہتے تھے۔ دنیا اور دنیا کے اِردگرد ستاروں سیاروں پر نظر رکھتے اور وقت پڑنے پر خود ہی فیصلہ کرکے مسائل حل کر لیتے تھے۔ اپنے عام فرائض کے ساتھ ساتھ اب وہ اپنے مسائل کے بارے میں بھی فکر مند ہوگئے تھے جن سے انہیں لاعلم رکھا گیا تھا۔ آئی کیو 409 کی نسل کے سارے روبوٹ کے درمیان آپس میں روزانہ گفتگو ہوتی رہتی تھی اوروہ اپنے خیالات سے ایک دوسرے کو آگاہ بھی کرتے رہتے اور انسانوں کی طرح اپنے احساسات کو بیان بھی کرنے لگے تھے۔ کسی بھی روبوٹ نے یہ سوچا نہیں تھا اور نہ سمجھنے کی کوشش کی تھی کہ ایسا کیوں ہوا اور ہو رہا تھا۔

اس دن جاپان کے رات گئے ان کے درمیان یہ بات شروع ہوگئی کہ زمین پر رہنے والے لوگ جو اپنے آپ کو انسان کہتے ہیں ان میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں رہی ہے۔ یہ عجیب بات بھی ہوئی کہ 51 کے 51 روبوٹ اس بات پر مکمل اتفاق رکھتے تھے۔ ان کے پاس معلومات کی کمی نہیں تھی۔ ان کے پاس تاریخی حوالے اتنے ہی پرانے تھے جتنے کہ انسان قدیم تھے۔ ابھی بھی دنیا کے مختلف علاقوں میں چھوٹی بڑی جنگیں ہورہی تھیں اور جنگوں میں انسانوں کو مارنے کے لیے انسان ہی مختلف قسم کے ہتھیار بنارہے تھے، تباہی کے ہتھیار، بربادی کے ہتھیار، جنہیں بیچ کر منافع انہیں خاندانوں کو جا رہا تھا جو ایک طرح سے اس دنیا کے اصل مالک تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *